نیام سے نکلی تلواریں اور مصلحتوں میں گھری مسلم امہ
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
ایران کی داخلی سیاست اور حالیہ برسوں میں رونما ہونے والی احتجاجی لہروں کے تناظر میں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جب بھی تہران کی سڑکوں پر بے چینی کی لہر اٹھتی ہے تو اس کے ڈانڈے سرحدوں کے پار بیٹھے ان قوتوں سے جا ملتے ہیں جو ایران کو خطے میں ایک مضبوط حصار کے بجائے بکھرے ہوئے ریت کے ذروں میں بدلنا چاہتی ہیں امریکی سامراج اسرائیلی اور انڈین انٹیلی جنس کے گٹھ جوڑ نے ایران کے خلاف ایک ایسی "خاموش جنگ” چھیڑ رکھی ہے جہاں ہتھیار گولیوں کی شکل میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز ڈالروں کی ریل پیل اور فکری تخریب کاری کی صورت میں برآمد کیے جاتے ہیں یہ ایجنٹ جو کبھی انسانی حقوق کے لبادے میں اور کبھی جمہوری اقدار کے نام پر ابھرتے ہیں درحقیقت اسی گریٹر اسرائیل کے خواب اور امریکی بالادستی کے ایجنڈے کے مہرے ہیں جس کا مقصد مسلم دنیا کے اس اہم ستون کو کمزور کرنا ہے
ایران کی سالمیت پر ہونے والے یہ حملے محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایرانی عوام کی جائز شکایات کو سیاسی رنگ دے کر ریاست کے خلاف بغاوت میں تبدیل کرنا ہے جب تل ابیب کے تھنک ٹینکس اور واشنگٹن کے خفیہ ایوانوں میں بیٹھے منصوبہ ساز ایرانی معاشرت کے تانے بانے ادھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کا ہدف صرف حکومت نہیں بلکہ وہ قومی غیرت اور مزاحمتی سوچ ہوتی ہے جو ایران کو عشروں سے عالمی دباؤ کے سامنے سینہ سپر رکھے ہوئے ہے یہ ایک ایسا جال ہے جس میں مقامی جذبات کو ایندھن بنا کر بیرونی ایجنٹ اپنی سیاسی روٹیاں سینکتے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے اس مضبوط قلعے میں دراڑیں ڈال کر اسے اپنی مرضی کے مطابق ری ڈیزائن کیا جا سکے ان سازشوں کا اصل رخ پہچاننا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ بدامنی کا یہ رقص ایران کے حق میں ہے اور نہ ہی خطے کے امن کے لیے بلکہ یہ صرف ان سامراجی مفادات کی آبیاری کرتا ہے جن کی جڑیں اسرائیل اور امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسیوں میں پیوست ہیں
ایران کے افق پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل محض دو ریاستوں کے درمیان کسی زمینی تنازع کا شاخسانہ نہیں بلکہ یہ اس صدیوں پرانی کشمکش کا تسلسل ہے جہاں عالمی استعمار اور صہیونی عزائم ایک ایسی خود مختار طاقت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ خواب کی بنیاد اس خوف پر رکھی گئی ہے کہ اگر ایران ایک ایٹمی یا مضبوط دفاعی قوت بن کر ابھرا تو خطے میں دہائیوں سے قائم ان کی مصنوعی بالادستی ریت کی دیوار ثابت ہوگی یہ گٹھ جوڑ درحقیقت ایک ایسے "مزاحمتی بلاک” کو پاش پاش کرنا چاہتا ہے جو فلسطین سے لے کر لبنان تک ان کے توسیع پسندانہ ارادوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ان کی جنگی جنونیت کے پیچھے وہ تڑپ چھپی ہے جس کے ذریعے وہ مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اپنی منشا کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دینا چاہتے ہیں تاکہ تیل کے ذخائر پر ان کا قبضہ برقرار رہے اور اسرائیل کو ایک ایسی ریاست کے طور پر محفوظ کیا جا سکے جس کے سامنے کوئی سر اٹھانے والا نہ رہے
ان مسلم دشمن قوتوں کی کارستانیاں اب محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے "تہذیبی تصادم” کا ایک ایسا محاذ کھول رکھا ہے جہاں معاشی پابندیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے عام ایرانی شہری کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے تاکہ داخلی سطح پر مایوسی اور بیزاری کی ایسی فصل بوئی جا سکے جس کی کٹائی بغاوت کی صورت میں ہو اسرائیل کی انٹیلی جنس مشینری اور امریکی تھنک ٹینکس کا اشتراکِ عمل ایک ایسی خوفناک تصویر کشی میں مصروف ہے جہاں ایران کو پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اسلامی ممالک کے مابین اتحاد کی فضا کبھی سازگار نہ ہو سکے یہ ایک سوچی سمجھی "فرقہ وارانہ انجینئرنگ” ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اپنے اسلحے کی منڈیاں آباد رکھنا اور ان کے وسائل پر قابض ہونا ہے ان کی خواہش ہے کہ تہران کی گلیوں میں بارود کی بو ہو اور فضاؤں میں امن کے بجائے نوحے سنائی دیں کیونکہ ایک کمزور اور لہو لہان ایران ہی ان کے استعماری ایجنڈے کی تکمیل کا ضامن بن سکتا ہے
ایران اور خطے میں منڈلاتے ہوئے جنگ کے مہیب سائے جب چھٹنے لگے اور بارود کی بو پر سفارت کاری کی خوشبو غالب آئی تو دنیا نے ایک بار پھر تماشائی بن کر دیکھا کہ امن کی یہ بحالی کسی مغربی خیر سگالی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ان علاقائی قوتوں کی بصیرت تھی جو اپنے گھر کو آگ سے بچانا جانتی تھیں روس اور چین جیسے ممالک نے اپنے مفادات اور توازنِ قوت کو برقرار رکھتے ہوئے اس آگ کو بجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ ترکیہ ،سعودی عرب ،پاکستان اور قطر جیسے ممالک نے پسِ پردہ رہ کر مکالمے کی وہ شمعیں روشن کیں جنہوں نے سامراجی سازشوں کے اندھیروں کو شکست دی یہ امن درحقیقت ان قوتوں کی شکست تھی جو مسلم ممالک کے لہو سے اپنے اقتدار کے چراغ روشن رکھنا چاہتی ہیں مغرب کا مکروہ چہرہ اس وقت پوری طرح عیاں ہو گیا جب انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے ممالک نے قیامِ امن کے بجائے اسلحے کی فروخت اور اشتعال انگیزی کو ترجیح دی جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ان کے نزدیک انسانی جان کی قیمت ان کے تجارتی مفادات سے کہیں کم تر ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام صورتحال پر اپنے مخصوص اور دو ٹوک انداز میں ردِعمل دیتے ہوئے جہاں ایک طرف سابقہ انتظامیہ کی پالیسیوں کو بزدلی سے تعبیر کیا وہی ان کے بیانات سے یہ بو بھی آتی رہی کہ وہ "طاقت کے ذریعے امن” کے قائل ہیں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی






