مکافات عمل
دنیا مکافات عمل ہے. اکثر سننے کو ملتا ہے. مطلب انسان جو بھی عمل کرتا ہے. اس کا صلہ اس کو لازمی ملتا ہے. طاقت کے نشہ میں کبھی بھی بڑے بول مت بولیں. آج پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آنکھ کو لیکر بڑا شور مچا ہوا ہے. اگر پاکستانی عوام کی یادداشت کمزور نہ ہو. تو آپ کو معلوم ہوگا. کہ موصوف کہتے تھے. کہ میں ان کو رولاؤ گا. بلکہ اس فقرہ پر گانے بنائے گے. جس پر ان کے کارکنان ناچتے تھے. امریکہ میں کھڑے ہو کر کہا گیا تھا. کہ میں واپس جا کر میاں محمد نواز شریف کے جیل سیل سے اے سی اتروا دو گا. میں ان سب چوروں کو نہیں چھوڑو گا. اپنے دور اقتدار میں سوائے انتقام کے اس شخص نے کچھ نہیں کیا. اپنے سیاسی مخالفین کو ہر طرح کی اذیت دینا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا. پاکستان مسلم لیگ ن کی تمام مرکزی قیادت کو پابند و سلاسل کر دیا گیا. سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی آخری رسومات میں بھی صحیح سے شامل نہیں ہونے دیا گیا. ان کے آنکھوں کے سامنے جیل میں ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا. ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف کو بیٹے حمزہ شہباز شریف سمیت گرفتار کیا گیا. دوران قید ان سے ذلت آمیز رویہ اختیار کیا گیا. اس کے جواب میں میاں محمد نواز شریف نے ہمیشہ ایک ہی جملہ بولا. کہ میں نے اپنا فیصلہ اپنے اللہ کے سپرد کر دیا ہے. وہی مجھے انصاف دے گا. اسی طرح سے رانا ثناء اللہ خاں، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال ،میاں جاوید لطیف، خواجہ محمد آصف ،رانا تنویر سمیت تمام مرکزی قیادت پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے انہیں جیل بھیج دیا گیا. ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے. رانا ثناء اللہ خاں کو سزائے موت والی کوٹھڑی میں بند کیا گیا. انکی کوٹھڑی کے قریب تندور جلایا جاتا تھا. تاکہ انہیں جون کی گرمی میں مزید تپش دے سکے. انہیں فرش پر سونے کا حکم تھا. فرش پر چینی پھینک دی جاتی. تاکہ کیڑے مکوڑے اسکیں. کئی کئ روز تک انہیں کھانا نہیں دیا جاتا تھا. رانا ثناء اللہ خاں کو کسی قسم کی سہولت میسر نہیں تھی. دروان قید ان کی ایک آنکھ کی بینائی اور ایک کان کی سماعت متاثر ہوئی. مگر اس مرد آہن نے کبھی شکوہ نہیں کیا. بلکہ صبر و تحمل سے تمام سختیاں برداشت کی. احسن اقبال کے بازو میں گولی لگی تھی. ان کو علاج کی اجازت نہیں دی گئی. جس کی وجہ سے ان کا ایک بازو کمزور ہو گیا. خواجہ محمد آصف پر بھی بدترین تشدد کیا گیا. خواجہ سعد رفیق پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑے گئے. میاں محمد نواز شریف کو علاج کی مناسب سہولیات میسر نہ تھیں. جس کی وجہ سے ان کی صحت روز بہ روز گرتی جا رہی تھی. ان کی بیماری کا مذاق اٹھایا جاتا تھا. عمران خان بڑے غرور سے کہتے تھے. کہ یہ لوگ جیل میں جاتے ہی بیمار پڑ جاتے ہیں. آج عمران خان جو جیل میں اپنی منشا کے مطابق کھاتا پیتا ہے. ورزش کرتا ہے. عدالت اس کی صحت کے بارے میں فکر مند رہتی ہے. اس کی تیمارداری کے لیے لوگ بھیجے جاتے ہیں. جو باہر آکر بتاتے ہیں. کہ عمران خاں کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے. جس کے نتیجہ میں سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے. کاش عمران خان کی صحت کی فکر کرنے والے ان سے سوال پوچھتے. کہ آپ بتاؤ. جب آپ طاقت کے نشہ میں فرعون بنے ہوئے تھے لوگوں کو رولانے کے دعوے کرتے تھے. آج تم خدا کی پکڑ میں ہو. اور تمھارے اپنے گھر والے رو رہے ہیں. میاں محمد نواز شریف اور رانا ثناء اللہ خاں کہہ رہے ہیں کہ اس کو علاج کی بہترین سہولیات مہیا کی جائے . یہ اعلی ظرفی ہوتی ہے. کاش عمران خان نے اپنے دور حکومت میں سوائے انتقام کے کچھ کیا ہوتا. مگر نہیں. کیونکہ عمران خان لوگوں کی باتوں پر یقین کرتے تھے. انہوں نے اپنے ارد گرد موجود خوشآمد پرستوں کی باتوں میں آکر سوائے انتقام کے کوئی کام نہیں کیا. میاں محمد نواز شریف کے الفاظ کہ میں نے اپنا معاملہ اپنے رب کے سپرد کر دیا ہے. وہی مجھے انصاف دے گا. آج عمران خان خود اس حالت میں ہے. جس میں وہ دوسروں کو رکھنا چاہتا تھا. ہمارے ملک میں اپنی بیماری کو سچ ثابت کرنے کے لیے جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں. کلثوم نواز شریف کی بیماری پر ان کا مذاق بنایا گیا تھا. سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا. ان کو علاج کی اجازت نہیں تھی. یہ وہ تمام واقعات ہیں. جو عمران خان نے اپنے دور حکومت میں سر انجام دیئے. سیاست ایک بے رحم چیز ہے. جو کسی کو نہیں بخشتی. کوشش کرے. جب آپ اقتدار میں ہو. تو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے. ناکہ مشکلات. انسان کا اقتدار سدا نہیں رہنا. ہم دعاگو ہیں. کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو صحت عطا فرمائے. اور انہیں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونے کی توفیق بھی عطا فرمائے. دنیا مکافات عمل ہے. اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے






