رجیم چینج
اورنگ زیب اعوان
آجکل یہ لفظ زبان زد عام ہے. کیونکہ حالیہ دنوں میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے. اس کا مطلب ہرگز نہیں. کہ یہ کوئی نئی اصطلاح ہے. ماضی میں بھی اس کا استعمال ہوتا رہا ہے. رجیم چینج کے لفظی معنی کسی بھی نظام حکومت کو محض اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے بزور طاقت ختم کرنے کے ہیں. امریکہ نے اس میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے. اس نے ہر دور میں دوسرے ممالک میں رجیم چینج کی پالیسی اختیار کی ہے. بالخصوص اسلامی ممالک ہمیشہ اس کے نشانے پر رہے ہیں. پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو محض اس لیے شہید کروا دیا گیا. کہ وہ اسلامی ممالک کا بلاک بنانے کے خواہشمند تھے. اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے. تو آج دنیا میں امریکہ کی حیثیت اور مقام ایسا نہ ہوتا. جو اسے آج حاصل ہے. ان کے دور کے تمام اسلامی سربراہان سعودی عرب کے سلطان شاہ فیصل، لیبیا کے صدر قذافی جیسے نڈر لیڈران کو جو امت مسلمہ کے اتحاد کے داعی تھے. سب کو سازشوں کے ذریعہ سے رجیم چینج کا شکار بنایا گیا. پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق شہید کو بھی اپنے مطلوبہ مقاصد کی تکمیل ہونے پر رجیم چینج کے ذریعہ سے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا گیا. امریکہ کی نظر میں ہر وہ اسلامی سربراہ اس کا دشمن ہے. جو امت مسلمہ کے اتحاد اور طاقت کی بات کرتا ہے. اسی لیے سابق وزیراعظم پاکستان و سربراہ پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تین بار خاتمہ کیا گیا. یہ بھی رجیم چینج کا ہی حصہ تھا. کیونکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ایک محب الوطن لیڈر ہیں. انہوں نے اپنے دور اقتدار میں امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے لیے بے مثال کاؤشیں کی ہیں. ان کو اسلامی ممالک میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. پاکستان کو اتیمی طاقت بنانے میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے. انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے جوہری پروگرام کو انتہائی کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا. پاکستان کو اتیمی طاقت بنانے میں ہماری سیاسی اور فوجی قیادت نے ہمیشہ سے لازوال قربانیاں دی ہیں. جس کا خمیازہ ان کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ادا کرنا پڑا ہے. ہم لوگ وقتی طور پر آپس میں دست و گریباں ضرور رہے ہیں. مگر ملکی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا. امریکہ نے پاکستان کو اٹیمی طاقت آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا. وہ ہر وقت ہمارے خلاف سازشی چال چلتا رہتا ہے. مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو پایا. اب اسلامی ملک ایران اٹیمی طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے. تو اس کو یہ برداشت نہیں ہو رہا. اس سے قبل عراق کو بھی اسی پاداش میں سزا دی گئ تھی. عراق کے صدر صدام حسین بھی عراق کو اٹیمی طاقت بنانا چاہتے تھے. ظاہر ہے. ہر ملک اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کا خواہشمند ہے. اور ہونا بھی چاہیے. بدقسمتی سے ہمارے اسلامی ممالک کے سربراہان دنیاوی عیاشی میں اس قدر مگن ہیں. کہ تمام تر وسائل ہونے کے باوجود امریکہ کی غلامی کرنے پر مجبور ہیں. رجیم چینج کے حالیہ واقعات نے دنیا کو شدید ترین خطرات سے دوچار کر دیا ہے. ایران سے قبل امریکہ نے بھارت کی مدد سے پاکستان میں رجیم چینج کی کوشش کی. جس میں اسے بری طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا. پھر اس نے پلان ٹو پر عمل درآمد کرتے ہوئے. ہماری عسکری اور سیاسی قیادت کی تعریف کرنا شروع کر دی. ساتھ ہی ساتھ بھارت ،اسرائیل کی مدد سے افغانستان کے ذریعہ سے پاکستان میں دہشت گردی بھی شروع کروا دی. جس کے نتیجہ میں ہماری مساجد، امام بار گاہوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہا. وہ کسی بھی صورت پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے. اس سے قبل ایک سیاسی جماعت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا. جس نے پاکستان میں فوجی تنصیبات پر باضابطہ حملہ کیا. یہ نادان لوگ فوج کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں. اور افواج پاکستان کے خلاف تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. پاکستانی عوام محب الوطن ہے. وہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے. پاکستان کی بہادر افواج نے ایران کو امریکہ کے خطرناک کھیل سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا. کہ وہ اسرائیل کی مدد سے آپ پر حملہ کرنے والا ہے. پاکستان نے تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے. امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملہ سے قبل افغانستان پر حملہ کر دیا. اور افغانستان کے تمام ائیر پورٹس کو ناکارہ کر دیا. جہاں سے امریکہ نے ایران پر حملہ کرنا تھا. اس کے ساتھ ہی وہ تمام امریکی اسلحہ جو امریکہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت افغانستان میں چھوڑ گیا تھا. کہ اس کو ایران کے خلاف استعمال کرے گا. اس کو نست و نابود کر کے رکھ دیا. پاکستان کی سیاسی قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر نے جس اعلی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے. اس نے امریکہ کی نیندیں حرام کر کے رکھ دی ہیں. پاکستان نے افغانستان جنگ کی آڑ میں بھارت اور اسرائیل کو اس خطہ میں مصروف کیا. اور ان کو افغانستان کی سر زمین پر عبرت ناک شکست سے دوچار کیا جا رہا ہے. بالاشبہ ایران ہمارا اسلامی برادر ملک ہے. اس کی عوام کے ساتھ پاکستان کی عوام کے دل ڈھرکتے ہیں. ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ہر پاکستانی اشک بار ہے. اور ایران کی فتح کے لیے دعاگو ہے. پاکستانی قوم کی تمام تر ہمدردیاں اور نیک خواہشات ایرانی قوم کے ساتھ ہیں. انشاءاللہ ایران فتح یاب ہوگا. ایران نے پہلے دو دن جس بہتر جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا. اس کی مثال نہیں ملتی. اس نے ایک دو پٹاخے اسلامی ممالک میں چلائے. تاکہ پتہ چل سکے. کہ امریکہ نے کس اسلامی ملک میں کتنا اسلحہ ذخیرہ کیا ہوا ہے. مطلوبہ نتائج برآمد ہونے پر اصل کاروائی کی






