پاکستان کی غزہ بورڈ أف پیس میں شمولیت
أج کا اداریہ
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔
گزشتہ روز وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو کر ان مقاصد کے حصول اور فلسطینی بہنوں اور بھائیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل تھے۔
پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر 2025 کو امریکہ کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی منظوری دی تھی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے کی توثیق کی گئی تھی۔
اس منصوبے کے تحت ایک نیا عبوری ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا جائے گا اور سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ مگر تصدیق شدہ فلسطینی پولیس فورس سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد کرے گی
وائٹ ہاؤس نے گذشتہ جمعے کو صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر اہم شخصیات اس کی رُکن ہوں گی۔
اسی منصوبے کے تحت غزہ میں ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے، جس میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان اور امریکی حکام کی جانب سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کر رکھا ہے کہ پاکستان صرف اسی صورت میں اس فورس میں شمولیت اختیار کرے گا اگر اس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہو گا
گزشتہ روز پاکستان سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا
یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ٹرمپ کا تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کیا کرے گا اور اس میں شامل مستقل اور غیرمستقل اراکین کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا؟
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد مکمل جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی از سرِنو تعمیر ہے۔
تاہم پاکستان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں بطور مستقل رُکن کے طور پر شامل ہو رہا ہے یا صرف تین سال کے لیے۔
بی بی سی کو دستیاب ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست برسوں کے لیے اس کی رُکن ہو گی اور چیئرمین (صدر ٹرمپ) چاہیں تو اس رُکنیت کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔
تاہم تین سالہ رُکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو ’بورڈ آف پیس‘ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گی۔
’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر میں یہ بھی نہیں درج کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر مہیا کرنے والے ملک اور دیگر ممالک کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا
بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں ہر ریاست کی نمائندگی حکومت یا ریاست کا سربراہ کرے گا اور اس میں شامل ہر ریاست کو ایک، ایک ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔
چارٹر کے مطابق تمام فیصلے رُکن ممالک کے اکثریتی ووٹوں کے تحت لیے جائیں گے تاہم اس کے لیے بھی چیئرمین کی منظوری درکار ہو گی
بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن بین الاقوامی استحکام فورس بھی بورڈ آف پیس کی نگرانی میں ہی کام کرے گی اور پاکستان وہاں اپنے فوجی اہلکار بھیج سکے گا۔‘
خیال رہے پاکستان نے تاحال بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرنے کی حامی نہیں بھری اور متعدد سرکاری شخصیات کہہ چکی ہیں کہ اس فیصلے میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے گا






