پہلی قسط طالبان رجیم اور شیطان الرّجیم
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
ستائیس فروری 2026 یعنی آٹھ رمضان 1447 کو افغانستان نے اپنی روایتی غیر دانشمندانہ حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے پاکستانی افواج سے جاری چھڑ چھاڑ کا خمیازہ بھگتنے کا خود آغاذ کیا ۔ افغانستان کی طرف سے یہ احمقانہ اقدام سمجھنے کے لیے ایک طویل پس منظر کا جاننا ضروری ہے تاکہ مکمل اور درست خدوخال پر مشتمل تاریخی حقائق کی تصویر پوری طرح ابھر کر سامنے آ سکے ۔
1979 میں سوویت افواج کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ہی سرد جنگ کا اختتام شروع ہو چکا تھا کیونکہ اس مرتبہ سرخ فوج کو افغانستان کی سنگلاخ اور پرپیچ زمین کے ساتھ افغانی مزاحمتی فطرت ، پاکستانی عسکری قیادت اور جدید ترین امریکی اسلحے کے سامنے چو مُکھی جنگ لڑنا تھی جو اسے خاصی مہنگی پڑی ۔ حسبِ توقع سرد جنگ کے اختتام پر پاکستان نے نہایت گرم جوشی سے 1988 کے جینوا معاہدے پر دستخط تو کر دیے لیکن اس کی دور رس پیچیدگیاں اتنی خوفناک ہوں گی ، اس کا شاید اُن دنوں کسی کو برائے نام بھی ادراک نہ تھا ۔ امریکہ اور اس کے دیگر اتحادی بھی حیرت انگیز طور پر افغانستان کی تاریخ بھلا بیٹھے ۔ وہ ملک جسے وسط ایشیا کی طرف سے مختلف حملہ آور اقوام نے راہداری کے طور پر استعمال کیا جس کے نتیجے میں افغانستان جسے سیاسی استحکام اور پڑوسی مسلم ممالک کے ساتھ دوستی وغیرہ جیسی نایاب اجناس کے معانی بھی پتا نہیں تھے ، وہاں سے اچانک دو سپر پاورز کے انخلا سے کتنا ہولناک سیاسی بحران بار بار جنم لے گا ، اس کا کچھ کچھ اندازہ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کو تو تھا لیکن امریکہ نے اپنی ترجیحات بدلتے ہوئے نیا عالمی سیاسی منظرنامہ / نیو ورلڈ آرڈر کو تشکیل دینا زیادہ اہم سمجھا ۔ یہ سب کرتے ہوئے اگر امریکہ اور مغربی یورپ پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں سیاسی استحکام پر بھی توجہ مرکوز رکھتے تو نائن الیون جیسے عظیم سانحے اور اس سے جڑے عالمی شاخسانوں اور بحرانوں سے بچا جا سکتا تھا ۔
سرد جنگ کے بعد افغانستان کی قدیم قبائلی فطرت بھرپور انگڑائی لے کر بیدار ہو گئی اور قبلِ اسلام کے قبائل کی طرح مختلف افغان قبائلی عمائدین نے اسلام کی آڑ میں ایک خونی کھیل شروع کیا جسے سیاسی و تاریخی تجزیہ کار عمائدین کا تحارب / وار لارڈازم کی اصطلاح سے گردانتے ہیں ۔ ایرانی انقلاب کے سبب پاکستان کو اکیلے ہی ان متحارب گروہوں کی چپقلش کے سرحد پار کر جانے والے منفی اثرات /
Spillover effects
کو جھیلنا پڑا ۔ سو 1990 کی پوری دہائی میں پاکستان نے ان اثرات سے نمٹنے کے لیے جتنی بھی کوششیں کیں وہ کم و بیش رائیگاں گئیں کیونکہ ہماری خارجہ پالیسی بھی سرد جنگ اور امریکی امداد یکلخت رکنے کے سبب اتنی فعال نہیں رہی تھی ۔ رفتہ رفتہ وہی افغان جو پہلے مجاہدین تھے ، القاعدہ اور طالبان کے نام سے دہشت گردی کی علامت کے طور پر پوری دنیا میں مشہور ہوتے چلے گئے ۔ پھر جب تک امریکہ کی توجہ دوبارہ اس طرف مرکوز ہوتی ، کافی دیر ہو چکی تھی ۔
اسی عشرے میں ایک طرف ہم افغان متحارب گروہوں میں مصالحت کے لیے کوشاں تھے تو دوسری جانب پریسلر ترمیم جیسی رکاوٹیں ہٹانے کیلئے امریکی قیادت کو قائل کرنے میں مسلسل توانائی صرف کر رہے تھے ۔ چنانچہ اکیسویں صدی کے آغاذ پر ہی افغانستان کے سیاسی افق پر ایک اور جنگ کے بادل چھانے لگے جن سے بارود اور دھماکوں کی ژالہ باری نائن الیون کی صورت ہونا لامحالہ تھی ۔ افسوس افغانستان کے اس نئے سیاسی بحران کا بھی سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہی بنا کہ نیٹو افواج کو افغانستان تک رسائی کے لیے پھر سے پاکستانی سرزمین کو استعمال کرنا پڑا جس کی بابت بجا طور پر کہا جا سکتا ہے :
جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں
جاری ہے






