بھارت کا دوہرا معیار
أج کا اداریہ
ایران پرامریکہ اسرائیل مشترکہ یلغار کے بعد ایران جل رہا ہے لیکن پڑوس میں اسکا دیرینہ ساتھی انڈیا تماشہ دیکھ رہا ہے۔،پورا مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر اوردنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے اوربھارت چپ سادھے ہوئے ہےمجرمانہ خاموشی ہے یا کوئی حکمت عملی ،یہ سوال آج ہر خاص وعام کی زبان پر ہے اور غور کیا جائے تو اس کا جواب کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں۔بظاہر اس کی دو تین بڑی وجوہات نظر آتی ہیں۔اول اسرائیل کے ساتھ بھارت کی اسٹریٹیجک شراکت داری ۔ دفاعی میدان میں بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا کسٹمر ہے۔ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سرویلینس نظام کی بات کی جائے ،یا آئرن بیم کی جو جدید لیزر ہتھیار ہیں ،ان کے حصول کا معایدہ بھی حال ہی میں ہوا ہے یعنی وہ آپس میں معاہدوں اور پرانے تعلق میں اس طرح سے جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کا الگ ہونا بھارت کے لیے کم از کم ممکن نہیں مگر مشکل یہ ہے کہ دوسری طرف بھارت کا خلیجی ممالک میں بھی بہت بڑا مفاد موجود ہے یہاں ذہن نشیں رہے کہ سعودی عرب اور امارات کے ساتھ حال ہی میں بھارت کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں ۔خلیجی ملکوں میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد کی تعداد میں بھارتی ورک فورس کام کر رہی ہے اور زرمبادلہ کا بہت بڑا حصہ بھارتی تجوری میں بھررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے بڑے محتاط انداز میں خلیجی ممالک کی سالمیت پر زور دیا ہے جسے بالواسطہ طور پر ایران کے خلاف جھکائو تصور کیا جا رہا ہے ۔مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ بھارت ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی کے نام پر اپنی انرجی اور امیگریشن کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے ۔یوں دیکھا جائے تو بھارت اس وقت ڈبل گیم کھیل رہا ہے یعنی ایک طرف وہ امن کے نام پر بالواسطہ طور پر اسرائیل کی مدد کر رہا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ دوہزار چوبیس اور پچیس کی جنگوں میں بھارتی دفاعی کمپنیوں نے اسرائیل کو گولہ بارود اور راکٹ بڑی تعداد میں فراہم کیے تھے اور عین ممکن ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہو ۔دوسری طرح چاہ بہار پورٹ ایران کے راستے بھارت کو سنٹرل ایشیا تک رسائی دیتی ہے ۔اور یہ ایران میں بھارت کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ سمجھی جاتی ہے ،اس انویسٹمنٹ کو بچانے کے لیے بھارت پس پردہ ایران کے ساتھ رابطے میں ضرور ہے مگر اپنے اسٹریٹیجک پارٹنر اسرائیل کو بھی مٹھی میں رکھنا چاہتا ہے ۔
یادرہے کہ ایران پر حملے سے قبل بھارتی وزیرِاعظم مودی کے دورۂ اسرائیل پر عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔
وزیر اعظم مودی کے اسرائیل کے دو روزہ دورے میں دونوں ملکوں نے زراعت، ٹیکنالوجی، ایجاد، خلائی سائنس، ریسرچ اور واٹر مینیجمنٹ جیسے شعبوں میں 17 معاہدے کیے ہیں۔
نیتن یاہو نے مودی کے دورے کو ’حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین‘ قرار دیا جبکہ انڈین وزیراعظم نے اسرائیل کے اپنے دورے کو تاریخی کہا۔
انھوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے رشتے وقت کی ہر کسوٹی پر کھرے اترے ہیں۔ باہمی رشتے کو سپیشل سٹریٹجک پارٹنر شپ میں بدلنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کی تمناؤں کا عکاس ہے۔‘
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ایران پر امریکی حملے کے خطرے سے پورا مشرقِ وسطیٰ غیر یقینی حالات سے گزر رہاہے
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دورے کی ٹائمنگ نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مودی نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی، بعض بین الاقوامی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ یہ دورہ اسرائیل کی متنازع حکومت کیلئے سیاسی سہارا ثابت ہوا۔
امریکی تجزیہ کار ڈوگلس میک گریگور نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، تاہم ان دعوؤں پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر بھارتی اپوزیشن جماعتوں، بشمول کانگریس اور دیگر رہنماؤں نے اس دورے کو روایتی بھارتی خارجہ پالیسی سے انحراف قرار دیا ہے، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر خاموشی اور اسرائیل سے قربت نے بھارت کی غیر جانبدار ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
کچھ سیاسی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ دورہ چابہار بندرگاہ اور کاروباری مفادات کے تحفظ سے متعلق تھا۔
واضح رہے کہ اڈانی گروپ اسرائیل کی حیفہ اور ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری ہے ہے، ناقدین کے مطابق حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ قومی مفادات اور کاروباری تعلقات میں کس کو ترجیح دی گئی۔
بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اس دورے پر بحث جاری ہے۔
اب وقت أگیا ھے کہ ایران’ عرپ ممالک سمیت مسلم دنیا کو یہود وہنودھکے مسلمانوں کیخلاف اس گٹھ جوڑ کو نہ صرف بے نقاب کرنا ہوگا بلکہ اسکا سدباب بھی ضروری ہے۔






