#اداریہ

عید الفطر پر اپریشن غضب للحق روک دیا گیا

Fahad 01

أج کا اداریہ

پاکستان نے عید الفطر پر اپریشن غضب للحق روک دیا ہے
 وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آپریشن میں وقفے کا فیصلہ عید الفطر کی مناسبت سے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر کیا گیا ہے اور یہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب تک نافذ العمل ہوگا۔
تاہم عطا اللہ تارڑ نے خبردار کیا کہ سرحد پار سے کسی حملے یا دہشتگردی کے واقعے کی صورت میں ’فوراً‘ دوبارہ یہ آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایاہے کہ سوموار کی شام کابل میں ایک ملٹری کیمپ میں موجود ہتھیاروں اور ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا اور وہاں موجود گولہ بارود کے پھٹنے کی وجہ سے دھماکے ہوئے ہیں۔
بدھ کے روز نجی ٹی وی کے ایک ٹالک شو میں جب میزبان نے ان سے کابل میں ہونے والے حالیہ حملے اور افغان طالبان کی جانب سے اس میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے کے متعلق ہوچھا تو ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کابل میں ایک ملٹری کیمپ ہے، جہاں ہتھیار اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے ڈپو بھی موجود ہیں۔ ’ہم نے ان کو ٹارگٹ کیا، اس کی کلپ ابھی بھی موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب بھی ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے مزید دھماکے ہوتے ہیں۔
’جب وہ گولہ بارود پھٹا تو پورے کابل میں لوگوں نے دیکھا اور وہ شعلے کافی دیر تک جلتے رہے
اس ڈپو میں گولہ بارود اور ڈرونز کے علاوہ روسی دور کے سکڈ میزائل بھی ذخیرہ کیے گئے تھے۔
انھوں نے سوال کیا کہ کوئی افغان طالبان سے پوچھے کہ انھوں نے ہتھیاروں کے ڈپو کے بیچ میں منشیات بحالی مرکز کیوں بنایا ہوا تھا؟
طالبان کا مؤقف ھے کہ اس مرکز کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات نہیں ہیں۔
طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ بحالی مرکز پر پاکستانی حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ طالبان حکام کے مطابق اس مرکز میں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔جبکہ کسی دوسرے ذرائع سے اسکی تصدیق نہیں ہوسکی۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں اسسٹنس مشن کے ایک اہلکار نےبتایا کہ اس حملے میں 143 افراد کی ہلاکت ہوئی
دوسری جانب کابل میں کچھ ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے بعد طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر متقی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب افغانستان چین کی ثالثی میں مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔
افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی گذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔ لیکن یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ میں اس وقت بدلی جب گذشتہ مہینے اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے سبب دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان نے بار بار افغان عبوری سیٹ کی توجہ دلانے کی کوشش کی کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے اور اسے افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔
افغان طالبان پاکستان کے اس مؤقف کی تردید کرتے رہے ہیں۔
تاہم فروری میں امام بارگاہ پر ہونے والے حملے اور شدت پسندوں کی دیگر کارروائیوں کے بعد پاکستان نے 27 فروری کو افغانستان میں 22 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے اسی دن افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
گذشتہ تقریباً تین ہفتوں میں فریقین ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کے مسلسل دعوے کرتے آئے ہیں۔
‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق 13 مارچ کو افغان طالبان نے چند ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ میں حملہ کیا، جو اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو ‘سافٹ اور ہارڈ کِل’ ٹیکنالوجی کے ذریعے روکا گیا۔ تام ان ڈرونز کے ملبے کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔
رواں ماہ کے آغاز پر بھی افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرونز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
طالبان کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے تین شہروں میں کئی مقامات پر ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے ’متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔‘ اُن کے مطابق یہ اقدام پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا۔
طالبان حکومت کے پاس چونکہ روایتی فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے انھوں نے فضائی حملوں کی غرض سے دھماکہ خیز ڈرونز کا سہارا لیا تھا جسے بقول ترجمان پاک فوج ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق اس ڈرون اٹیک کے بعد ہی پاک فضائیہ نے کابل اور پکتیا میں نہ صرف گولہ بارود کے ذخیرے تباو کیے بلکہ وہ تربیت گاھیں بھی نشانہ بنیں جہاں ڈرونز بنانے اور خودکش حملہ أوروں کو تربیت دی جارہی تھی۔
وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 15 مارچ کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ افغانستان میں کی گئی اب تک کی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 684 اہلکار ہلاک اور 912 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
اوریہ کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کی 252 چوکیاں تباہ کی ہیں اور 44 پر قبضہ کر لیا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کے مطابق ان کی فوج نے 73 مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
افغانستان کی جانب سے بھی ایسے دعوے تواتر سے سامنے آئے ہیں اور طالبان حکام کی جانب سے پاکستان کے متعدد مقامات پر ڈرون حملے کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس بھی سرحدی جھڑپیں ہوئی تھی، جس کے بعد فریقین نے اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر سرحد پار سے دراندازی اور دھشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ نہ رکا جسکے باعث تنگ أمد بجنگ امد کے مصداق پاکستان کو أپریشن غضب للحق شروع کرناپڑا تھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے