#کالم

ہرمز کی بندش،نقصانات اور معاشی بقا کی جنگ!

Abcag

تحریر : راؤ غلام مصطفی
Email:rgmustafa555@yahoo.com

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ہے۔جو تیس میل پر محیط ہے۔یہ خلیج فارس کو بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔اور عالمی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔روزانہ دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس اس راستے سے گزرتی ہے۔اس کی بندش سے اس کے اثرات سے صرف مشرق وسطی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہو گی۔اسرائیل، امریکہ، ایران جنگ نے مشرق وسطی سمیت پوری دنیا کو ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔جہاں یہ تنازع پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو گا۔ایران چونکہ آبنائے ہرمز پر وسیع اختیار رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے یہ جنگ اب اکنامک سروائیول کی جنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔کیوں کہ عراق،کویت،بحرین، سعودی عرب، قطر اور یو اے ای سے پوری دنیا کو تیل آبنائے ہرمز کے راستے سے جاتا ہے۔تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک اپنا تیل جن ممالک کو فروخت کرتے ہیں۔اس کی ادائیگی وہ پیٹرو ڈالر میں وصول کرتے ہیں۔پھر یہ ممالک ان ڈالر سے امریکہ کی بڑی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اور امریکہ کی معیشت کو استحکام ملتا ہے۔تیل عرب ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔امریکہ کے پاس تو تیل نہیں ہے۔اب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ جو بھی بحری جہاز یہاں سے گزرے گا ایران اس کو نشانہ بنائے گا۔آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اب ہرمز کی حفاظت کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ظاہری بات ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل پیدا کرنے والے ممالک کا تیل یہاں سے گزر کر دنیا تک نہیں پہنچ پائے گا۔تو ان ممالک کو ڈالر کم آئیں گے اور یہ ڈالر امریکہ کی کمپنیوں میں انویسٹ نہیں ہوں گے۔اور امریکہ کی معیشت غیر مستحکم ہونا شروع ہو جائے گی۔اب یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں کہ امریکہ اس جنگ کو جیت کر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کیوں کرنا چاہتا ہے۔اگر ایران آبنائے ہرمز کی بندش نہیں کھولتا تو یقیننا روس کے تیل کی مانگ میں اضافہ ہو گا۔اس صورتحال میں روس اور چائنا اگر مل کر یہ فیصلہ کر لیں کہ جو تیل فروخت ہو گا اس کی ادائیگی یو آن میں لیں گے۔تو امریکہ کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔اب یورپ کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ یہ تنازع پوری دنیا کی معیشت کو کو متاثر کر سکتا ہے۔ یورپ نے امریکہ کی اس جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا یے۔المیہ ہے مسلم ممالک کی قیادت اس بات کو نہیں سمجھ پائی۔مسلم ممالک کی قیادت کو یہ ادراک یے کہ امریکہ ان کے ممالک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔اس کے باوجود ان مسلم ممالک میں امریکی بیسز موجود ہیں۔ان حالات میں مسلم ممالک کی قیادت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کہ وہ ہوش مندانہ فیصلے لیں۔ اور اپنی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔بہرحال اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اب یہ جنگ اکنامک سروائیول کی جنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش پر دنیا کو نقصان کتنا ہو گا۔سب سے پہلا اور فوری اثر تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ چونکہ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے بندش کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتیں چند دنوں میں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں۔ جس سے مہنگائی کا طوفان آ جائے گا۔دوسرا بڑا نقصان عالمی تجارت کو ہوگا۔ آبنائے ہرمز نہ صرف تیل بلکہ دیگر اشیاء کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ اس کی بندش سے بحری جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوگی۔ سپلائی چین ٹوٹ جائے گی۔ اور عالمی معیشت سست روی کا شکار ہو جائے گی۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک جیسے چین، جاپان اور بھارت شدید متاثر ہوں گے۔ کیونکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔تیسرا اثر توانائی کے بحران کی صورت میں سامنے آئے گا۔ یورپ اور دیگر خطے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔لیکن فوری طور پر اتنی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کا متبادل دستیاب نہیں ہوگا۔ اس سے صنعتیں بند ہو سکتی ہیں۔ بجلی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔سیاسی اور عسکری سطح پر بھی اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔ اور کسی بڑے تنازع یا جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس راستے کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں۔ بلکہ ایک عالمی بحران بن سکتی ہے۔ اس سے عالمی معیشت، تجارت، توانائی اور امن سب متاثر ہوں گے۔ اسی لیے عالمی برادری اس گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ کیونکہ اس کی بندش کا نقصان ناقابلِ تصور حد تک بڑا ہو سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو اکثر صرف فوجی یا سیاسی تنازع سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ اکنامک سروائیول (معاشی بقا) بھی ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ خاص طور پر اسلامی انقلاب ایران 1979 کے بعد اس انقلاب کے نتیجے میں ایران نے مغربی اثر و رسوخ کو مسترد کیا۔جبکہ امریکہ نے ایران پر مختلف اقتصادی پابندیاں عائد کرنا شروع کیں۔ وقت کے ساتھ یہ تنازع صرف نظریاتی نہیں رہا بلکہ معاشی بقا کی جنگ بن گیا۔
کیوں کہ امریکہ کے مفادات معاشی نوعیت کے ہیں۔ مشرق وسطیٰ دنیا کے توانائی کے ذخائر کا مرکز ہے۔ اور امریکہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں اس کا اثر و رسوخ برقرار رہے۔ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کا علاقائی اثر امریکہ کے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے خطرہ

ہرمز کی بندش،نقصانات اور معاشی بقا کی جنگ!

بھے کا بھوت 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے