ادھوری پسلی، مکمل رشتہ
تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (غازی/ہری پور)
انسانی تہذیب کی داستان پانچ لاکھ سال قدیم ہے، مگر غاروں کی گمنامی سے شہروں کی تابانی تک کا راستہ جس ہستی نے ہموار کیا، وہ عورت ہے۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ پتھر کے ابتدائی دور سے لے کر زراعت کی ابتدا تک، انسانی بقا اور تمدن کی تشکیل میں عورت کا کردار کلیدی رہا ہے۔ لباس کی تیاری ہو، اناج کو قابلِ ہضم بنانا ہو یا تپتی زمین پر گھاس کا بستر بچھانا؛ یہ تمام ایجادات عورت ہی کی فکری کاوشوں کا ثمر ہیں۔ بقول شاعر:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم تاریخ میں جب عورت کی "فطری رہنمائی” قائم تھی، تب دنیا جنگ و جدل اور شاہی محلات کے جبر سے پاک تھی۔ عورت نے کبھی تخت و تاج کی ہوس میں معصوم انسانوں سے بیگار نہیں لی اور نہ ہی اہرام جیسے فلک بوس مدفن تعمیر کروائے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق، مرد نے تاریخ کے مختلف ادوار میں جو عالیشان عمارتیں اور ریاستیں قائم کیں، وہ دراصل اس کے اندرونی "احساسِ کمتری” کا ردِعمل تھا، جو وہ عورت کی تخلیقی صلاحیتوں کے مقابلے میں محسوس کرتا رہا۔
مرد اور عورت کا رشتہ محض ضرورت کا نہیں بلکہ ایک ایسی تقدیس کا حامل ہے جس کے بغیر انسانی وجود ادھورا ہے۔ اسلام نے اس فطری رشتے کو "نکاح” کے ذریعے ایک خوبصورت قانونی اور اخلاقی شکل دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”اور ان (عورتوں) کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔” (سورۃ النساء: 19)
اسی انسانی نفسیات اور سماجی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی شریعت، جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، مرد کو چار شادیوں تک کی اجازت دیتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”پس جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو، دو دو اور تین تین اور چار چار۔” (سورۃ النساء: 3)
تاہم، تعددِ ازدواج کا یہ تصور محض مرد کی خواہش تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایک گہری سماجی حکمتِ عملی پنہاں ہے۔ یہ نظام جہاں مرد کی جذباتی اور نفسیاتی تکمیل کرتا ہے، وہیں معاشرے کی بیوہ اور مطلقہ خواتین کو دوبارہ باعزت زندگی اور تحفظ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ جب ایک مرد دوسری یا تیسری شادی کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، تو وہ اکثر کسی بکھرے ہوئے گھر یا اجڑے ہوئے آنگن کو دوبارہ آباد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی معاشرتی خدمت ہے جسے ہماری فرسودہ مشرقی روایات نے "جرم” بنا دیا ہے۔
آج کے دورِ جدید میں، جہاں تنہائی اور ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے، وہاں دوسری شادی کا فیصلہ محض جنسی جبلت نہیں، بلکہ ایک ایسے رفیقِ حیات کی تلاش ہوتی ہے جو زندگی کے کرب ناک ماحول میں سکون فراہم کر سکے۔ مشرقی معاشرت کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بیوی شوہر کو محض اپنی "ملکیت” تصور کرتی ہے، جبکہ اسلام وسعتِ ظرفی کا درس دیتا ہے۔ ایک عظیم بیوی وہ ہے جو مرد کی صلاحیتوں کو پہچانے اور اسے معاشرے کا ایک فعال رکن بنانے میں مدد دے۔
یاد رکھیے، انا کا مضبوط خول صرف محبت ہی توڑ سکتی ہے۔ شادی کا بندھن سماجی ضرورت ہو سکتا ہے، مگر محبت کا رشتہ دائمی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہم نے تعددِ ازدواج کے اس شرعی اور فطری نظریے کو دورِ حاضر کے مسائل کے حل کے طور پر تسلیم نہ کیا، تو معاشرتی منافقت بڑھتی رہے گی۔
مرد اور عورت کی دوبارہ شادی کا حق دراصل معاشرے کو اخلاقی انحطاط سے بچانے کا نام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان فرسودہ رکاوٹوں کے خلاف فکری جنگ کریں جو فطرت کے راستے میں حائل ہیں، تاکہ زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ تکمیل کے مراحل طے کر سکے۔






