#کالم

جناح کیپ 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

انسان نے جب لباس سے  تن ڈھانپناشروع کیا تو اس کی وجہ صرف موسموں سے بچاو ہی نہیں تھابلکہ احترام ،شناخت اور شعور کی پہلی علامت بھی تھا ۔تاریخ کے ہر دور میں انسانی لباس کا ایک حصہ ٹوپی ،دستار ،سرپوش  اور پگڑی انسان کے مقام ،مزاج اور تہذیب کی پہچان قرار پائی ۔باشاہوں کے سر کا تاج ہو یا درویش کی دستار سرپر رکھا کپڑا ہمیشہ انسانی مقام کی علامت سمجھا گیا ۔قدیم تہذیبوں میں ٹوپی طاقت اور اقتدار کا نشان ہوتی تھی ۔اسلامی تہذیب میں عمامہ ،پگڑی ،دستار اور ٹوپی نے عبادت ،علم اور وقار کو یکجا کردیا ۔مسجد ،مدرسے میں سر ڈھانپنا ادب اور تعظیم سمجھا گیا کیونکہ سر کا احترام دراصل سوچ کے احترام کی علامت ہوتا تھا ۔برصغیر میں ٹوپی نے مذہب ،مزاج اور مزاحمت تینوں کا کردار ادا کیا ۔کہیں یہ درویشی کی پہچان بنی ،کہیں غلامی کے خلاف خاموش جدوجہد اور احتجاج کی علامت ۔تحریک آزادی کے دوران گاندھی کی ٹوپی ہو یا جناح کیپ  یہ سرپوش نہیں  دو قومی نظریے کا موقف بن گئے تھے ۔جناح کیپ کی اہمیت اسی تسلسل کی کڑی ہے یہ نہ مکمل مغربی "ہیٹ” تھی نہ روائتی مشرقی "عمامہ  "یہ سرڈھانپنے کا منفرد اور جداگانہ انتخاب تھا ۔جسےقائداعظم کی شخصیت کا حصہ سمجھا گیا ۔ آج کا بچہ یہ ضرور پوچھتا ہے کہ پاکستانی کرنسی پر موجود قائداعظم کے سر پر سجی جناح کیپ اب کیوں ہمارے سروں پر سجی دکھائی نہیں دیتی ؟ 

میں پہلی مرتبہ غالبا” ساٹھ کی دھائی میں  اپنے  اباجی کے ہمراہ اپنے ننھیال  لاہور گیا اور لاہور انارکلی کی روشنیاں اور رونقیں دیکھ کر ششدر رہ گیا  تھا ۔نیلا گنبد سے لاہوری گیٹ کے کئی کئی چکر کاٹ کر خوش ہونا اور حسرت سے چیزوں کو دیکھناعجیب سا لطف دیتا تھا ۔مال روڈ  اس وقت درختوں کے ساۓ کی وجہ سے "ٹھنڈی سٹرک "بھی کہلاتا تھا ۔یہ وہ دور تھا جب پاکستانیوں کاایک سنجیدہ  طبقہ جناح کیپ کو لباس کا اہم جزو سمجھتا تھا ۔بازاروں اور سڑکوں پر یہ ٹوپی پہنے لوگ اکثر دکھائی دیتے تھے ۔ایک دن اباجی میرے ساتھ مال روڈ کی طرف جاتے ہوۓ انار کلی  کے اختتام پر نیلا گنبد کی جانب مڑنے سے پہلے سامنے ایک ٹوپی بنانے والی دکان پر گئے اور مجھے بتایا کہ دوکان کے مالک میرے دوست اور عزیز ہیں اوربڑ ے عرصہ سے مختلف اقسام کی  ٹوپیاں بنا کر بیچتے ہیں۔(آجکل یہ دوکان تو موجود  ہے مگر وہاں اب ٹوپیوں کی بجاۓ ملبوسات بکتے ہیں )۔باوجود اس کے کہ ہمارے بہاولپور میں لوگ اپنی ریاست سے وابستگی اور محبت کی بنا پر مختلف رنگوں خصوصی سرخ رنگ کی ترکی ٹوپی پہنتے تھے مگرسابق فوجی افسر ہونے کی وجہ سے اباجی ہمیشہ ہی جناح کیپ پہنا کرتے تھے ۔اس لیے اباجی نے وہاں سے دو  نئی جناح کیپ خریدیں اور دوکاندار سے گپ شپ کی تو وہ کہنے لگا کہ خان صاحب ! پہلے ٹوپی پہن کر یا سر ڈھانپ کر لوگ گھروں سے باہر نکلا کرتے تھے اور ننگے سر رہنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔مگر آجکل ٹوپی پہننے کا رواج کم ہوتا جارہا ہے اور لوگ ننگے سر رہنا پسند کرتے ہیں اس لیے کاروبار بھی کم ہو تا جارہا ہے تو اباجی نے کہا کہ جب تک ملکی کرنسی پر قائداعظم کی تصویر پر جناح کیپ آویزاں دکھائی دے گی اس کیپ کی مقبولیت تو کم ہو سکتی ہے مگر اہمیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی اس پیشے اور کاروبار سے جڑے رہنا چاہیے ۔وہاں سے واپسی پر میں نے پوچھا اباجی آپ کے پاس تو پہلے ہی بہت سی جناح کیپ  گھر پر موجود ہیں تو آپ نے مزید کیوں خرید لی ہیں ؟ تو وہ کہنے لگے اگر ہم ٹوپیاں نہیں خریدیں گے تو یہ کاروبار رفتہ رفتہ بند ہو جاۓ گا اور لوگ یہ ٹوپیاں بنانی چھوڑ دیں گے کیونکہ یہ جناح کیپ صرف سر ڈھانپنے کی ٹوپی نہیں بلکہ ہمارے ملک اور قوم کی کی ایک تاریخ بھی ہے ۔قوموں کی تاریخ میں بعض اشیاء محض استعمال کی چیزیں نہیں رہتیں بلکہ وہ علامت بن جاتی ہیں ۔ برصغیر کے مسلمانوں کی اپنی اپنی علاقائی  پگڑیاں اور ٹوپیاں ہوا کرتی تھیں   مگر جیسے کسی درخت کا سبز یا زرد  پتہ موسم کی خبر دے دیتا ہے ویسے ہی کچھ علامتیں زمانے کے مزاج کو آشکارکر دیتی ہیں ۔جناح کیپ بھی ایسی ہی ایک علامت ہے جو بظاہر تو ایک ٹوپی ہے مگر درحقیقت ایک عہد کا خلاصہ ہے ۔قائداعظم محمد علی جناح نے جناح کیپ اس وقت اپنائی جب برصغیر کے مسلمان شناخت کے بحران سے گزررہے تھے ۔ایک طرف مغربی تہذیب کی چمک تھی دوسری جانب مشرقی روایات کی گہری جڑیں اور درمیان میں ایک قوم جو اپنے جداگانہ ہونے کا جواز ڈھونڈ رہی تھی۔ایسے میں جناح کیپ نہ مکمل مغرب ہی تھی اور نہ ماضی پرستی یا مشرقی روایت ،یہ وقار کے ساتھ جدیدیت کا استعارہ تھی ۔یہ ٹوپی شور نہیں مچاتی تھی نعرے نہیں لگاتی تھی مگر جب قائداعظم اسے پہن کر کسی اجلاس میں داخل ہوتے تو پورا ہال خاموش ہو جاتا  تھا ۔یہ خاموشی کسی خوف کی نہیں اعتماد  اور احترام کی خاموشی  ہوتی تھی ۔جناح کیپ نے ہمیں سکھایا کہ قیادت لباس سے نہیں بنتی مگر بعض اوقات لباس قیادت کے کردار کی علامت بن جاتا ہے ۔قائداعظم نے جناح کیپ کو رواج دے کر یہ پیغام دیا کہ ہم جدید بھی ہیں اور اپنی روایات کے امین بھی ہیں ۔ہم مہذب قوم ہیں  ہیں مگر کسی سے مرعوب ہرگز نہیں ہیں اور ہم برصغیر میں  اپنی الگ اور جداگانہ شناخت رکھتے ہیں ۔نہ ہندو کی پگڑی اور نہ انگریز کا ہیٹ نہ سکھوں کا صافہ ہم ان سب سے الگ ہیں ۔یوں قیام پاکستان کے بعد جناح کیپ محض قائداعظم کی ذاتی پہچان نہ رہی بلکہ ریاست  کے وقار کی علامت سمجھ کر اپنایا گیا ۔یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کا خواب کسی جذباتی ہجوم نے نہیں بلکہ ایک ٹھنڈے دماغ ،سیدھی نیت اور مضبوط کردار والے انسان نے دیکھا تھا ۔آج سوال یہ  نہیں ہے کہ ہم جناح کیپ پہنتے ہیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم جناح کیپ کے اندر موجود وقار ،سنجیدگی اور اصول پسندی کو اپناتے ہیں ؟ جناح کیپ صرف ایک  ٹوپی نہیں ہے بلکہ  ایک تحریک کی یاد گار بھی ہے ۔

جناح کیپ دراصل وسطی ایشیا کی روائتی قراقلی ٹوپی سے ماخوذ ہے جو افغانستان ،بخارااور ترکستان کے علاقوں میں وقار اور قیادت کی علامت سمجھی جاتی تھی ۔اسی لیے قائداعظم نے اسے محض لباس کا حصہ ہی نہیں  بنایا بلکہ ایک سیاسی شناخت میں میں بھی ڈھال دیا ۔برطانوی دور میں ہندوستانی مسلمان اپنی جداگانہ تہذیبی  و سیاسی  پہچان کے لیے کوشاں تھے ۔اس لیے جناح کیپ قائداعظم کی شخصیت کے ساتھ اس قدر جڑ گئی کہ یہ ٹوپی خود ایک علامت بن گئی ۔قائداعظم اسے عدالتی پیشیوں ،سیاسی جلسوں  اور سرکاری مواقع پر پہنتے رہے اور یوں یہ ان کی سنجیدہ ،منظم اور باو قارشخصیت کی عکاس بن گئی ۔جناح کیپ محض سر ڈھانپنے کا ذریعہ یا لباس کی خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ بہت سی خوبیوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بن گئی جیسے وقار سنجیدگی ،مسلم تشخص ،قیادت اور خودداری،ریاستی   و قومی علامت اور نشان ۔اسی لیے اگر شیروانی نے قائداعظم کے لباس کو وقار دیا تو جناح کیپ نے اس وقار کو شناخت عطا کی ۔ میں نے اباجی سے پوچھا کہ اب رفتہ رفتہ اس  کیپ کا استعمال کم کیوں ہوتا جارہا ہے ؟ تو وہ کہنے لگے ہم جناح کیپ سے اس لیے دور ہوتے جارہے ہیں کہ وقار کی جگہ نمائش اور اصول کی جگہ مصلحت کو اختیار کرلیا گیا ہے ۔جناح کیپ خاموشی اور شعور کی علامت تھی جبکہ ہم شور کے عادی ہوتے جارہے ہیں ۔جناح کیپ سادگی کی نمائندہ تھی جبکہ ہم ظاہری چمک کے اسیر بنتے جارہے ہیں ۔قائداعظم نے جس ٹوپی کو کردار کے ساتھ اپنے سر پر سجایا تھا آج ہم اسے کرنسی نوٹ ،تصویر ،پروٹوکول اور تقریر تک محدود کرچکے ہیں ۔ شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہم جناح کیپ سے دور کیوں ہوتے جارہے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے وہ مزاج ہی چھوڑ دیا ہے جس پر یہ کیپ جچتی تھی ۔بے شک ہمیں آج پھر قومی یکجہاتی اور باہمی محبت کے لیے اس تاریخی ٹوپی کے ساتھ ساتھ اس سے جڑی خصوصیات کو  بھی اپنانے کی اشد ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہے ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے