#اداریہ

طالبان اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب

Fahad 01

أج کا اداریہ

افواج پاکستان نے ” آپریشن غضب للحق” میں افغان طالبان رجیم کی کابل ، قندھار اور پکتیا کی اہم فوجی تنصیبات کو مؤثر فضائی حملے میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ جمعہ کو علی الصبح ہونے چار بجے تک 133 افغان طالبان مارے گئے جبکہ 200 زخمی ہوئے۔ 
سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان کی 27 چیک پوسٹیں تباہ کردیں اور 9 پر قبضہ کرلیا۔
افغان طالبان نے جمرات کی شب سرحد پر بلا اشتعال حملے کیے۔ ابادی کو بھی نشانہ بنایا۔ جواب میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی
پاک فضائیہ کے حملوں کے دوران کابل میں 2بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ز،قندھار میں ایک کور ہیڈ کوارٹرز اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا گیا۔ قندھار میں ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس، پکتیا میں بھی کور ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا گیا
افغان طالبان رجیم کی کابل میں اہم ملٹری تنصیبات بشمول دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو مؤثر فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا گیا۔
افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کا فضائی اور زمینی دونوں سطح پر مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا گیا
سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کیخلاف مکمل طور پر تیار اور بھر پور جواب دینےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
طالبان کی جانب سے اشتعال انگیزی کے بعد صدر آصف زرداری نے افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک نے سفارتی ذرائع کے استعمال اور دوست ممالک کی معاونت سے اس ’مجرم گروہ‘ کو ’راہِ استدلال‘ پر لانے کی سنجیدہ کوشش کی مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف زرداری نے الزام عائد کیا کہ پچھلے پانچ برسوں سے افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے خلاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے ’دہشتگردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔‘
صدر نے خبردار کیا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی ذمہ دار عناصر ان کے ملک کی رسائی سے باہر نہیں ہوگا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے‘ اور اب ’کھلی جنگ‘ ہوگی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے افغان طالبان پر ’ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابل کی عبوری حکومت نے ’دہشتگردی کو ایکسپورٹ‘ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے ’اپنے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا اور خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ بھی چھین لیے۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور ہر ’جارحیت کا منہ توڑ جواب‘ دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دفتر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے ہمیشہ امن کو فروغ دیا ہے تاہم ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور پاکستان کی فوج ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔
اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوجی کسی بھی اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اخری خبریں أنے تک پاک فضائیہ نے تحریک طالبان افغانستان کا مرکزی ہیڈ کوارٹرز تباہ کردیا۔کرم سیکٹر کے قریب افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کردیئے گئے۔
پاک فوج نےچترال سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا کرتباہ کردیا ۔
 پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں قومی پرچم لہرا دیا ہے۔
پاک فوج کی موثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی پر افغان طالبان طورخم بارڈر چھوڑ کر ٹرکوں میں فرار ہو گئے ۔
 سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ سرحدی خلاف ورزی یا کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی کیلئے پرعزم ہیں ۔
پاک افغان سرحدی پٹی پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور موثر کارروائی کی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے 22 اہلکاروں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ تاہم، پاکستانی فورسز نے بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے تمام کواڈ کاپٹرز کو فضا میں ہی تباہ کر کے گرا دیا۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں پر گولہ باری جاری ہے۔
 جدید ڈرونز کے ذریعے افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سرحدی دفاع کو مزید مضبوط بناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ دراندازی کا راستہ روک دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری عسکری طاقت کے ساتھ دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ افغان طالبان کے ٹھکانے مسمار اور خوارج میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کے بعد پاکستانی شاہینوں نے برق رفتار کارروائی کی۔
ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی پر پاک فوج نے فوری اور بھرپور ردِعمل دیتے ہوئے مہمند سیکٹر ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آرٹیلری فائر سے ٹی ٹی اے کا سیکٹر ہیڈ کواٹر تباہ کر دیا۔
اس صورت حال میں ماھرین کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کو بھارت کی شہہ پر برادر اسلامی ملک پاکستان سے تعلقات خراب نہیں کرنے چاھییں۔امت مسلمہ کے تعاون

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے