امریکی دفاعی حکمتِ عملی اور ایٹمی پراجیکٹ مین ھاٹن کی اھمیت,
تحریر، محمد ندیم بھٹی
عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ھے کہ طاقت کا توازن ھی امن اور استحکام کی بنیاد بنتا ھے۔ بیسویں صدی کے وسط سے لے کر آج تک اگر کسی ملک نے اپنی عسکری، سائنسی اور معاشی قوت کے ذریعے عالمی نظام پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ھے تو وہ امریکہ ھے۔ خصوصاً ایٹمی طاقت کے میدان میں امریکہ کی حیثیت ایک ایسی سپر پاور کی ھے جس نے نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی کوشش کی ھے بلکہ عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو بھی اپنی حکمتِ عملی کے مطابق ترتیب دیا ھے۔ امریکہ کی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون اس کی ایٹمی قوت ھے، جو صرف ہتھیاروں کے انبار کا نام نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور جدید نظام پر مبنی ھے۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران شروع ھونے والا مین ہیٹن پراجیکٹ امریکہ کو ایٹمی دور میں داخل کرنے کا سبب بنا۔ 1945 میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملوں کے بعد دنیا ایک نئے اور خوفناک عہد میں داخل ھو گئی۔ اس واقعے نے عالمی طاقت کے توازن کو یکسر بدل دیا اور امریکہ کو غیر معمولی عسکری برتری حاصل ھوئی۔ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے ایٹمی ہتھیار تیار کیے اور استعمال کیے، اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ایک فیصلہ کن عالمی قوت سمجھتا ھے۔ اس کامیابی نے اسے سائنسی ترقی، عسکری تنظیم اور حکمتِ عملی کے میدان میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
امریکہ کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد “ڈیٹرنس” یعنی باز رکھنے کی پالیسی پر قائم ھے۔ اس نظریے کے مطابق اگر کسی ملک کے پاس اتنی طاقت موجود ھو کہ وہ دشمن کو ناقابلِ برداشت نقصان پہنچا سکے تو دشمن حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچتا ھے۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان یہی نظریہ کارفرما رہا۔ دونوں ممالک کے پاس ہزاروں ایٹمی ہتھیار موجود تھے اور یہی خوف بڑی جنگ کو روکنے کا سبب بنا۔ امریکہ آج بھی اپنی ایٹمی طاقت کو اسی حکمتِ عملی کے تحت برقرار رکھتا ھے تاکہ کسی بھی ممکنہ دشمن کو جارحیت سے باز رکھا جا سکے۔
امریکہ کا نیوکلیئر ٹرائیڈ نظام اس کی دفاعی برتری کی بنیاد ھے۔ زمین سے فائر ہونے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل، سمندر میں موجود آبدوزوں سے چھوڑے جانے والے میزائل، اور فضا میں پرواز کرنے والے اسٹریٹجک بمبار طیارے مل کر اسے مکمل جوابی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ یہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ھے کہ اگر امریکہ پر اچانک حملہ بھی ھو جائے تو وہ مؤثر اور فوری جواب دے سکے۔ آبدوزوں میں نصب میزائل خاص طور پر اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ خفیہ طور پر سمندر کی گہرائی میں موجود رہتے ہیں اور دشمن کے لیے ان کا سراغ لگانا مشکل ھوتا ھے۔ اس ہمہ جہت نظام کی موجودگی امریکہ کو دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک مضبوط دفاعی پوزیشن دیتی ھے۔
امریکہ کی برتری کا ایک اہم پہلو اس کی جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی تحقیق ھے۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو مسلسل جدید بناتا رہتا ھے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مضبوط رکھتا ھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری فیصلہ کیا جا سکے۔ سیٹلائٹ نگرانی، میزائل دفاعی پروگرام، سائبر سیکیورٹی اور خلائی نگرانی کے جدید نظام امریکہ کی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اس کے پاس وہ مالی وسائل بھی موجود ہیں جو اسے اس میدان میں سبقت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جدید سائنسی ادارے اور تحقیقی مراکز اس کی عسکری طاقت کو مسلسل تقویت دیتے رہتے ہیں۔
امریکہ اپنے آپ کو صرف عسکری طاقت کی بنیاد پر ممتاز نہیں سمجھتا بلکہ اس کے نزدیک اس کی اصل برتری اس کے عالمی اتحادیوں اور خاص حمایتیوں کے وسیع نیٹ ورک میں بھی پوشیدہ ھے۔ یورپ کے بیشتر ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور نیٹو کے ذریعے اس کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں بندھے ھوئے ہیں۔ امریکہ اپنے اتحادی ممالک کو “ایٹمی چھتری” فراہم کرتا ھے، جس کا مطلب یہ ھے کہ اگر کسی اتحادی ملک پر حملہ ھو تو امریکہ اس کے دفاع کے لیے اپنی ایٹمی صلاحیت استعمال کر سکتا ھے۔ یہ یقین دہانی امریکہ کو عالمی سیاست میں قائدانہ حیثیت عطا کرتی ھے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا جیسے ممالک امریکہ کے خاص حمایتی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ممالک عسکری تعاون، مشترکہ مشقوں، دفاعی معاہدوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے امریکہ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا مشرقی ایشیا میں امریکہ کے اہم اتحادی ہیں، جبکہ یورپی ممالک اس کے ساتھ سیاسی اور دفاعی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ان حمایتیوں کی موجودگی امریکہ کو ایک تنہا طاقت نہیں بلکہ ایک عالمی اتحاد کا مرکز بناتی ھے۔ امریکہ سمجھتا ھے کہ اس کے یہ حمایتی اس کی پالیسیوں کو عالمی سطح پر جواز اور حمایت فراہم کرتے ہیں، اور یہی وسیع اتحاد اسے دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ بااثر بناتا ھے۔
امریکہ کی ممتاز حیثیت کا ایک اور سبب اس کی مضبوط معیشت ھے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ھونے کی وجہ سے وہ دفاع پر خطیر رقم خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ھے۔ اس کی جامعات، تحقیقی ادارے اور دفاعی صنعتیں جدید ٹیکنالوجی تیار کرتی ہیں جو نہ صرف فوجی میدان میں بلکہ سویلین شعبوں میں بھی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، سائبر ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کی تیاری میں برتری بھی اس کی سپر پاور حیثیت کو مستحکم کرتی ھے۔
امریکہ خود کو جمہوریت، آزادی اظہار اور انسانی حقوق کا علمبردار بھی قرار دیتا ھے۔ وہ یہ مؤقف اختیار کرتا ھے کہ اس کی عالمی قیادت صرف طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر بھی قائم ھے۔ اس کے حمایتی ممالک بھی اکثر انہی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ھے کہ بعض اوقات امریکہ کی خارجہ پالیسی طاقت کے استعمال پر زیادہ انحصار کرتی ھے اور اس کی مداخلت پسندی عالمی کشیدگی کو بڑھا سکتی ھے۔ اس کے باوجود امریکہ






