#اداریہ

ایران پر حملہ ‘ یورپی ممالک بھی کودپڑے

Fahad 01

أج کا اداریہ

ایران کے پاسدران انقلاب نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر چار بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں سنیچر کو شروع ہونے والی امریکی کارروائی کے بعد پہلی مرتبہ رپورٹ کی گئی ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران 3 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 5 شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
ایران کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی جنگ میں یہ امریکی ہلاکتوں کی پہلی اطلاع ہے، سینٹرل کمانڈ  نے ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے یو ایس ایس ابراہم لنکن امریکہ کا پانچواں طیارہ بردار بحری جہاز ہے جس میں جدید ترین ایف-35 سٹیلتھ جیٹ طیارے شامل ہیں۔ یہ طیارے دُشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اس بحری بیڑے میں سٹرائیک گروپ کے پاس ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لدے ڈسٹرائر بھی ہیں اور عام طور پر اس کے ساتھ جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز بھی ہوتی ہے جو یہی میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق ایران کے اسرائیل پر اب تک کے سب سے بڑے حملے میں حکام کے مطابق نو افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے اسرائیلی شہر بیت شمس پر میزائل حملہ اپنے خلاف اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی حملوں میں اب تک متحدہ عرب امارات اور کویت میں ایک، ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ خطے میں کئی لوگ ان حملوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
خطے میں کئی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں اور اسے کووڈ وبا کے بعد عالمی سفری صنعت کے لیے سب سے سنگین مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خلیج میں ایران نے امریکی اتحادیوں اور اس کی تنصیبات کے خلاف بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق ایران نے یروشلم کے مغرب میں واقع بیت شمس شہر پر براہ راست میزائل داغے۔ حکام کے مطابق اس حملے میں ’معصوم شہری‘ ہلاک ہوئے کیونکہ ایک عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
یہ عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی تھی۔ ریسکیو حکام اب بھی زندہ بچنے والوں کی تلاش کر رہے ہیں اور انھیں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ قریب موجود گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 11 افراد لاپتہ ہیں۔ یہ اسرائیل میں حالیہ کشیدگی کے دوران اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا
امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ایسے میں آبنائے ہرمز کے نزدیک کم از کم تین بحری جہازوں پر حملے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ تیسرے جہاز کے قریب ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ پھٹا ہے۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے تین ٹینکرز کو ’میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور وہ جل رہے ہیں‘۔ برطانیہ اور امریکہ نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ’متعدد سکیورٹی واقعات‘ کی اطلاعات ملی ہیں، اور اس نے بحری جہازوں کو اپنی نقل و حرکت میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
کم از کم 150 ٹینکر آبنائے ہرمز سے آگے کھلے خلیجی پانیوں میں لنگر انداز ہیں۔ دوسری جانب، جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کپلر (Kpler) کے مطابق آج ایرانی اور چینی جہاز وہاں سے گزرے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو استعمال نہ کریں۔ اس گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔
فی الوقت آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی شپنگ تقریباً مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو اس سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پیر کی صبح ایشیا ئی تجارت میں خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت سات فیصد سے زائد اضافے کے بعد 78.25 ڈالر (58.30 پاؤنڈ) فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی تجارت میں تیل 7.3 فیصد اضافے کے ساتھ 71.93 ڈالر پر پہنچ گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نظر رکھے ہوئے ہے کہ آبنائے ہرمز کب دوبارہ کھلتا ہے، کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ کمی ہو گی۔
کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ طویل تنازع کی صورت میں قیمت 100 ڈالر سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
اتوار کے روز تیل پیدا کرنے والے ممالک اوپیک +— جس میں سعودی عرب اور روس شامل ہیں — نے اپنی پیداوار میں یومیہ دو لاکھ چھ ہزار بیرل اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافے کو کم کرنے میں مدد ملے۔ تاہم کچھ ماہرین کو شک ہے کہ اس سے زیادہ مدد نہیں ملے گی۔
آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے صدر ایڈمنڈ کنگ نے خبردار کیا کہ اس بندش کے نتیجے میں دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
’مشرقِ وسطیٰ میں ہنگامہ آرائی اور بمباری یقینی طور پر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل ڈالنے کا باعث بنے گی، جس سے لامحالہ قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔‘
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
اپنے ایک وڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے دفاعی مقاصد کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی درخواست کی ہے۔ ‘
کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ہم نے یہ درخواست قبول کی ہے تاکہ ایران کو خطے میں میزائل فائر کرنے سے روکا جا سکے، جو بے گناہ شہریوں کو مار سکتے ہیں، برطانوی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اُن ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو اس تنازع

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے