ریاستی فیصلے، عوامی اذیت
تحریر، محمد ندیم بھٹی
کہتے ہیں ریاست ماں جیسی ہوتی ھے۔ ماں اولاد پر بوجھ نہیں ڈالتی، اس کا بوجھ خود اٹھاتی ھے۔ مگر ہمارے ہاں معاملہ کچھ الٹ دکھائی دیتا ھے۔ یہاں جب بھی ریاستی خزانہ دباؤ میں آتا ھے تو سب سے پہلے عوام کی جیب کو سہارا بنایا جاتا ھے۔ بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ بھی اسی روایت کی ایک کڑی محسوس ہوتا ھے۔ ایوانوں میں یہ فیصلہ محض ایک فائل پر دستخط تھا، مگر گھروں میں یہ ایک قیامت بن کر اترتا ھے۔
مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ھے۔ آٹا، چینی، دالیں، گھی، ادویات ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ھے۔ ایسے میں جب بجلی کا بل ہاتھ میں آتا ھے تو یوں لگتا ھے جیسے کسی نے جلتی آگ پر تیل ڈال دیا ھو۔ ایک تنخواہ دار شخص جو مہینے کے اختتام تک کیلکولیٹر لے کر حساب کرتا ھے، اس کے لیے چند ہزار روپے کا اضافہ بھی پہاڑ بن جاتا ھے۔
بجلی کے نرخوں کا تعین کرنے والا ادارہ National Electric Power Regulatory Authority ہر بار خسارے اور گردشی قرضے کا حوالہ دیتا ھے۔ سوال یہ ھے کہ یہ گردشی قرضہ آخر کب تک عوام کے سر منڈھتا رہے گا ؟ کیا اس کی جڑیں کبھی کاٹی جائیں گی؟ یا ہر چند ماہ بعد ایک نیا اضافہ کر کے زخم پر نمک چھڑک دیا جائے گا؟ اگر چور راستہ کھلا رھے اور نقصان پورا کرنے کے لیے ایماندار شہری کو سزا دی جائے تو اسے انصاف نہیں کہا جاتا۔
رمضان المبارک رحمتوں اور آسانیوں کا مہینہ ھے۔ مسلم دنیا میں اس مہینے میں اشیائے ضروریہ سستی کی جاتی ہیں، سبسڈی دی جاتی ھے، یوٹیلیٹی بلوں میں ریلیف دیا جاتا ھے۔ مگر پاکستان میں برسوں سے الٹی گنگا بہہ رہی ھے۔ یہاں رمضان آتے ہی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ کیسی ترجیحات ہیں؟ کیا ریاست کو اپنے شہریوں کی نفسیات اور جذبات کا احساس نہیں؟
گزشتہ برسوں میں عوام نے خود اپنے زورِ بازو پر سولر توانائی کی طرف قدم بڑھایا۔ اپنی جمع پونجی لگا کر پینل لگائے، قرض لیے، بچت خرچ کی تاکہ نہ لوڈشیڈنگ ھو اور نہ ہی بلوں کا عذاب۔ اس سے قومی گرڈ پر دباؤ کم ھوا۔ مگر اب جب سولر صارفین کی تعداد بڑھی تو نیٹ میٹرنگ کے قواعد بدلنے اور بنیادی ٹیرف بڑھانے کی بات کی جا رہی ھے۔ گویا جو خود کو بچانے نکلے، اسے بھی دائرے میں واپس کھینچ لیا جائے۔
وزیراعظم یقیناً معاشی دباؤ، آئی ایم ایف کی شرائط اور مالیاتی خسارے کے دلائل سنتے ھوں گے۔ مگر کیا کسی نے یہ بتایا کہ ایک چھوٹا صنعتکار بجلی مہنگیھ ھونے کے بعد کتنے مزدور فارغ کرے گا؟ ایک دکاندار کتنی قیمتیں بڑھائے گا؟ اور مہنگائی کی نئی لہر کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرے گی؟
یہ محض بجلی کا بل نہیں، یہ ایک گھر کے سکون کا سوال ھے۔ جب ایک باپ بل ہاتھ میں لے کر سوچتا ھے کہ بچوں کی فیس دے یا بجلی کا کنکشن کٹنے سے بچائے، تو یہ فیصلہ محض معاشی نہیں بلکہ جذباتی کرب بھی ہوتا ھے۔ ریاست اگر اپنے شہری کو اسی دو راہے پر لا کھڑا کرے تو پھر فاصلہ بڑھتا ھے۔
آئین پاکستان شہریوں کو بنیادی حقوق دیتا ھے۔ بجلی آج کے دور میں عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ھے۔ ایسے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس کا کردار بھی اہم
ھو جاتا ھے۔ کیا بنیادی سہولت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوامی مفاد کے خلاف نہیں دیکھا جانا چاہیے؟ کیا یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ کیا تمام متبادل راستے آزما لیے گئے ہیں؟
کہا جاتا ھے کہ کشتی جب بھنور میں ھو تو سب کو چپو چلانا پڑتا ھے۔ مگر ہمارے ہاں چپو بھی عوام چلاتے ہیں اور پانی بھی وہی نکالتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کنارے پر کھڑے تماشہ دیکھتے ہیں۔ اگر قربانی ناگزیر ھے تو سب سے پہلے مراعات یافتہ طبقہ آگے آئے۔ سرکاری پروٹوکول کم ھوں، مفت یونٹس ختم ھوں، بڑے نادہندگان سے سختی سے وصولی ھو۔ تب جا کر عوام کو یقین
ھوگا کہ بوجھ منصفانہ تقسیم ھوا ھے۔
بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ صرف اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ بھی بن چکے ہیں۔ ریاست کی طاقت اس کے ہتھیاروں یا عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے اعتماد میں ھوتی ھے۔ جب یہ اعتماد متزلزل ہوتا ھے تو روشن شہر بھی اندھیرے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ھے کہ فیصلہ ساز عوام کی دھڑکن سنیں۔ فائلوں کے اعداد و شمار سے نکل کر گلی محلوں کی حقیقت دیکھیں۔ اگر مالی توازن درست کرنا ھے تو شفافیت، اصلاحات اور مساوی بوجھ کی پالیسی اپنائیں۔ ورنہ ہر نیا نوٹیفکیشن عوام کے دل میں ایک نیا شگاف ڈالے گا۔
ریاستی فیصلے اگر انصاف، ہمدردی اور شفافیت کے ساتھ ھوں تو وہ قربانی بھی قبول کر لی جاتی ھے۔ مگر جب فیصلے یکطرفہ محسوس ھوں تو وھی قربانی اذیت بن جاتی ھے۔ اور یہی آج کا سب سے بڑا المیہ ھے،کہ فیصلے ریاستی ہیں، مگر اذیت عوامی۔






