#کالم

آہ ۔۔۔۔ڈاکٹر ہارون الرشید تبسمسارے شہر کا اک جیسا نقصان

new desing


پروفیسر ڈاکٹر عابدہ بتول
یوں تو شاہینوں کے شہر سرگودھا میں بڑی بڑی نامور اورقد آور شخصیات نے جنم لیا انھیں کسی حد تک عزت اور پذیرائی بھی ملی مگر جو عزت اور شہرت ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب کے حصے میں آئی ہےوہ اس سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ایک محبِ وطن پاکستانی اور درویش صفت انسان شہرت سے بے نیاز انسان تھے جنھون نے قلم و قرطاس سے عمر بھر رشتہ استوار رکھا۔جس کے ذریعے انھوں نے نسلوں کی آبیاری کی ۔ان کی تحریروں سے لوگوں نے دانش اور وقار سیکھا۔آج ان کا تحقیقی ، تنقیدی اور تخلیقی سرمایہ یتیم ہو گیا ہے مگر وہ تحریریں تا دم آخریں ان کے نام سے جگمگاتی رہیں گی۔
آج ہم سب نے تمام ادبی اور روایتی تقاضے پورے کرتے ہوئے سالوں پر محیط سورج کو اس کے روایتی محور سے آزاد کیا ہے۔ حقیقی معنوں میں تجربہ کار استا د اور محقق و نقاد اور تخلیق کار پرانی شراب جیسا ہوتا ہے جس کو زمانہ لفظوں کی آشنائی کا وہ نشہ عطا کرتا ہے جو ہر بجھے ہوئے لہجے میں کھنک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خوف تلے دبی مجھ ایسی چنگاریوں کو شعلوں کی لِپٹوں میں سنورنے کا ہنر عطا کرتا ہے۔ فکر کی دنیا میں ہستی کا وجود نہیں ہوتا لیکن ان جیسے مفکر عظمتوں کی وہ اماج گاہ ہوتے ہیں جہاں فکری زیست قدم بوسی کو ورطہ حیرت کے حصار میں سمو دیتی ہے۔ سمندر خشک نہیں ہوتے وہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب جیسے علم کے ہوں یا لفظوں کے ۔دریاؤں کی روانی ہو یا ہم ایسے صحراؤں کی تشنہ لبی انھیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ وادیوں کی آہ و بکا کبھی ان جیسے عظیم لوگوں کو فراموش نہیں کر سکتی۔فاقی کشوں کی جھونپڑیوں کے اندھیرے انھیں چراغ جلانے سے بعض نہیں رہنے دیتے اور دور تاریک کونوں میں کسملاتی زندگیوں کی نیم وا آنکھوں میں خوابوں کی جھلک ان کے مخملی بستروں سے اجتناب کا سبب بنتی ہےاور یہ ادبی کارواں کی مشعل ہاتھ میں لیے رؤے رواں ہونے کا فریضہ سانسوں کی رمک باقی رہنے تک ادا کرتے ہیں ۔یہ بظاہر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر ان کا ادبی سرمایہ ہمیشہ ان کا نام روشن کرتا رہتا ہے ۔
استادِ محترم ڈاکٹر عبدالکریم خالد صاحب کا قطعہ جو انھوں نے بطورِ خاص ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب کے حوالے سے 23 فروری 2026ء کو انھیں خراجِ تحسین و محبت پیش کیا ہے کہ:
یہ کس کو آج ہم نے سپردِ زمیں کیا
آنسو فلک کی آنکھ میں کس انتقال پر
ہارون تیری موت تو رحلت ہے اُس طرف
میں غم سے بھر گیا ہوں ترے ارتحال پر

ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم سے میرا پہلا تعارف سرگودھا کی معروف علمی ،ادبی شخصیت ذالفقار احسن کے توسط سے ہوا۔ ان دنوں وہ اقبال شناس خواتین کے موضوع پر ایک کتاب ترتیب دے رہے تھے اور انھیں معلوم ہوا کہ میرا ایک کالم 2003ء میں روزنامہ پاکستان میں "اقبال اور جمہوریت” کے عنوان سے شائع ہواتھا ۔انھوں نے ذوالفقار احسن سے کہا کہ وہ اس مضمون ساتھ میرا تعارف یعنی سی۔وی بھی منگوائیں۔مجھے وہ مضمون بھیجنے میں کافی تاخیر ہوئی۔اس وقت مجھے اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ اتنی بڑی شخصیت سے یہ عزت افزائی کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتی۔میں نے کچھ دن بعد اپنا سی۔وی اور وہ مضمون ارسال کیا ۔میری اس لاپروائی کی وجہ سے ان کی کتاب چھپنے میں تاخیر ہوئی مگر انھوں نے انتظار کیا اور اس مضمون کو اپنی کتاب کا حصہ بنایا اور مضمون سے پہلے میرا بھر پور تعارف بھی شائع کیا اور بعد ازاں وہ کتاب بذریعہ ڈاک مجھ تک پہنچائی۔اس دن سے تا دم آخریں ٹیلی فون پر رابطہ رہتا وہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے اور ہر فون کال کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لازمی لگا تے اور ایک محبِ وطن ہونے کا ثبوت اس بات سے دیتے ۔ان کی وطن سے محبت تا دمِ آخر قائم رہی وہ کسی تقریب میں گفتگو کرتے، کوئی وڈیو پیغام ریکارڈ کرواتے یا فون پر بات کرتے تو آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا نہ بھولتے۔
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب سے پہلی بالمشافہ ملاقات ڈاکٹر وزیر آغا کے صد سالہ یوم پیدائش کی مناسبت سے آفاقِ ادب پاکستان (بانی و صدر ڈاکٹر عابدہ بتول) کے موقع پر ہوئی۔ وہ میری اس تقریب میں حوصلہ افزائی کی خاطر اور ڈاکٹر وزیر آغا صاحب جو سرگودھا کی سرزمین کا فخر ہیں کی محبت میں تشریف لائے۔وہ اپنے ساتھ ایک تحفہ لائے اور اس کے ساتھ مجھے ایک ہزار روپے کا نوٹ دیا تو میں نے کہا سر آپ اتنی دور سے سفر کر کے اس تقریب کو رونق بخشنے آئے ہیں اس لیے میں یہ پیسے نہیں لے سکتی تو میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور کہا کہ بیٹا یہ ہمارا کلچر ہے کہ ہم بہنوں ،بیٹیوں سے ملنے خالی ہاتھ نہیں جاتے۔ان کا یہ عمل مجھے آج تک حیرت میں ڈالے ہوئے ہے کہ عام طور پر معروف لوگ تو اپنی قیمت وصول کرتے ہیں اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی جگہ بغیر معاوضے کے جائیں۔مگر الحمدللہ آفاقِ ادب پاکستان میں بہت قد آور شخصیات نے شرکت کی اور ہمیشہ حوصلہ افزائی مگر جو ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب نے حوصلہ افزائی کی وہ اپنی جگہ ایک اعزاز ہے۔اس کے بعد ان سے ملاقاتوں کا سلسلسہ چل نکلا اور آفاق ِ ادب پاکستان کے زیرِ اہتمام استادِ محترم ڈاکٹر وحید الزماں طارق صاحب کی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں بھی خاص طور پر سرگودھا سے تشریف لائے ۔ وہ ڈاکٹر وحید الزماں طارق صاحب سے بے پناہ محبت اور ان کا احترام کرتے تھے۔
ان کا میرے لیے ایک اور اعزاز یہ تھا کہ جہاں وہ بڑی بڑی شخصیات اور عمدہ موضوعات پر تحریریں لکھتے وہاں انھوں نے مجھ ادنیٰ سی طالبہ پر بھر پور مضمون لکھا اور خوبصورت تصاویر اور میری کتابوں کا عکس بھی لگایا۔بعدازاں اس مضمون کو اپنی کتاب کا حصہ بنایا۔جب وہ کتاب مجھ تک پہنچی تو الفاظ گنگ

آہ ۔۔۔۔ڈاکٹر ہارون الرشید تبسمسارے شہر کا اک جیسا نقصان

ریاستی فیصلے، عوامی اذیت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے