انسانیت اب بھی ایک قابل تقلید انتخاب ہے
احساس کے انداز تحریر:۔ جاویدایازخان
کہتے ہیں کہ غریب اور مستحقین کے علاج کے لیے مدد کرنا بڑی انسانی خدمت ہی نہیں بلکہ ایک عبادت بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے کام ا ٓنا ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کانقطہ آغاز ہوتا ہے ۔آج کے مشکل حالات میں عام آدمی کے لیے نفع ونقصان کی سوچ کے بغیر سستے اور فوری علاج کی سہولیات کے اقدامات کرنا اور فری میڈیکل کیمپ لگانا بہت بڑی انسانی خدمت ہوتی ہے۔ یہ "رضا الہی بذریعہ خدمت انسانیت "کی ایک عمدہ مثال بھی ہے ۔
کہتے ہیں کہ فری میڈیکل کیمپ آج اس لیےبھی وقت کی ضرورت ہیں کہ یہ کیمپ ہماری بیماری ہی کا نہیں بلکہ محرومیوں کا بھی علاج کرتے ہیں ۔یہ ایک ایسی خاموش خدمت ہے جو شور نہیں مچاتی مگر لوگوں کی دعاوں میں بولتی ہے ۔ان نوجوان ڈاکٹرزنے علم کو رزق ہی نہیں ،ذمہ داری سمجھا اور مقامی ہسپتال ،اور این جی اوز نے اپنے وسائل کو نفع نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کردیا ۔جی ہاں گذشتہ روز مجھے ایک ایسے ہی فری میڈیکل کیمپ جانے کا اتفاق ہوا ۔جو ایک این جی او "کارکمال "بہاولپور ،ام القریٰ ویلفیئر اوگنائزیشن اور روزنامہ سرزمین ادبی فورم بہاولپور کے اشتراک سے الشفا آئی ہسپتال ماڈل ٹاون سی بہاولپور میں غریب ونادار مریضوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بہاولپور کے مقامی نوجوان ڈاکٹرز کی جانب سے لگایا گیا تھا ۔جہاں چیک اپ ،ٹسٹ ،ادویات کے ساتھ ساتھ مفت فزیوتھراپی کی سہولیات بھی میسر کی گئی تھیں اور یہ بڑی اعزاز کی بات ہے کہ وہاں ایک پروفیسر اور سینئر ڈینٹل سرجن کی خدمات بھی موجود تھیں ۔ جہاں علاقے کی بڑی تعداد نے جدید طبی سہولیات کے ذریعے اپنا تفصیلی معائنہ کرا کر مفت ادویات بھی حاصل کیں ۔مشہور آئی سرجن منظور احمد ملک کے ہاتھوں افتتاح اور اس میں صوبائی صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور سرزمین ادبی فورم کےضلعی کو آرڈینٹر ڈاکٹر عبدالرحمان ناصر کی شرکت نے نوجوان ڈاکٹرز اور انتظامیہ کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا ۔ایسے میڈیکل کیمپ غریب اور کمزور عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے ڈاکٹرز کی بڑھتی ہوئی فیسوں ،مہنگی ادویات اور نجی ہسپتال عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوجائیں تو ایسے میڈیکل کیمپ کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی یے ۔کیونکہ یہ کیمپ خدمت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی آئینہ بھی ہوتے ہیں جو نوجوان ڈاکٹرز کے جذبہ خدمت کی عکاسی کرتے ہیں ۔یہاں این جی او "کارکمال ” اور میڈیکل کمپنی کے نمائندگان اور خصوصی خواتین ڈاکٹرز کی کوششوں اور کاوشوں کو بھی سراہا جانابےحد ضروری ہے جن کی انتھک محنت اور کاوشوں سے یہ میڈیکل کیمپ کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔
ایک ایسے وقت میں جب علاج بھی تجارت بنتا جارہا ہے ۔ایسے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد امید کیایک روشن کرن ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے ۔نوجوان ڈاکٹرز نے اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر یہ ثابت کیا کہ طب محض پیشہ نہیں ،عبادت بھی ہے ۔ان کے ہاتھوں میں نسخہ نہیں ایک بلند حوصلہ تھا اور لہجے میں فیس کی طلب نہیں محبت اور خلوص جھلک رہا تھا ۔اس طرح مریضوں کو بلا معاوضہ خدمات پیش کرنے والے ڈاکٹرز ،لیڈی ڈاکٹرز ،ادویات فراہم کرنے والی این جی او اور میڈیسن کمپنی ،اور اس کیمپ کے لیے ہسپتال فراہم کرنے والی انتظامیہ سب ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے وسائل کو انسانیت کے تابع رکھ کر اپنی بلند سوچ کو ثابت کیا ۔