#کالم

محبت، روشنی، سورج، ستارہ قید میں ہے

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب

ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے کردار ضرور ہوتے ہیں جو محض یادوں کا حصہ نہیں رہتے بلکہ فکر و شعور کے کسی نہ کسی زاویے سے مستقل مکالمہ کرتے رہتے ہیں۔ میرے بچپن کے دوست عبدلقدیر صاحب بھی ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔
سرخ و سفید رنگت، چمکتے ہوئے سیاہ بال، زندگی سے بھرپور آنکھیں، دبلا پتلا بدن اور گفتگو جو ادبی چاشنی میں گندھی ہوئی ہو ، ان کی شخصیت کا پہلا تاثر ہی کچھ ایسا تھا کہ آدمی رک کر سنے۔ غالب سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور ان کے جمالیاتی ذوق کی ترجمانی بھی اکثر غالب ہی کے اشعار سے کرتے ہیں۔ ایک روز غالب کے ایک بظاہر عام شعر سے فکر و آگہی کے ایسے جہان برآمد کیے کہ ہم سامعین حیران رہ گئے:
لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا
لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں
ایک دفعہ ہستی باری تعالیٰ کے حوالے سے فلسفہ اول و آخر کی تشریح کی اور لاجواب کر دیا اسی طرح ایک موقع پر وقت یا زمانے کے حوالے سے وہ معروضات پیش کیں کہ تمام بڑے فلاسفرز بھی دانتوں میں انگلیاں داب لیں ۔
وہ بائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں
، مگر لکھتے کیا ہیں، گویا موتی پروتے ہیں۔ اردو ہو یا English، ان کی لکھائی کسی خوش نویس (Calligrapher) سے کم نہیں ہے ۔ بی ایس سی (BSc) میں جغرافیہ (Geography) بطور مضمون رکھا تو پوری کتاب زبانی یاد کر لی۔ یادداشت کو پختہ کرنے کے لیے ریلوے لائن کے اوپر میلوں پیدل چلتے اور واپسی پر ایک طویل باب ازبر کر چکے ہوتے۔
روایت شکنی ان کی طبیعت میں اس درجہ رچی بسی تھی کہ اگر کوئی بات عقل اور وجدان پر پوری نہ اترتی تو اسے بھری محفل میں رد کر دیتے ، مگر اس شگفتگی کے ساتھ جیسے سامنے والے سے کچھ سیکھنے کے لیے سوال اٹھا رہے ہوں۔
کرکٹ میں بائیں ہاتھ سے فاسٹ باؤلنگ (Fast Bowling) کرتے تو وسیم اکرم کی یاد تازہ ہو جاتی۔
تاہم اصل امتحان اس وقت آیا جب انہوں نے اپنے آبا و اجداد کے فرسودہ عقائد پر سوال اٹھا دیا۔ خاندان نے قطع تعلق کر لیا، مگر ان کے ماتھے پر شکن نہ آئی۔ ان کا مؤقف سادہ تھا:
"میرے نقطۂ نظر کو دلیل سے رد کریں۔”
قسمت کے دھنی بھی نکلے جہاں عشق ہوا وہیں شادی ہو گئی۔ بعدازاں وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ کراچی سے سویڈن (Sweden) منتقل ہو گئے اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ کراچی میں کیمسٹری کے استاد (Chemistry Teacher) رہے اور آج نصف صدی گزرنے کے باوجود ان کے سابق طلبہ (Students) محبت سے انہیں یاد کرتے ہیں۔
کسی بزرگ نے انہیں خطبۂ جمعہ کے لیے نامزد کیا تو ایسے معرفت افروز خطبات دیے کہ سننے والے دیر تک ان کے سحر میں گرفتار رہتے۔
ایک روز انہوں نے فون کر کے پوچھا:
"پاکستان میں کوئی ضرورت مند ہو تو نامزد کریں، میں نے کچھ Fund Raising کر رکھی ہے۔”
بچوں کی تربیت کے معاملے میں بھی ان کا رویہ غیر روایتی رہا۔ کبھی فکری جبر نہیں کیا بلکہ تجربے (Experience) اور مشاہدے (Observation) کے ذریعے سیکھنے کی طرف راغب کیا۔
میں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہمیشہ ان کے لبوں پر رہتی اور وہ نہایت دھیمے لہجے میں بڑی سے بڑی بات کہہ جاتے۔ نہ جھوٹ بولتے دیکھا، نہ ناشکری کرتے سنا — ہمیشہ راضی بہ رضا رہے۔
ایک وصف ان میں ہمیشہ نمایاں رہا: اگر کوئی عقیدہ عقل، منطق، علم اور تاریخ سے ثابت نہ ہو تو بلا جھجک اختلاف کرتے ، خواہ معاملہ روایتی عقائد ہی کا کیوں نہ ہو۔ یہی کہتے:
"اپنی دلیل سے میری دلیل کو توڑیں یا پھر اسے تسلیم کر لیں۔”
اسی "جرم” میں خاندان سے نکالے بھی گئے، مگر اپنے عقلی استدلال کو جذباتی رشتوں کی نذر نہ ہونے دیا۔
اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ غالب کے اس شعر کی مجسم تشریح ہیں:
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
ہماری اکثر بحث اس نکتے پر ہوتی ہے کہ اس کائنات میں کوئی شے Absolute نہیں سوائے ہستیِ باری تعالیٰ کے۔ باقی تمام سچائیاں Relative ہیں۔
میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ دلیل ہمیشہ حتمی سچائی تک نہیں پہنچاتی۔ بعض اوقات خاموشی کم علمی کا نتیجہ ہوتی ہے، اور کبھی مطالعے کی کمی کا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس علم الکلام (Scholastic Theology) سے آپ استدلال کر رہے ہوں، وہ کسی تیسرے کے لیے غیر مؤثر (Invalid) ہو۔
ایک بار میں نے ازراہِ تفنن ان سے کہا:
"فکر و آگہی کی منازل طے کرتے کرتے آپ اس سطح تک آ چکے ہیں کہ جنہیں آپ نے اپنا پیر و مرشد بنایا ہوا ہے، وہ مجھے قد میں آپ سے چھوٹے لگتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے پیر بننے کے لیے تیار ہوں تو ہم حاضر ہیں۔”
بقول اقبال:
؎ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن!
دعا ہے کہ وہ عقل و وجدان کے اس سفر میں کائنات کی ابدی سچائیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔
آخر میں ان کی نذر اپنے وہ چند اشعار جن میں اوپر بیان کردہ مضامین چھونے کی کوشش کی گئی ہے :
محبت، روشنی، سورج، ستارہ قید میں ہے
یہ عالم، اس میں جو کچھ ہے، وہ سارا قید میں ہے
اسے ہی چار سو دیکھیں تو نظریں ہیں مقید
مگر ہم یہ سمجھتے ہیں نظارہ قید میں ہے
مگر کیسے پرندہ جا نکلتا ہے فلک میں
کہ جب یہ کوزہ گر، مٹی، یہ گارا قید میں ہے
اسیرانِ خلا ٹھہرے جہانِ کن میں سب ہی
مکیں آزاد بھی ہوں تو ستارہ قید میں ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے