#اداریہ

حکومت کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل

Fahad 01

أج کا اداریہ

حکومت کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلمیمنٹ کے مشتکہ اجلاس س خطاب کیا.16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکملپر ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق16 ویں قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران نمایاں قانون سازی کی گئی،16ویں قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی تکمیل پاکستان کی پارلیمانی و قانون سازی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی بصیرت افروز قیادت میں ایوان نے قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیشرفت ہوئی، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے، 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے اور 46 بل منظور ہوئے، دوسرے پارلیمانی سال میں 48 نجی بل پیش کیے گئے، 38 سینیٹ سے موصول ہوئے،
دوسرے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی نے 13 نجی بلز منظور کیے. دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 40 سرکاری اور 6 نجی ایکٹ بنے.دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کے ایوان نے 27 قراردادیں منظور کیں ،
قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کے 11 اور تین مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے،
ان اجلاسوں کے دوران 130 ورکنگ ڈیز مکمل کیے گئے
اجلاسوں کا مجموعی دورانیہ 237 گھنٹے 36 منٹ رہا،
دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 7,625 سوالات پوچھے گئے، استحقاق کی 33 تحریکیں پیش ہوئیں، جن میں سے 6 متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائی گئیں، 18 زیرِ غور ہیں، 6 نامنظور جبکہ 2 واپس لے لی گئیں، اسمبلی کے آفیشل یو ٹیوب چینل (این اے ٹی وی) کے ذریعے کارروائی کی براہِ راست نشریات کے آغاز سے شفافیت، رسائی اور عوامی شمولیت کو مزید تقویت ملی،
16 ویں قومی اسمبلی کے دوران پارلیمان نے بھارتی جارحیت کو دنیا بھر میں بے نقاب کیا اور قومی سطح پر یکجہتی قائم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا، پارلیمان نے علاقائی اور عالمی سطح پر بھارت کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کرنے کیلئے پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دیا،
پارلیمان نے معرکہ حق کے دوران مسلح افواج کے ساتھ قومی یکجہتی کا اظہار کیا اور مسلح افواج کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، 16 ویں قومی اسمبلی کے دوران معرکہ حق اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا،
اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں 16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مؤثر قانون سازی، فعال نگرانی، بڑھتی ہوئی شفافیت، متحرک پارلیمانی سفارتکاری اور جمہوری اقدار سے تجدیدِ عہد کا مظہر ثابت ہوا ہے،
صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا ھے کےہ  باکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منفرد اعزاز ہے کہ بطور دوبار منتخب صدرمملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے، پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری، مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے، ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں، قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، بے، نظیر بھٹو شہید نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے، تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے۔
گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا، دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا، ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا، 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔
سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے، سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی، خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا اور کہا کہ  پاکستان اور امریکا میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔
سی پیک 2 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا، شی جن پنگ کا شکر گزار ہوں، مسئلہ فلسطین پر پاکستان اصولی موقف رکھتا ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے کے غیر قانونی بھارتی اقدامات آبی دہشتگردی ہیں، منتخب صدر کی حیثیت سے وفاق اور پارلیمنٹ کے اتحاد کی حفاظت کا پابند ہوں، بلوچستان کی محرومیوں پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔
معاشی استحکام اور قومی سلامتی لازم و ملزوم ہیں، ادارہ جاتی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں، ٹیکس نظام اور اخراجات میں شفافیت اعتماد کی بنیاد ہے، ٹیکنالوجی اور جدت عالمی معیشت

حکومت کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل

04/03/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے