سفارش نہیں میرٹ پر سلکشن کی ضرورت ہے
أج کا اداریہ
۔
شاھینوں کی بھارتی بلے بازوں اور بولرز کے ھاتھوں ایک بار پھر درگت ‘ ہزیمت اور أٹھویں شکست’ أئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے شروع ہونے سے قبل ہی خبروں میں رہنے والے پاکستان اور بھارت کے میچ کا شائقینِ کرکٹ کو بڑی ہی بے صبری سے انتظار تھا۔
میچ ہوگا کہ نہیں ہوگا اس گپ شپ کے بعد سری لنکا میں ہونے والے میچ میں اتوار کے روز جب بھارت اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں مدِ مقابل آئیں تو ٹاس جیتنے کے بعد فیلڈنگ کا فیصلہ اور میچ کی ابتدا میں ابھیشیک شرما کی پہلے ہی اوور میں وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی شائقین کو امید تھی کہ شاید ان کی ٹیم آج میچ جیت سکتی ہے۔
تاہم بھارت ابتدائی نقصان کے باوجود بھی سنبھلی اور ایسے سنبھلی کہ ایک وقت پر پاکستانی بولرز کو وکٹ کے چاروں طرف چوکے اور چھکے لگتے رہے۔
ایشان کشن نے 40 گیندوں پر 77 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی اور ان ہی کی بدولت بھارت کی ٹیم نے پاکستان کو 176 رنز کا ہدف دیا ، جو کہ پاکستانی ٹیم حاصل نہ کرسکی اور 61 رنز سے یہ میچ ہار گئی
گزشتہ روز کولمبو کے کرکٹ میدان میں تاریخ ایک بار پھر دھرائی گئی پاکستان کی بیٹنگ چلی نہ بولنگ ۔ اوپر سے ٹاس جیت کو پہلے بھارتی بلے بازوں کی بیٹنگ کی دعوت دینا أبیل مجھے مار کے مترادف ٹھہرا۔میچ کے دوران ٹی وی سکرین پر دو پاکستانی مائل سٹنونز ( mile stones) کے طور پر شاھین اور ابرار کے نام دکھائی دیے ۔دونوں کی رج کے پٹائی ہوئی ۔جو بات کرکٹ کے بنیادی طالبِ علم بھی جانتے ہیں۔ وہ بھاری بھاری بھرکم معاوضے بٹورتے کوچ حضرات کے سر پر سے کیوں گزر جاتی ہے۔
معاملہ یا تو سادگی بھری لاعلمی کا ہے یا پھر ٹیلی وژن براڈ کاسٹنگ کی مجبوریوں کے پیشِ نظر ایسے بے تُکے فیصلے جڑے جاتے ہیں، جو اپنی توجیہہ سے ہی قاصر ہوں۔
ڈیڑھ برس پہلے جب بابر اعظم اور شاہین آفریدی کی ٹیسٹ ٹیم سے نکالا گیا تو شور مچ گیا۔ رمیز راجہ جیسے سٹارز نے کہاتھا کہ اگر ’سٹار‘ نہیں کھیلے گا تو پھر ٹی وی کون دیکھے گا اور سپانسر کہاں سے آئیں گے اور پھر کرکٹ ترقی کیسے کرے گی وغیرہ وغیرہ۔
پچھلے میچ میں پاکستان نے جب ایک سیمر کی قیمت پر ایک سپنر کو ٹیم میں لانے کا فیصلہ کیا تو اِس تلخ اقدام کی قیمت پہلے میچ کے بہترین بولر سلمان مرزا نے چُکائی۔ مگر جب دوسرا میچ کھیل کر بھی شاہین آفریدی کا ’ردھم‘ واپس نہیں آیا تھا تو پھر انھیں الیون میں رکھنے کا فیصلہ صرف ایک ہی منطقی جواز دے سکتا ہے کہ اگر ’سٹار نہیں کھیلے گا تو پھر ٹی وی کون دیکھے گا؟‘
واحد تبدیلی جو پاکستان کو انڈیا کے خلاف میچ میں اُترنے سے پہلے اپنی الیون میں لانا چاہیے تھی، وہ سلمان مرزا کی شمولیت تھی جو اس پچ پر اتنے ہی موثر ہو سکتے تھے جتنے ہاردک پانڈیا ثابت ہوئے۔ مگر سلمان مرزا ’سٹار‘ نہیں تھے اور جس میچ کی مالیت سینکڑوں ملین ڈالرز میں گِنی جا رہی ہو، وہاں سٹار کا کھیلنا تو ناگزیر ہی ہوتا ہے ناں
مگر اس سوال کی مالیت میچ کی اپنی وقعت سے بھی دوگنا ہے کہ جس کھیل کا سارا دارومدار ہی کنڈیشنز کے لحاظ سے ٹاس پر لیے فیصلے سے جڑا ہے، وہاں کس دانائے راز نے سلمان آغا کے کان میں پھونکا کہ ٹاس جیت کر وہ پہلے بیٹنگ کا موقع پلیٹ میں رکھ کر سوریا کمار یادیو کے حضور پیش کر دیں
جن کنڈیشنز سے شناسائی کا شرف پاکستانی ٹیم دو ہفتے پہلے سے ہی حاصل کر چکی تھی، وہاں ابھی تک یہ بنیادی بات پلے کیوں نہیں پڑ سکی کہ سری لنکن کنڈیشنز میں پرانی گیند کے خلاف رنز کا حصول جب پہلی اننگز میں ہی دشوار رہتا ہے، تو دوسری اننگز میں مزید پرانی پچ پر کون سورما لمبے ہدف کو تاڑ سکتا ہے ؟
یہ پچ استعمال شدہ تھی اور اس پر کھیلا گیا پچھلا میچ بھی اس امر کا گواہ تھا کہ یہاں دوسری اننگز میں ہدف کا تعاقب سخت دشوار ہو گا۔ پاکستان بھلے ہی اپنے سپنرز پر نازاں ہو، انڈین سپنرز بھی ٹی ٹونٹی کرکٹ کے بہترین بولرز میں سے ہیں۔
ایسے میں یہ سوچنا حماقت سے کم نہ تھا کہ انڈین بولنگ کے خلاف ہدف کا تعاقب محض اس لیے آسان ہو جائے گا کہ اچانک کولمبو میں اوس پڑنے لگے گی اور گیند بولرز کے ہاتھ سے پھسلنے لگے گی
کوئی سمجھنا چاہے تو بات سیدھی سی ہے کہ کرکٹ کوئی رئیلٹی شو نہیں، ایک کھیل ہے جو فزکس کے بنیادی اصولوں پر چلتا ہے۔ یہ تو ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسی احمق ذہانت بھی بتا ہی دے گی کہ سری لنکن پچز سپن کے لیے سازگار ہیں اور اگر تقابل سری لنکا میں سپن کے خلاف بیٹنگ کے اعدادوشمار کا ہی کیا جائے تو بابر اعظم سے بہتر نام بھی مل جائیں گے۔
میچ کے پہلے اوور میں جیسے پاکستان نے انڈیا کی سانس روک ڈالی تھی، دوسرے ہی اوور میں وہ سارا پریشر شاہین آفریدی کے ان خوابوں کی نذر ہو گیا کہ گیند چونکہ ان کے ہاتھ سے نکلی ہے سو جہاں بھی پڑی کچھ نہ کچھ تو ضرور کرے گی۔
درمیانی اوورز میں جب سپنرز نے پھر سے میچ کو باندھ لیا تھا، وہاں بدقسمت آخری اوور پھر انڈیا کو مجموعے کا وہ اضافی مارجن دے گیا جو ساٹھ اوور پرانی پچ پر واقعی ناقابلِ تسخیر تھا۔
مجموعی طور پر پاکستان کی شکست پر کسی کو کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ کونسا پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے۔ البتہ ٹیم کی سلیکشن پر ماہرین انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ اب وقت اگیا ھے کہ سفارش کی بجائے میرٹ کو ترجیح دی جائے۔






