موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی ذی روح کا فرار ممکن ہی نہیں ، ادب ہو، فلسفہ ہو ، سائنس یا مذہب ہر علم کے مفکرین نے موت کی گتھی سلجھانے کی کوشش کی، مگر ہر بار یہ سوال پہلے سے زیادہ گہرا اور معنی خیز ہو کر سامنے آیا شاید اس لیے کہ موت کو محض حیات کا نقطہِ اختتام نہیں مانا جا سکتا کیونکہ کائنات ، پھر اس کے اندر زندگی کی پیدائش اور انسان تک کی ایولیوشن ، اسکی فکری اور سائنسی ترقی ، اور سب سے بڑھ کر کچھ چنیدہ بندوں پر الہامی کتب اترنے کے واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ یہ تمام انتظام و انصرام ہر گز اس لیے نہیں کہ کہ یہ خاک سے خاک تک کا سفر ہے ، اس کے اندر سے وہ جو نور کا اک سلسلہ جاری و ساری ہے وہ اس مسئلے کو دقیق تر کر دیتا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہوا
(سورۃ السجدہ (32)، آیت 9)
ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
ترجمہ :
پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے؛ تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
ادب اور نفسیات کے باہمی مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ موت کوئی سادہ واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری و نفسیاتی محرک ہے۔ ہمارے عہد کے اہم ناقد جناب سلیم احمد نے تو اقبال کے حوالے سے یہ تک فرما دیا ان کی شاعری کی تمام تر انسپیریشن موت سے ہے ، اقبال جن کی شاعری دائمی زندگی کی علامت نظر آ تی ہے اس پر سلیم احمد کی رائے اہم ہے اور سمجھ آ تی ہے کہ طبعی موت سے نکلنے کا واحد راستہ روح کی بالیدگی میں پنہاں ہے ۔ اقبال کے نزدیک موت زندگی کی نفی نہیں، بلکہ اس کی توسیع ہے؛ ایک ایسا مقام جہاں انسان کی خودی اپنی ابدیت کا مشاہدہ کرتی ہے۔
غالب کے ہاں بھی موت ایک مابعد الطبیعیاتی حقیقت کے طور پر ابھرتی ہے ۔
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا۔
جدید نفسیات دانوں اور ناقدین کے نزدیک موت ایک Symbolic Reality (علامتی حقیقت) ہے، جہاں انسان اپنی محدودیت کو پہچان کر لامتناہی معنوں کی تلاش شروع کرتا ہے۔ یوں ادب اور نفسیات کی روشنی میں موت زندگی سے فرار نہیں، بلکہ زندگی کی معنویت تک پہنچنے کا ناگزیر راستہ قرار پاتی ہے۔
فلسفے کی دنیا میں موت کا سوال حیات کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ سقراط نے موت کو سزا کے بجائے سچائی کے ثبات کا ذریعہ سمجھا۔ افلاطون کے نزدیک فلسفہ دراصل ’موت کی مشق‘ ہے، کیونکہ یہ روح کو مادی کثافتوں سے آزاد کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ جدید فلسفے میں ہیڈیگر (Heidegger) نے اسے “Being-towards-death” قرار دیا یعنی انسان اپنی اصل شناخت اسی وقت پاتا ہے جب وہ اپنی فنا پذیری کو شعوری طور پر قبول کر لیتا ہے۔ ژاں پال سارتر کے نزدیک موت زندگی کو لایعنی نہیں بناتی بلکہ وقت کے محدود ہونے کا احساس دلا کر انسان کو اپنے انتخاب (Choice) اور عمل کے لیے زیادہ ذمہ دار بنا دیتی ہے۔
سائنس بظاہر موت کو ایک خالص حیاتیاتی عمل (Biological Process) کے طور پر دیکھتی ہے۔ جدید میڈیکل سائنس آج موت کو مؤخر کرنے اور حیات کو طوالت دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ Gene therapy، Anti-aging research اور Lifespan extension جیسے تصورات نے موت کو ایک ’تکنیکی مسئلہ‘ بنا دیا ہے جسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر یہاں ایک منطقی خلا موجود ہے؛ سائنس جسم کے فنا ہونے کی مادی وجوہات تو بتا سکتی ہے، مگر وہ ’شعور‘ (Consciousness) کے انجام اور زندگی کے مقصد پر خاموش ہے۔ سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ انسان ’کیسے‘ مرتا ہے، مگر یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ’کیوں‘ جیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنسی علم کی سرحد ختم اور وجدان کی حد شروع ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید میں موت کا تصور نہایت متوازن، منطقی اور حوصلہ افزا ہے۔ قرآن اسے فنا یا نیستی کے بجائے ’انتقال‘ (ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقلی) قرار دیتا ہے۔
پچھلے دنوں ایک سانحے کا کلپ وائرل ہوا ، جس میں ایک ننھا بچہ کراچی کے کسی مال سے اپنی ماں سے چند قدم آگے نکلا اور سیدھا کھلے مین ہول میں گر گیا , اگر آپ وہ کلپ دیکھیں تو آپ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس بچے کے بچ جانے کے کئی امکانات موجود تھے ، اگر اس کا ہاتھ اپنی ماں کے ہاتھ میں ہوتا ، وہ اس مین ہول سے ایک قدم دائیں یا بائیں سے گزر جاتا یا وہ باقی تین سمتوں کی طرف قدم لے لیتا ، یہ بھی ہو سکتا تھا ایک رات پہلے جو بڑا ٹرک اس مین ہول کے ڈھکن کو توڑ کر نکل گیا تھا وہ اس ڈھکن سے آگے پیچھے سے گزر جاتا ۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر گل پلازہ میں جو آ تشں زدگی کا واقعہ ہوا اور اس سانحے میں موت کا شکار ہونے والوں کی جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں وہ انتہائی المناک ہیں ، ایک جوڑا اپنے دوسرے بیٹے کی پیدائش سے پہلے شاپنگ کے لیے گیا اور اپنے پہلے بیٹے کے ساتھ لقمہء اجل بن گیا ، ایک لڑکی گھر فون پر اطلاع دیتی ہے کہ ہم نے شادی کی تمام شاپنگ کر لی ہے اور پھر اس حادثے میں موت کا شکار ہو جاتی ہے ۔
یہ وہ واقعات ہیں جن میں جو جانیں گئیں ان کی خبر ہم تک آ گئی مگر ہم تک وہ خبر نہیں آ ئی جو جانیں بچ گئیں وہ لوگ جو چند لمحے پہلے وہاں سے نکلے ہونگے وہ لوگ جنہیں اس وقت وہاں ہونا چاہیے تھا اور بوجوہ وہاں پہنچ نہ سکے ۔
کیا عقل یہ مانتی ہے وہ بچہ جو مین ہول میں گر گیا اور وہ لوگ جو گل پلازہ میں لقمئہ اجل بنے یہ تمام کہانیاں بس یہیں تک تھیں اور تمام ہوئیں ۔
ادب، نفسیات، فلسفہ، سائنس اور وحی یہ تمام زاویے اس حقیقت پر منتج ہوتے






