#کالم

قانون سے نفرت یا اجتماعی بے حسی؟

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں


کراچی کے گل پلازا میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے ایک بار پھر ہمیں وہی تلخ سوال یاد دلایا ہے جو ہر بڑے حادثے کے بعد چند دنوں کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔۔۔ہم قانون پر عمل کیوں نہیں کرتے؟۔۔۔قیمتی جانوں کا ضیاع، خاندانوں کا اجڑ جانا اور پھر چند رسمی بیانات، کچھ وقتی کارروائیاں اور آخرکار اجتماعی بھول۔۔۔یہی ہمارا قومی المیہ بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں قانون کی موجودگی کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ مسئلہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ عمارتوں کے نقشے موجود ہیں، فائر سیفٹی کے ضابطے لکھے جا چکے ہیں، حفاظتی این او سیز کا نظام بھی بنایا گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ان سب پر عمل کون کرے اور کیوں کرے؟۔۔۔ہم نے دیکھا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں قانون کو سہولت نہیں بلکہ رکاوٹ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہم قانون کو اجتماعی تحفظ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی زنجیر تصور کرتے ہیں جس سے بچ نکلنا ہی کامیابی سمجھا جاتا ہے اور
اس رویے کی جڑیں ہماری سماجی نفسیات میں پیوست ہو چکی ہیں۔ ہم سب نے بچپن سے یہ سیکھا ہے کہ ۔۔۔سیٹنگ۔۔۔ہو تو ہر کام ممکن ہے۔ قانون سے بچ نکلنے والے کو ہوشیار اور قانون پر عمل کرنے والے کو سادہ لوح سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا چکا ہے جہاں ایمانداری کمزوری اور بددیانتی ذہانت بن گئی ہے۔
دوسری بڑی وجہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر ہے، بڑے بڑے جرائم سزا کے بغیر رہ جاتے ہیں اور انصاف برسوں عدالتوں میں رلتا ہے، تو عام شہری کے دل میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ میں ہی کیوں قانون پر عمل کروں؟۔۔۔یوں قانون ایک مشترکہ ذمہ داری کی بجائے صرف کمزور کے لیے مخصوص شے بن گیا ہے،لیکن اگر یہاں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا تقابل کریں تو جو فرق میں نے محسوس کیا ہے وہ قانون کی سختی میں نہیں، بلکہ قانون کی قبولیت میں نظر آتا ہے۔ وہاں شہری یہ سمجھتے ہیں کہ قانون ان کی اپنی حفاظت کے لیے ہے۔ ٹریفک سگنل پر رکنا، عمارتوں میں حفاظتی انتظامات، ٹیکس کی ادائیگی۔۔۔ یہ سب کسی خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور کے تحت کیا جاتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ قانون کی خلاف ورزی بالآخر انہی کے لیے خطرہ بنے گی لیکن پاکستان میں ہم ہمیشہ زبردستی کے منتظر رہتے ہیں۔ جب تک جرمانہ، چھاپہ یا حادثہ نہ ہو، ہم قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ گل پلازا جیسے سانحات کے بعد وقتی طور پر فائر سیفٹی یاد آ گئی ہے، چند دن انسپیکشنز ہونگی، پھر سب کچھ معمول پر آ جائے گا حتیٰ کہ اگلا حادثہ ہمیں پھر سے جھنجھوڑ نہ دے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام نے شہری ذمہ داری کو کبھی سنجیدگی سے موضوع نہیں بنایا۔ ہم نے بچوں کو ڈگریاں لینی تو سکھائیں، مگر شہری بننے کا ہنر نہیں سکھایا۔ قانون کی پاسداری، اجتماعی مفاد، اور انسانی جان کی قدر جیسے تصورات کتابوں سے آگے نہ بڑھ سکے لیکن اس بھی زیادہ افسوس ناک پہلو ہماری سیاسی جماعتوں کا رویہ ہے اور وہاں انسانی جانوں کے ضیاع پر اجتماعی احتساب اور اصلاح کی بجائے الزام تراشی کی سیاست شروع ہو جاتی ہے اور یوں اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور قصہ ختم۔۔۔چائیے تو یہ کہ سنجیدہ قانون سازی ، نگرانی اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے اسباب پیدا کیے جائیں مگر افسوس صد افسوس ہماری سیاست ذاتی مفادات اور پوائنٹ اسکورنگ سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟۔۔۔ دنیا میں سب سے پہلے قانون کا یکساں اطلاق کیا جاتا ہے لہذا جب طاقتور اور کمزور دونوں ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے تو قانون کا احترام خودبخود پیدا ہوگا۔ دوسرا ۔۔۔ شفاف اور مستقل عمل درآمد۔۔۔ نہ وقتی مہمات، نہ نمائشی کارروائیاں۔ تیسرا۔۔۔ عوامی شعور۔۔۔ یہ احساس کہ قانون کی خلاف ورزی کسی اور کا نہیں، ہمارا اپنا نقصان ہے۔ یاد رکھیں ہر آتشزدگی، ہر حادثہ ہمیں ایک موقع دیتا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں۔۔۔ کیا ہم اگلے سانحے کا انتظار کریں گے، یا آج قانون کو اپنی مرضی سے قبول کریں گے؟ اگر ہم نے اب بھی قانون کو دشمن سمجھا، تو یاد رکھیے، آگ، حادثہ اور موت کسی کو رعایت نہیں دیتے۔ہمیں سانحات کو قومی ذمہ داری سمجھنا ہو گا۔۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے