#کالم

امید کا چراغ اور انتہا پسندی کا اندھیرا

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں
محکمہ داخلہ پنجاب نے عالمی یوم انسداد تشدد و انتہا پسندی پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جس میں جناب غلام صغیر شاہد چیف کوآرڈی نیشن آفیسر پنجاب سنٹر آف ایکسی لینس برائے انسداد انتہا پسندی کی دعوت پر شرکت کا موقع ملا اور میں نے محسوس کیا کہ یہ تقریب نہیں بلکہ فکری وسماجی منشور ہے ۔ہمارا مسئلہ صرف سکیورٹی یا قانون نہیں بلکہ سماجی ساخت ،فکری آلودگی اور معاشی ناانصافی کا ہے ۔۔۔ جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے ،ہماری سوچ اور ہمارے اجتماعی رویوں کو شکار کر رہا ہے کیونکہ تشدد صرف گولی اور بارود کا نام نہیں ۔۔۔ بلکہ وہ سوچ ، وہ زبان ہے جو اختلاف کو برداشت نہیں کرتی۔۔۔اور دوسرے کو کمتر سمجھتی ہے۔۔۔جو نفرت پھیلاتی ہے ۔۔۔وہ رویہ ہے جو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے ۔۔۔ انتہا پسندی کا آغاز ذہن سے شروع ہوتا ہے اور جب ذہن آلودہ ہو جائے تو معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے، معاشرے میں تشدد اور عدم برداشت کی کئی دیگر بنیادی وجوہات بھی ہوتی ہیں۔۔۔مثلاً تعلیمی کمزوری،سماجی ناہمواری،غلط بیانیے اور سوشل میڈیا کا منفی استعمال۔۔۔لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ ان سب کے پیچھے ایک بہت اہم اور بنیادی سبب ہے ۔۔۔معاشی ناانصافی۔۔۔کیونکہ جب معاشرے میں ایک طبقہ آسائشوں میں زندگی گزار رہا ہو جبکہ دوسرا طبقہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو تو ان عوامل سے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت جو کہ ہمارے وجود سے ہی تنگ و پریشان ہے وہ ان معاشی ناہمواریوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔۔۔جب تک معاشی عدم مساوات موجود رہے گی اور دولت و وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز رہیں گئے۔۔۔ جب تک نوجوانوں کو تعلیم کے بعد باعزت روزگار نہیں ملے گا، تب تک دلوں میں بے چینی باقی رہے گی۔۔۔اور جہاں بے چینی ہو وہاں انتہا پسند بیانیہ آسانی سے جگہ بنالیتاہے۔۔۔اور انڈیا جیسے خبیث دشمن اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔۔۔اس لیے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی اور عدم برداشت جیسے ناسور کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے ہی نہیں جیتی جا سکتی۔۔۔لہذا میرا پختہ یقین ہے کہ یہ جنگ سکولوں میں جیتی جائے گی۔۔۔یہ جنگ روزگار کے مواقع پیدا کر کے جیتی جائے گی۔۔۔اور یہ جنگ معاشی انصاف و مساوات کے ذریعے جیتی جائے گی۔۔۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان شدت پسندی کی طرف نہ جائیں اور معاشرے میں عدم برداشت پیدا نہ ہو تو ہمیں لازماً امید کی روشنی پھیلانی ہو گی۔۔۔روزگار کی امید ،ترقی کی امید،عزت کی امید،تحفظ کی امید ۔۔۔ہر شام ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم پروگرامز میں تواتر سے یہ کہنا کہ حکومت کو تو پتہ ہی نہیں ۔۔۔ یہ حکم اوپر سے آیا ہے۔۔۔بھی چھوڑنا ہوگا۔۔۔ہمیں لازماً تعلیم کو روزگار سے جوڑنا ہوگا اسی طرح سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط کیا جائے تا کہ کوئی بھی خاندان بھوک اور افلاس کا شکار نہ ہو۔۔۔اور معاشی پالیسیاں ایسی ہوں جو صرف ترقی نہیں بلکہ منصفانہ ترقی کو یقینی بنائیں۔۔۔ یہ جدوجہد صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ریاست ،تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماوں ،میڈیا سمیت ہر شہری کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔۔۔ہم سب کو امید کاچراغ جلانا ہوگا اور جب امید پیدا ہوگی ، روشنی پھیلے گی ، تو انتہا پسندی خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔۔۔ناامیدی کے اندھیرۓ دم توڑ دیں گے ۔۔۔صرف عالمی دن پر نہیں بلکہ ہر دن ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم ناصرف تشدد کی مذمت کرینگے بلکہ ان وجوہات کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرینگے جو تشدد کو جنم دیتی ہیں ، بےچینی پیدا کرتی ہے اور بےچینی جہاں ہو گی وہاں ملک دشمنوں اور شدت پسند عناصر کے لیے زمین ہموار ہو جاتی ہے ۔۔۔ ہمیں خاص طور پر معاشی ناانصافی اور عدم مساوات کو ختم کرنا ہو گا۔۔۔اللہ ہمیں ایک منصفانہ ،پرامن اور باوقار معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

امید کا چراغ اور انتہا پسندی کا اندھیرا

ادھوری پسلی، مکمل رشتہ

امید کا چراغ اور انتہا پسندی کا اندھیرا

24/02/2025 Daily Sarzameen

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے