مستقبل کا پاکستان
تحریر : فیصل زمان چشتی
پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے یہ دنیا کا واحد ملک تھا جو کسی نظریاتی اساس پر معرض وجود میں آیا اسی لیے شروع دن سے ہی اس کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، عوام کی دعاؤں اور جانثاروں کی بدولت اس نے روز بروز ترقی کا منازل طے کیں اور یہ پہلی اسلامک اٹامک سٹیٹ کے طور پر ابھرا ۔ اسی وجہ سے اس کو شدید خطرات لاحق ہوتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سرخرو کیا۔ کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں کی وجہ سے یہ کبھی کبھی مسائل کا شکار بھی ہوتا رہا لیکن پھر معاملات ٹھیک ہو جاتے رہے۔ دشمنوں نے ہمیشہ اس کے خلاف سازشوں کے جال بنے لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہمیشہ شامل حال رہی اور پاکستان اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا ۔ دشمنوں کے پراپیگنڈے اور افواہوں کے برعکس، آئندہ کے دنیا کے حالات کو دیکھتے ہوئے، حکومتی شاندار اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے سے مجھے قوی امید ہے کہ کل کا پاکستان ایک خوبصورت اور مضبوط پاکستان ہے جو ہمارے وقار اورافتخار میں مزید اضافہ کرے گا ۔
مستقبل کا پاکستان ایک ایسا موضوع ہے جو ہر پاکستانی
کے دل کی دھڑکن اور آنکھوں کا خواب ہے۔ یہ صرف ایک جغرافیائی خطے کی بات نہیں، بلکہ ان امنگوں، کوششوں اور ارمانوں کا مجموعہ ہے جو ہمیں ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کی سمت لے جا سکتے ہیں۔
پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو بے پناہ قدرتی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت سے مالا مال ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں ہمیں معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن مستقبل کی تصویر انتہائی واضح ، روشن اور امید افزا دکھائی دیتی ہے۔ مستقبل کے پاکستان کی بنیاد ایک مستحکم معیشت پر ہوگی۔ اب دنیا کا مستقبل ڈیجیٹیلائزیشن ہے پاکستان اس وقت جس سرعت سے اس فیلڈ میں آگے آرہا ہے وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کا بڑا ٹیک حب ہوگا۔ فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ہاؤسز ملکی زرِ مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہوں گے۔ حکومت انہی خطوط پر دن رات کام کررہی ہے اور آج کے نوجوان کو بھی اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ اب دنیا میں ٹیکنالوجی کے بغیر سوچنا بھی ناممکنات میں شامل ہے اسی لیے حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر مل کر آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ دنیا کا مقابلہ کیا جا سکے ۔
گوادر پورٹ جس پر بڑے عرصے سے کام ہو رہا ہے تکمیل کی طرف رواں دواں ہے وہ دن دور نہیں جب گوادر دنیا کے تجارتی راستوں کا مرکز بن جائے گا، جس سے پاکستان وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک معاشی پل کا کردار ادا کرے گا۔ سولر ، سستی بجلی اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مقامی مصنوعات عالمی منڈیوں میں جگہ بنائیں گی کیونکہ اگر ہم مصنوعات کی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بہت سی مصنوعات میں دنیا ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ مستقبل کے پاکستان میں تعلیم محض ڈگری کا نام نہیں ہوگی بلکہ ایسی تعلیم و تدریس ہوگی جس سے ہماری نئی نسل ان راستوں سے چلے گی جس پر ایک زمانہ فخر کرے گا ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ سیکٹر بھی نمایاں اور فعال ہے دونوں مل کر پاکستان کے شاندار مستقبل اور ترقی کے لیے کام کررہے ہیں جس کے حوصلہ افزا نتائج متوقع ہیں ۔ امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا تعلیمی معیار قائم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کا ٹیلنٹ ضائع نہ ہو اور ہر شخص اپنی بساط کے مطابق ملک اور قوم کی خدمت کر سکے۔ نئی نسل کو جدید طرز تعلیم سے روشناس کرانے کے لیے حکومت سکولوں اور کالجوں میں AI اور روبوٹکس کو بنیادی مضامین کے طور پر پڑھانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تاکہ ہماری نئی نسل جدید دنیا کے قدم سے قدم ملا سکے اور مستقبل کا پاکستان عظیم تر ہو۔ جامعات اور یونیورسٹیز میں صرف نظریاتی علم نہیں بلکہ عملی تحقیق (R&D) پر توجہ دینے کی کوششیں جاری ہیں جس سے مقامی مسائل کے مقامی حل دریافت ہوں گے۔
ایک مستحکم مستقبل کے لیے عدل و انصاف کا نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے حکومت عام آدمی کو عدل و انصاف کی فراہمی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اس کے لیے جہاں تک ہو سکتا ہے آئین میں ترامیم بھی کی جا رہی ہیں اور امید ہے کہ اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوں گے ۔ سرکاری دفاتر سے فائل کلچر کو ختم کیا جارہا ہے جس سے تمام کام صرف ایک کلک پر ہوں گے اس سے ٹرانسپیرنٹ نظام قائم ہوگا اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔
مستقبل میں قانون سب کے لیے برابر ہوگا، جہاں غریب اور امیر کے لیے الگ الگ معیار نہیں ہوں گے گو کہ بہت مشکل کام ہے مگر نیت نیک ہو تو آخر کار کامیابی قدم چومتی ہے ۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اور مستقبل میں "سمارٹ فارمنگ” کے ذریعے ہم غذائی قلت پر قابو پا لیں گے۔
پانی کی بچت کے لیے ڈرپ ایرگیشن اور سینسرز کا استعمال عام ہوگا۔ پچھلے چند سالوں سے گورنمنٹ اس پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور کوششیں کر رہی ہے کہ اس کے حسبِ توقع نتائج بھی حاصل کیے جا سکیں ۔اس سے پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کرے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک کو خوراک برآمد کرنے والا بڑا ملک بھی بن جائے گا۔
پاکستان کا مستقبل ہماری نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے اگر آج ہم انہیں صحیح سمت اور وسائل فراہم کریں تو کل کی دنیا میں پاکستان ایک راہنما ملک کے طور پر ابھرے گا ۔
مستقبل کا پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال تیار کر چکا ہوگا۔ شمسی (Solar) اور ہوائی (Wind) توانائی کا استعمال 70 فیصد سے تجاوز کر جائے گا، جس سے آلودگی میں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ”کلین اینڈ گرین پاکستان” مہم کے تحت جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوگا، جس سے موسم متوازن یوگا ۔
ہیلتھ کارڈ کے تصور کو مزید وسعت دی جائے گی اور ملک






