افغان رجیم کے لئے واضح پیغام
تحریر۔۔۔صفدر علی خاں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اب محض سفارتی اختلاف تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں اب ابہام ، مصلحت یا روایتی بیانات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور اسی لئے حالیہ پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس دوٹوک اور غیر مبہم انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے وہ درحقیقت ایک واضح پیغام ہے ۔۔۔اب برداشت کی حد ختم ہو رہی ہے۔۔۔
پاکستان نے گزشتہ چالیس برسوں میں افغانستان کے لیے جو کچھ کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دینا، عالمی دباؤ کے باوجود ان کی میزبانی جاری رکھنا اور ہر مشکل وقت میں افغانستان کے ساتھ کھڑا رہنا۔۔۔ یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو کسی احسان جتانے کے لیے نہیں بلکہ برادرانہ تعلقات کے تحت کیے گئے۔ مگر بدقسمتی سے اس خیر سگالی کا جواب مسلسل دہشتگردی ، بداعتمادی اور الزامات کی صورت میں دیا جاتا رہا ہے اور مسلسل دیا جا رہا ہے لیکن اصل مسئلہ اب واضح ہو چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ناقابل تردید حقیقت ہے جس کے ثبوت بارہا پیش کیے جا چکے ہیں۔ کالعدم تنظیمیں، ان کے تربیتی مراکز اور اسلحہ کے ذخائر۔۔۔ یہ سب کچھ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ محض چند عناصر تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم خطرہ بن چکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بات انتہائی سخت اور واضح انداز میں کہی کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا لہذا اب یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک پالیسی کا اعلان ہے۔ پاکستان کی کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر ہوتی ہیں اور ان کا ہدف صرف وہ عناصر ہوتے ہیں جو پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ کسی نشئیوں کے ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ ایک خطرناک پروپیگنڈہ بھی ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آخر کب تک پاکستان صبر کا مظاہرہ کرتا رہے گا؟۔۔۔کیا ایک خودمختار ریاست اپنی سرحدوں کے پار سے ہونے والے حملوں کو خاموشی سے برداشت کرتی رہے؟ جواب واضح ہے۔۔۔ہرگز نہیں۔اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں۔ اگر افغان طالبان رجیم یا نام نہاد عبوری حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی اور اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکتی، تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے یکطرفہ اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ اس حق کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ یہ پیغام صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ ان تمام عناصر کے لیے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان دباؤ میں آ کر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کے لیے پرعزم ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔۔۔چاہے اس کے لیے کتنے ہی سخت فیصلے کیوں نہ کرنے پڑیں لہذا اب گیند افغانستان کے کورٹ میں ہے۔ یا تو وہ ایک ذمہ دار ہمسایہ ریاست کا کردار ادا کرے اور دہشتگرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، یا پھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ کیونکہ اب پاکستان صرف باتوں پر نہیں، عمل پر یقین رکھتا ہے اور اب پاکستان کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کو خاطر میں نہیں لائے گا۔پاکستانی افواج کی تمام strikes انٹیلی جنس بنیادوں پر ہوتی ہیں اور اپنے ٹارکیڈ سے ایک میٹر بھی ادھر اُدھر نہیں ہوتیں لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ تمام غلط پروپیگنڈہ پر مبنی تشریحات کو جوتے کی نوک پر رکھنا ہو گا۔






