#اداریہ

أپوزیشن لیڈر کا نامناسب بیان

Fahad 01

أج کا اداریہ

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے، فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں۔
قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و  پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا تھاکہ میں نے کبھی جذباتی باتیں نہیں کیں، میں نے جو الفاظ ادا کیے ان پر قائم ہوں
قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھاکہ میں 90سے اسمبلی میں آرہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے جو الفاظ ادا کیے ان پر قائم ہوں، میں نے کبھی جذباتی باتیں نہیں کیں، فوج میں کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟
اسپیکر ایاز صادق نے ریمارکس دیے کہ آپ فوج کی بات نہ کریں، شہدا کی بات کریں۔ جبکہ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز ، فوج، پولیس یا ایف سی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد حملہ، دہشت گرد کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی، آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا،دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 3 سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول، ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی، ایرانی پیٹرول اورڈیزل کی اسمگلنگ اب ختم ہوچکی ہے، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے، گڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز ، فوج، پولیس یا ایف سی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد حملہ، دہشت گرد کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی، آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا،دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 3 سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول، ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی، ایرانی پیٹرول اورڈیزل کی اسمگلنگ اب ختم ہوچکی ہے، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے، گڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے۔
 اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے: سکیورٹی ذرائع
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خیبرپختون خوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، خیبرپختونخوا میں کی جانیوالی حالیہ میٹنگز خوش آئند ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے، بات چیت تمام سیاسی جماعتیں کا استحقاق ہے، فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں، قانونی اور کورٹ کیسز اور اس سے جڑے تمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے سینیئرسکیورٹی افسر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام مساٸل کو حل کرنا ہے
سینیئر سکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔
سینیئر سکیورٹی افسر نے کہا کہ کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے، تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر دفاع  خواجہ  آصف  نے  اپوزیشن  لیڈر  کے فوج  سے  متعلق  بیان کو  غیر ذمہ  دارانہ  قرار  دیتے ہوٸے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج چار ضلعوں کی فوج ہے، اس طرح کے غیرذمہ دارانہ بیان کی اپوزیشن لیڈر کی جانب سے توقع نہیں تھی، اپوزیشن لیڈر نے پاک فوج پر الزامات لگانے کی کوشش کی ہے، ہر ذی شعور انسان جانتا ہےکہ پاکستان کی فوج پورے ملک کی فوج ہے، پاکستان کی فوج کا تشخص
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نےگزشتہ 5سال میں 3141 شہادتیں دی ہیں، 2021 سے فروری 2026 تک 170 افسران نے شہادتیں دیں، جے سی اوز نے 212، جوانوں نے 2759 شہادتیں دی ہیں، افواج میں آزاد جموں وکشمیر سے سب سے زیادہ 2034 شہادتیں ہیں، بلوچستان سے افواج پاکستان نے 103شہادتیں،گلگت بلتستان سے 161 شہادتیں دی ہیں، خیبرپختونخوا سے کل 534، پنجاب سے 1657 شہادتیں ہوئی ہیں، سندھ سے افواج نے 452 شہادتیں دی ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان اعداد وشمارکے بعدکوئی بتائےکیا افواج پاکستان چار ضلعوں کی ہے، پنجابیوں کا آئی ڈی کارڈ دیکھ کر بلوچستان میں گولی ماری جاتی ہے، پنجابیوں کو گولی مارنے پر بلوچستان سے کوئی آواز نہیں اٹھتی،کیا یہ چار ضلعوں کی فوج ہے یا وطن عزیز کی فوج ہے؟ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ قومی عہدہ ہے،کسی ضلع کا عہدہ نہیں، اس عہدے پر بیٹھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان دینا عہدےکی توہین ہے، یہ وطن اور قوم کی جنگ ہے
ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلع کی فوج نہیں ہے ، دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں، بلوچستان میں دو سو سے زیادہ دہشت گرد مارےگئے، اسلام میں خون خرابے کی کوئی اجازت نہیں ہے، ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کردی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے اپنے حلف کی تائید کر رہی ہے، ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہم پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں، شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں، شہید اول و آخر پاکستانی ہوتا ہے اس کا تعلق ضلع سے نہیں ہوتا

أپوزیشن لیڈر کا نامناسب بیان

جناح کیپ 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے