#کالم

اکادمی ادبیات اطفال اور اخوت فاؤنڈیشن کی مشترکہ کہکشاں

Untitled 1jgfhd

عمران امین
قصور کی سرزمین صدیوں سے محبت،علم اور انسان دوستی کی امین رہی ہے۔یہی وہ مٹی ہے جہاں بابا بلھے شاہ کے کلام نے دلوں کو وسعت اور فکر کو پرواز دی اور انہی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے قصور میں چند دن پہلے بچوں کے ادب،علم دوستی اور خدمتِ خلق کا ایک ایسا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا جس نے دیر تک دل و دماغ پر اپنا اثر قائم رکھا۔یاد رکھیں!کسی بھی زندہ اور متحرک معاشرے میں بچوں کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے۔وہ محض حال کے نمائندے ہی نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے معمار بھی ہوتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ قوموں کی تقدیر کا انحصار اسی بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی فکری،اخلاقی اور تخلیقی آبیاری کس انداز میں کرتی ہے یوں اس تناظر میں بچوں کے ادب کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔بچوں کا ادب نہ صرف ننھے ذہنوں کو تخیل،سچائی اور حسنِ فکر سے آشنا کرتا ہے بلکہ والدین اور اساتذہ کے لیے بھی بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔اچھی کہانی،بامقصد نظم اور سادہ مگر بلیغ زبان بچے کے باطن میں ایسے بیج بو دیتی ہے جو آگے چل کر اسے مہذب،باشعور اور ذمہ دار شہری کی صورت میں سامنے لاتا ہے۔پاکستان میں اگر بچوں کے ادب کی بات ہو اور ماہ نامہ پھول کا ذکر نہ آئے تو گفتگو ادھوری رہتی ہے۔اسی طرح اس میدان میں اگر کسی شخصیت نے خاموش مگر مسلسل جدوجہد کے ذریعے ایک تحریک کی شکل اختیار کی ہے تو وہ شعیب مرزا ہیں۔وہ محض ایک مدیر ہی نہیں ہیں بلکہ بچوں کے ادب کے سچے خادم ہیں انہوں نے کمرشل ازم کے اس دور میں بھی قلم کی حرمت اور بچوں کے تخلیقی حقوق کا علم بلند رکھا ہوا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ بچوں کے ادب کے فروغ،لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ادبی اقدار کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔ان کے اسی خلوص اور لگن کا عملی مظہر “قومی اہل قلم کانفرنس” ہے جو شعیب مرزا گزشتہ دس برس سے اپنی ذاتی حیثیت میں بلا تعطل منعقد کروا رہے ہیں۔اس کانفرنس کا مقصد محض ایک تقریب منعقد کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ ملک بھر میں بکھرے بچوں کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا،ان کی خدمات کو سراہنا اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ ان کا کام معاشرے کے لیےکتنا قیمتی ہے۔ہر سال کی طرح اس بار بھی پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے منتخب قلم کاروں کو اعزازات سے نوازا گیا جس سے نہ صرف سینئر لکھاریوں کی عزت افزائی ہوئی بلکہ نئے لکھنے والوں کو بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا۔اس سال اس علمی و ادبی کہکشاں کو سجانے کے لیے جس مقام کا انتخاب کیا گیا تھا وہ اپنی مثال آپ ہے۔اخوت کالج قصور محض ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک فکر،ایک خواب اور ایک عملی مثال ہے کہ اگر نیت صاف اور مقصد بلند ہو تو وسائل کی کمی بھی راستہ نہیں روک سکتی۔یہ ادارہ اخوت فاؤنڈیشن کے تعلیمی وژن کا روشن چہرہ ہے۔اخوت فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈاکٹر امجد ثاقب نے مواخاتِ مدینہ کے عظیم تصور کو سامنے رکھ کر رکھی تھی۔اس ادارے کا بنیادی مقصد معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو بلا سود قرضوں کی فراہمی اور تعلیم کی سہولیات کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔اخوت نے ثابت کیا کہ خدمتِ خلق محض نعرہ نہیں ہے بلکہ عملی جدوجہد کا نام ہے۔اخوت کالج قصور کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا “زیرو فیس” ماڈل ہے جہاں کسی بھی طالب علم سے تعلیم کے بدلے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جاتا۔داخلہ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔پنجاب،سندھ،بلوچستان،خیبر پختونخوا،گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت پورے پاکستان سے باصلاحیت مگر مالی طور پر کمزور بچوں کو علاقائی کوٹے کے تحت منتخب کیا جاتا ہے۔یہاں طلبہ کو مفت رہائش،معیاری خوراک اور صحت مند سرگرمیوں کی بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ بچےصرف اپنی تعلیم،صحت اور کردار سازی پر توجہ دیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کے تعلیمی نتائج کسی بھی مہنگے نجی ادارے سے کم نہیں ہیں۔
15 فروری کو اخوت کالج قصور کی پرشکوہ عمارت کے آڈیٹوریم ہال میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ادیب،دانشور اور تعلیمی ماہرین براجمان تھے اور ان کے چہروں پر علم و ادب سے محبت صاف جھلک رہی تھی۔کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا تو ہال میں ایک روحانی سکون محسوس کیا گیا۔کانفرنس کے مختلف سیشنز میں حاضرین کے سامنے معروف علمی و ادبی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو کتاب سے جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اسکرین کے اس ہجوم میں اگر کتاب بچے کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تو ہم ایک پوری نسل کو فکری تنہائی کے حوالے کر دیں گے۔تقریب میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی گفتگو نے حاضرین کے دل جیت لیے۔انہوں نے ادب اور اخلاقیات کے باہمی تعلق پر نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں روشنی ڈالی اور بتایا کہ اصل تعلیم وہی ہے جو انسان کو بہتر انسان بنائے۔ادبی نشستوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کی تواضع کا بھی بہترین اہتمام تھا۔چائے کے وقفے اور سادہ مگر معیاری کھانے کے دوران ادیبوں کو ایک دوسرے سے ملنے،خیالات بانٹنے اور نئے رشتے استوار کرنے کا موقع بھی ملا۔اخوت کالج کے طلبہ اور عملے کی مستعدی اور خوش اخلاقی نے ہر آنے والے کو یہ احساس دلایا کہ وہ محض مہمان نہیں ہے بلکہ اس علمی درس گاہ کا حصہ بھی ہے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ ایسی تقریبات محض رسمی اجتماعات نہیں ہوتی بلکہ یہ معاشرے کے فکری جمود کو توڑنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ان سے لکھاریوں کو نیا حوصلہ ملتا ہے،نئے قلم کاروں کی تربیت ہوتی ہے اور معاشرے میں کتاب و قلم کی اہمیت دوبارہ اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اسے ضلع اور تحصیل کی سطح تک پھیلایا جائے۔آخر میں یہ کہنا بے جا

اکادمی ادبیات اطفال اور اخوت فاؤنڈیشن کی مشترکہ کہکشاں

رجیم چینج

اکادمی ادبیات اطفال اور اخوت فاؤنڈیشن کی مشترکہ کہکشاں

07/03/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے