#کالم

بھے کا بھوت 

Untitled 5 1

احساس کےانداز تحریر :۔ جاویدایازخان 

امریکہ ،اسرائیل اور ایران جنگ کے بارۓ میں میرے گذشتہ کالمز”جذبہ اورٹیکنالوجی "اور "امید کی شمع روشن رکھیں” میں  کیے جانے والا تجزیہ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہونے پر مجھے بہت سے قاری حضرات اور دوستوں نےناصرف سراہا ہے بلکہ آئندہ کے بارۓ میں کئی سوال بھی کئے ہیں ۔میری دوستوں اور چاہنے والوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ میں نہ تو کوئی دفاعی تجزیہ نگار ہوں اور نہ ہی انٹرنیشنل معاملات کاماہر ہوں اس لیے میں تو صرف تاریخی حقائق کے تناظر میں اپنی راۓ دیتا ہوں جو اکثر درست ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ تاریخ ہوتی ہی سبق حاصل کرنے اور سیکھنے کے لیے لکھی اورمحفوظ کی جاتی ہے ۔کہتے ہیں کہ تاریخ کے فیصلے درست ہی ہوتے ہیں جیسے دو اور دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں ۔البتہ کبھی کبھی تاریخ بدل جاتی ہے اور سوچوں کے رخ بھی سمت بد ل لیتے ہیں ۔میرے اکثر قاری حضرات کا سوال یہ ہے کہ آپ کو کیسے یہ اندازہ تھا کہ ٹیکنالوجی بغیر جذبے کے ہمیشہ ہار جاتی ہے ؟ اور جذبہ اگر ٹیکنالوجی سے لیس ہو تو کیوں ہمیشہ جیت جاتا ہے ؟ امریکہ جیسی طاقتور ترین فوج اور ٹیکنالوجی ایران کے سامنے بے بس کیوں نظر آرہی ہے ؟ جنگ کا فاتح کون ہوگا ؟ ان سوالوں کا جواب میں کسی ماہر دفاعی یا سیاسی تجزیہ نگار کی طرح تو نہیں دۓ سکتا لیکن مجھے ان سوالوں سے ایک محاورا یاد آگیا جس کا عنوان "بھے کا بھوت” ہوتا تھا ۔یہ دراصل اردو کا ایک محاورہ ہے جسے عام طور پر "بھیڑ کا بھوت” بھی کہا جاتا ہے ۔اس محاورۓ کا مطلب ہے "بلاوجہ یا خیالی  خوف ” یعنی ایسا ڈر جو حقیقت میں موجود نہ ہو مگر انسان کے ذہن میں بیٹھ جاۓ ۔کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ سمجھتے تھے کہ بھیڑ (بھیڑ یا بکریوں کے ریوڑ ) میں کوئی بھوت یا آسیب ہوتا ہے جس سے لوگ بلاوجہ خوفزدہ ہو جاتے تھے مگر جب حقیقت سامنے آتی تو وہ محض سایہ ہوتا تھا ۔”بھے کا بھوت ” وقت کےساتھ ایک محاورہ بن گیا ۔مجھے اپنے اسکول کے زمانے کا ایک واقعہ یاد آگیا یقینا” ہمارے اسکول کے بہت سے لوگوں کو بھی ضرور یاد ہوگا ۔

ہمارے اسکول میں ایک استاد صاحب جو نئے نئے   تعینات ہوۓبہت کمزور اور پتلےدبلے ہوا کرتے تھے ۔ان کا نام راؤ قمرہوا کرتا تھا ۔بظاہر وہ دیکھنے میں بہت شریف اور کمزور دکھائی دیتےتھے مگر بہترین اخلاقی رویے کے حامل ہونے کی وجہ سے ایک ہردلعزیزشخصیت سمجھے جاتے تھے ۔ہمارۓ علاقے کا ایک شخص  جو پہلوان تھا جسے بڑا طاقتور سمجھا جاتا تھا  اور  اس زمانے میں  گراری والا چاقو رکھنا فیشن  ہوتا تھا تو وہ بھی ایسا ایک چاقو رکھتا تھا ۔پورے علاقے میں اس کا دبدبااور خوف ہوا کرتا تھا ۔اس کے ایک عزیز کا بچہ ماسٹر قمر صاحب کی کلاس میں پڑھتاتھا اور پڑھائی میں کچھ زیادہ اچھا نہ تھا اس لیے روزآنہ ماسٹر قمر صاحب کے ڈنڈوں کا سامنا کرتا ۔اس نے گھر جا کر شکایت کی تو یہ پہلوان ماسڑ قمر صاحب کو دھمکانے دیوار پھلانگ  اسکو ل پہنچا اور چاقو نکال کر ماسڑ صاحب پر حملہ آور ہوا تو پورے اسکول نے عجب تماشا دیکھا کہ بجلی کی سی تیزی سے ماسڑ قمرصاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چاقوچھین لیا اور ہاتھ میں  پکڑے ہوےلکڑی کے فٹے اور تھپرڑوں سے اس کے سر اور منہ پر مار نا شروع کردیا بچوں نے مدد کرنا چاہی تو انہیں قمرصاحب نے سختی سے روک دیا ۔سب کچھ غیر متوقع ہوا تھا اس لیے اب پہلوان جی کی حالت یہ تھی جیسے کسی نے ہپناٹائز کردیا ہو ۔ماسڑقمر اسے  گریبان سے پکڑ کر مارتے ہوۓ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرۓ کی جانب بڑھے تو پیچھے اسکول کے  پرجوش بچوں کا  نعرۓ مارتا ایک ہجوم ساتھ تھا اور وہ پہلوان خاموشی اور شرمندگی سے مار کھا رہاتھا ۔اس کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہاتھا اور ماسڑ قمر صاحب ایک ہی جملہ بول رہے تھے کہ یہ اسکول ہے ،یہ میرےبچوں کا اسکول ہے ۔یہاں کسی کو بلااجازت آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔کمزور سا وہ ماسڑ قمر بلا کی دلیری سے اپنے سے کئی گنا طاقتور کو پیٹ رہاتھا ۔پہلوان ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہاتھا ۔اس کی طاقت تو وہی تھی مگر اس کا بھرم ٹوٹ چکا تھا ۔ بڑی تعداد میں بچوں کا مشتعل ہجوم  اسے نفرت اور غصے سے سزا دینا چاہتاتھا مگر ماسڑصاحب کے ہاتھوں اس کی زبردست دھلائی سے مطمین تماشا دیکھ رہا تھا ۔کافی پٹائی کے بعدبہت سے لوگوں کی سفارش پر اور اسکے ہاتھ جوڑنے پر اسے چھوڑ دیا گیا لیکن پورے شہر اور اسکول کے بچوں کے دلوں پر چھایا اس کارعب وبدباہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا تھا کیونکہ  وہ جان چکے تھے کہ اصل طاقت ہتھیار یا جسامت نہیں حوصلہ ہوتا ہے ۔ہم نے بعد میں ماسٹر صاحب سے پوچھا کہ سر آپ بظاہر کمزور تھے مگر اتنے طاقتور اور مسلح شخص کو کیسے قابو کر لیا ؟ تو وہ کہنے لگے اپنی جگہ اور اپنے گھر میں موجود انسان کسی بھی طاقتور سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے ۔خوف ہمیشہ اندھیرۓ کی طرح ہوتا ہے ااور اندھیرا خود کوئی وجود نہیں رکھتا یہ صرف روشنی کی عدم موجودگی ہوتی ہے جو بہادری اور حوصلے کی ایک چھوٹی سی کرن ہی ختم کردیتی ہے۔ہمارا ڈر اکثر معمولی سایے  کو بھی  دیو بنا دیتا ہے ۔ذہنی خوف ہمارۓ ذہن کو کمزور بنادیتا ہے ۔اندیشے،شکوک ،افواہیں یہی دراصل "بھے کا بھوت ” ہوتا ہے ۔یاد رکھو حوصلہ،جذبہ اور مقصد ہمیشہ طاقت سے جیت جاتا ہے ۔کمزور اور چھوٹے سے قد کے یہ ماسٹر راؤ قمر صاحب ایک لمحے میںمنفرد اہمیت حاصل کرکے  اسکول اور طلبا کے ہیرو بن گئے ۔اس ایک واقعہ نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا کر ہردلعزیز بنا دیا ۔

مشرق وسطیٰ کے ریگزاروں میں ایک چراگاہ تھی جہاں کئی قومیں اپنے اپنے مفادات کی بھیڑیں چرا رہی تھیں ۔اس چراگاہ کے ایک طرف ایران  اور خلیجی ریاستیں تھیں اور دوسری طرف اس زرخیز چراگااہ پر اپنا قبضہ جماۓ رکھنے اور نگرانی و حفاظت کے لیے ایک نگران اسرائیل کھڑا تھا جسے دور بیٹھے امریکہ جیسے  ایک لاٹھی بردار  خطرناک ،اور تباہ کن عالمی طاقت کی حمایت حاصل تھی ۔ان سب کے درمیان ایک انجانا سا خوف تھا ۔ایک ایسا خوف جسے کسی نے دیکھا نہیں تھا مگر سب اس کا ذکر کرتے اور اس کے تصور سے کانپتےتھے ۔عالمی سیاست میں اکثر "خطرات ” حقیقت سے زیادہ بیانیوں میں بڑے بنا دیے جاتے ہیں ۔خوف ،مفادات اور طاقت کی سیاست مل کر ایک "بھے کا بھوت ” تخلیق کردیتی ہے ۔جس خوف کی قیمت عام لوگ چکاتے ہیں ۔لوگ کہتے کہ یہ ایک بھوت ہے مگر ایران اپنے عوام سے کہتا کہ یہ بھوت دراصل ایک بہانہ اور ڈر ہے جو ہمیں ڈرانے کے لیے میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا ہے تاکہ حفاظت کے نام پر ہمیں سب کو کنٹرول کیاجاسکا ہم سب پر اپنی مرضی مسلط کی جاسکے ۔ایران نے  سر اٹھا کر طاقت حاصل کرنا چاہی اور ان سے بغاوت کی تو اسرائیل جیسے چرواہے نے ایران سے خوفزدہ ہو کر اپنے آقا اور حمایتی کو پکار اتو وہ مدد کرنے خود آپہنچا وہ بھول گیا کہ گھر میں بیٹھا تو چوہا بھی شیر سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے ۔مگر طاقت کا نشہ اور غرور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے ۔ٹیکنالوجی کا گھمنڈ بھول جاتا ہے کہ اپنے گھر کی حفاظت کرنے کاجذبہ ٹیکنالوجی اور طاقت سے کہیں بڑا ہوتا ہے ۔شاید یہی بھول تباہ کن ثابت ہو رہی ہے ۔بھوت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے کیونکہ اپنے گھر کی حفاظت اور دفاع  تو  ایک  چھوٹی سی چڑیا بھی بڑی دلیری سے کرتی ہے یہاں تو ایران کئی دھائیوں سے اس دفاع کی تیاری کر رہا تھا ۔پھر جب ایران کے ساتھ دنیا کی خاموش ہمدردیاں شامل ہوں تو "بھے کا یہ بھوت” اپنا خوف کھو رہا ہے بلکہ کھو چکا ہے ۔ایران اور اس کےعوام نے اپنے دفاع اور بقا کے لیے اس "بھے کے بھوت "کا بھرم توڑ دیا ہے ۔اس غیر قانونی جنگ کا انجام جو بھی ہو جیت ہار اپنی جگہ ہے مگر دنیا  مدتوں سے مسلط اس بھوت کے خوف سے آزاد ہو چکی ہے اور شاید اسےہی سب سے بڑی فتح کہا جاسکتا ہے کیونکہ دنیا بدل رہی ہے۔دنیا کی سوچ بدل رہی ہے ۔دنیا میں طاقت کاتوازن تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ یہ سپر پاور   بھوت  جس معاشی دلدل میں دھنستا چلا رہا ہے  وہاں سے نکلنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ہر جنگ کا انجام تباہی ہوتا ہے چاہے یہ جنگ کوئی بھی جیت جاۓ اس کا نقصان ہمیشہ عام لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔آج امریکہ اور اسرائیل جیسے "بھے کے بھوت” کے پاس دو ہی راستے ہیں پسپائی اور باعزت واپسی یا پھر دنیا بھر کی جانی ومالی تباہی ! دیکھنا اب یہ ہےکہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں؟جنگیں سب نہیں لڑتے مگر جنگوں کے مضر اثرات سب پر پڑتے ہیں ۔

بھے کا بھوت 

حرمتِ انسانیت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے