#اداریہ

بھارت کی الجھن

Fahad 01

اج کا اداریہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو غزہ  بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت گلے کی وہ ھڈی بن گئی ہے جو نگلی جارہی ہے نہ اگلی۔اس دعوت کو قبول کرنا نہ کرنا دہلی کیلیے درد سر بناہوا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی ان کئی عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنھیں ٹرمپ نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔
تاہم جمعرات کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کیا تو بھارت ان ممالک میں شامل تھا جو تقریب میں موجود نہیں تھے
جن ممالک نے ٹرمپ کی دعوت قبول کی ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ 59 ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے ہی موجود تھے۔
صدر ٹرمپ نے گروپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ دُنیا کے سب سے طاقتور لوگ ہیں۔ اس میں آذربائیجان سے لے کر پیراگوئے اور ہنگری تک کے ممالک شامل ہیں۔‘
’یہ صرف امریکہ کے لیے نہیں، بلکہ پوری دُنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا
بھارتی سمجھتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ ہمیشہ صدر رہیں گے۔ اس لیے اس بورڈ میں شامل ہونا دلی کے لیے خطرناک ہو گا۔ بھارت کو یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کئی دوسرے ممالک سے بھی مشورہ کرنا ہو گا۔
وہ کہتےسمجھتے ہیں کہ اگر بھارت اس میں شامل نہیں ہوتا تو بھی اس کا اثر پڑے گا، کیونکہ اس فیصلے سے مغربی ایشیا متاثر ہو گا۔
مغربی ایشیا میں استحکام بھارت کی توانائی کی سلامتی، بھارتی تارکین وطن کے مفادات، جہاز رانی کے راستوں اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے۔
بعض کا خیال ہے کہ اگر بورڈ آف پیس کے فیصلے سے مغربی ایشیائی استحکام متاثر ہوتا ہے تو بھارت کے مفادات براہ راست متاثر ہوں گے۔
بھارتیوں کو ڈر ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے سے، بھارت بورڈ آف پیس کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
بھارت میں ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ بورڈ میں عدم شمولیت سے امریکہ سے تعگقات مزید بگڑنے کا احتمال ہے جو پہلے اتنے خوشگوار نہیں ہیں۔ امریکی صدر جو پہلے روس اور بھارت کے تجارتی تعلقات پربرھم نظراتے ہیں۔ مودی سرکار کی جانب سے انکار کی صورت میں بھارت’ امریکہ تعلقات میں مزید بگاڑ کاخدشہ ظاہر کیاجارہاہے۔
دوسری جانب
پاکستان سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے۔ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کی سفارش کی تھی۔غزہ بورڈ اف پیس کی ابتدائی تقریب میں شریک پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باڈی لینگوئج نے بھی عالمی سفاتکاری پر گہرے نقوش چھوڑے ھیں جو بھارتیوں کیلیے الگ سے الجھن کا باعث بنے ہنئے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق  بھارت کو خدشہ ہےکہ کل ٹرمپ  مسئلہ کشمیر کو  بھی بورڈ  آف پیس میں لاسکتے ہیں۔
 برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے  بورڈ آف پیس میں بھارت کو دعوت دی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرےگایا نہیں۔
غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی ہے۔
بورڈ آف پیس میں پاکستان،ترکیے،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے شمولیت قبول کی، بورڈ میں 59 ممالک نے دستخط کیے، ڈیووس میں ہوئی تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہےکہ ڈیووس میں نریندرمودی کودعوت دی گئی تھی لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، کل کو ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ میں لاسکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر بھی  پھیلاسکتے ہیں، جیسے ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔
ادھر پابندیوں کے باعث بھارت ایران کی چا بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر چکا ہے، بھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی ہے جسکے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ 
چا بہار بندرگاہ کی ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی اجتماعی طور پر مستعفی ہو گئے ہیں،چا بہار سے بھارت کی عملی پسپائی محض ایک تجارتی یا تکنیکی معاملہ نہیں، یہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی مجموعی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
 برسوں تک جس بندرگاہ کو نئی دہلی نے اپنی علاقائی برتری، پاکستان کو بائی پاس کرنے اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، وہی منصوبہ امریکی دباؤ کے سامنے بے بس ہو کر دم تو ڑ گیا، ایران کے ساتھ طویل المدتی معاہدہ کرنے کے بعد اچانک ہاتھ کھینچ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی سفارتکاری اصولوں پر نہیں بلکہ مفاد پرستی اور دوہرے معیار پر کھڑی ہے، لیکن یہ پسپائی خطے کے امن کیلئے اہم پیش رفت ہے کیونکہ کلبھوشن یادیو کے اعترافات سے لیکر ایران اور اسرائیل کے تناظر میں سامنے آنے والی گرفتاریوں تک، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارتی پورٹ کمپنیاں در اصل خفیہ ایجنسیوں کے فرنٹ آفس کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
 اس بندرگاہ کو پاکستان اور ایران کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کیا گیا، افغانستان کو متبادل کے طور پر دیکھنا بھی ایک خام خیالی

بھارت کی الجھن

مستقبل کا پاکستان

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے