ڈاکٹر تقی عابدیدل کی دھڑکنوں میں بستی ہوئی تہذیب کا معالج
تحریر : منشا قاضی
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو ایک ہی وقت میں کئی جہانوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کی ذات میں علم و فن، عقل و وجدان، اور روح و مادّہ ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک ہمہ گیر کائنات تشکیل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر تقی عابدی بھی انہی نادر روحوں میں سے ہیں—ایسے معالج جو دل کی شریانوں میں دوڑتے خون کے ساتھ ساتھ تہذیب کی رگوں میں بہتے ہوئے لفظوں کی نبض بھی پہچانتے ہیں۔
کینیڈا کی سرزمین پر مقیم ایک ہارٹ اسپیشلسٹ، جو جدید طب کی باریک ترین پرتوں سے واقف ہیں، مگر جن کی اصل پہچان محض سٹیتھو اسکوپ اور آپریشن تھیٹر تک محدود نہیں۔ ان کی اصل شناخت اردو ادب کی اس وادی میں ہے جہاں فکر کی بلندیاں اور جذبے کی گہرائیاں ایک دوسرے سے ہمکلام ہوتی ہیں۔ غالب کے فلسفیانہ اضطراب، اقبال کے خودی کے آفاق، فیض کی انقلابی نرمی، میر انیس اور میر دبیر کی مرثیہ گوئی کی حماسی روح—یہ سب ان کے مطالعے اور تحقیق کے موضوعات نہیں بلکہ ان کے باطن کی تشکیل کے عناصر ہیں۔
ڈاکٹر تقی عابدی کی فکر میں ایک عجیب ہم آہنگی ہے: دل کے علم اور دل کی زبان کے درمیان۔ وہ جانتے ہیں کہ انسانی وجود صرف عضلات اور شریانوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یادوں، خوابوں، لفظوں اور معنویت کا ایک زندہ نظام ہے۔ شاید اسی لیے ان کی شاعری میں لہجہ پختہ، فکر عمیق اور احساس شفاف دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام محض شعری کتابیں نہیں، بلکہ وہ آئینے ہیں جن میں عصرِ حاضر کی روح اپنے سوالات کے ساتھ جھلکتی ہے۔
تحقیق کے میدان میں ان کی کاوشیں بھی کسی سمندر سے کم نہیں۔ اردو ادب کی اصناف پر ان کی گہری دسترس اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے لفظوں کی تاریخ کو صرف پڑھا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جیا ہے۔ اس طویل ریاضت کا ثمر ان کی اسی سے زائد تصنیفات کی صورت میں سامنے آتا ہے—کتابیں جو فکر کی روشنی ہیں، جو روایت کو حال سے جوڑتی ہیں، اور جو آنے والے زمانوں کے لیے چراغِ راہ بن سکتی ہیں۔
کثیرالملکی اسفار کے دوران وہ جہاں بھی گئے، اپنے علم و آگہی کی روشنی ساتھ لے کر گئے۔ مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں انہوں نے اردو کی خوشبو بکھیرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ زبان سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی؛ یہ دل سے دل تک کا سفر طے کرتی ہے۔ ان کی گفتگو میں وقارِ علم اور شائستگیِ تہذیب یوں جمع ہو جاتے ہیں جیسے کسی کلاسیکی غزل میں بحر اور ردیف ہم آہنگ ہو جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت و فطانت کی وہ نعمت عطا کی ہے جو صرف ذہن کو نہیں، روح کو بھی منور کرتی ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا استعارہ ہے کہ علم اگر خلوص کے ساتھ جُڑ جائے تو وہ عبادت بن جاتا ہے، اور فن اگر شعور کے ساتھ پروان چڑھے تو وہ خدمت کا درجہ پا لیتا ہے۔
ڈاکٹر تقی عابدی کی شخصیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دل کا علاج صرف ادویات سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی ایک شعر، ایک فکر، ایک روشن خیال بھی شریانوں میں نئی زندگی دوڑا دیتا ہے۔ وہ اس عہد میں علم و ادب کا ایسا سنگم ہیں جہاں سائنس کی منطق اور شاعری کی لطافت ایک دوسرے کو رد نہیں کرتیں، بلکہ مکمل کرتی ہیں—جیسے نبض کی ہر دھڑکن کے ساتھ لفظ کی ایک نئی صدا جنم لیتی ہو۔ میں ممنون احسان ہوں جناب شفیق مراد صاحب کا جنہوں نے میرے کانوں کو ڈاکٹر تقی عابدی کی بولنے والی زبان کا محتاج رکھا اور ہزاروں سامعین کو لطفِ تکلم سے آشنا کیا ۔ڈاکٹر صاحب اس گئے گزرے دور میں خوبصورت عادتوں کے ایک دلفریب انسان ہیں میں شفیق مراد کی محبتوں کا ہمیشہ مقروض رہوں گا ۔ جن کے توسط سے مجھے غالب و میر کا انداز بیاں رقص میں محسوس ہوتا ہے