ڈاکٹر صرف مسیحا اور دوا صرف گولی یا کیپسول اور انجکشن کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ اعتماد ،سہارے اور جینے کی خواہش دینابھی ہوتی ہے ۔اور یہ خواہش ان سب نے ملکرغریب لوگوں میں مفت بانٹ دی ۔ایسی کاوشیں بتاتی ہیں کہ معاشرہ ابھی زندہ ہے بس اسے زندہ رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے ۔نوجوان ڈاکٹرز کو سلام اور ان این جی او ،اور افراد کو دل کی گہرائیوں سے شاباش جنہوں نے دکھ کے اس سخت سرد موسم میں شفا کی فصل بو دی ۔نوجوان ڈاکٹرز کا یہ جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی نسل محض تنقید پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عمل کے ذریعے اپنے فرض کی ادائیگی بھی کرنا بھی اپنا نصب العین سمجھتی ہے ۔جب تعلیم یافتہ نوجوان اپنے علم ،وقت اور توانائی کو خدمت خلق کے لیے وقف کرتے ہیں تو وہ آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کامیابی کا معیار صرف آمدن نہیں اثر بھی ہوتا ہے ۔ایسے کیمپ ابتدائی تشخیص ،صحت سے آگاہی ،انسانی ہمدردی اور اعتماد ،نظام صحت کے خلا کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ دوردراز اور نظر انداز علاقوں کے مریضوں تک پہنچتے ہیں ۔بے شک "ذرا نم ہو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ”
اس فری میڈیکل کیمپ میں غریب اور مستحق لوگوں کی یہ کثیر تعداد اور ہجوم کسی خوشی کا منظر نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی علامت ہے کہ دوا ،علاج ،ٹسٹ اور ڈاکٹرز کی خدمات اب عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں ۔جب سینکڑوں افراد ایک مفت نسخے یا چیک اپ کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوں تو یہ ہجوم نہیں بلکہ ہمارے نظام صحت پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے ۔جب ایک معمولی چیک اپ اور چند گولیوں کے لیے بوڑھے ،بچے ،مزدور اور خواتین لمبی قطاروں میں چیک اپ کے منتظر دکھائی دیں تو یہ منظر بتاتا ہے کہ بیماری صرف جسم کی نہیں رہی ہماری معیشت اور ترجیحات بھی علیل ہو چکی ہیں ۔یہ ہجوم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاید اب صحت بنیادی حق نہیں بلکہ ایک مہنگی سہولت بنتی جارہی ہے ۔اور اسی خلا کو وقتی طور پر یہ فری میڈیکل کیمپ پر کرنے کی ایک چھوٹی سے کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔اس کیمپ میں عوام کو حفظان صحت اور جدید طرز زندگی کے اصولوں پر جامع اور تفصیلی معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات کے بغیر جدید فزیوتھراپی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ۔اس کیمپ کے میزبان اور روح رواں ڈاکٹر امیر حمزہ نے آئندہ دنوں میں احمدپورشرقیہ ،ڈیرہ نواب صاحب اور سمہ سٹہ میں بھی ایسے ہی کیمپ کے انعقاد کا ارداہ ظاہر کیا ہے جو یقینا” ایک اچھا اور مثبت اقدام ثابت ہو گا ۔ بےشک یہ ٹیم ورک انہیں وہاں بھی ضرور کامیاب کرے گا ۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے گھروں میں بچ جانے والی یا استعمال نہ ہو پانے والی ادویات ضائع کرنے کی بجاۓ اس ٹیم کو عطیہ کریں تاکہ اگر قابل استعمال ہوں تو یہ مستحق لوگوں کو دی جاسکیں ۔
یہی ہے عبادت یہی دین وایماں
کہ کام آۓ دنیا میں انساں کے انساں
اگر ایسے اقدامات کو معاشرتی پذیرائی ،ریاستی سرپرستی اور میڈیا کی توجہ ملے تو یہی جذبہ ایک تحریک بن سکتا ہے ۔ایسی تحریک جو نئی نسل کو بتاۓ کہ خدمت وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل رویہ بن سکتا ہے ۔بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ نوجوان ڈاکٹرز آنے والے کل کو یہ سکھا رہے ہیں کہ "انسانیت اب بھی ایک قابل تقلید انتخاب ہے "مخیر حضرات اور این جی اوز کو اس ٹیم کی سرپرستی اور مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ ان کے جذبے یونہی جوان رہیں اور ان کا خدمت خلق کا یہ عزم ہمیشہ مستحکم رہے ۔






