زندگی کی حقیقت کو پہچان لیجیے
انسانی زندگی کی سب سے بڑی سچائی اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ یہ زندگی عارضی ہے، فانی ہے، اور ہر ذی روح کو ایک دن اس سفر کو مکمل کر کے لوٹ جانا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس سچائی کو جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے اردگرد قبریں دیکھتے ہیں، جنازے اٹھتے دیکھتے ہیں، مگر دل کو یہ تسلی دے لیتے ہیں کہ ابھی بہت وقت ہے، ابھی ہمیں بہت کچھ حاصل کرنا ہے، ابھی دولت کی کمی ہے، ابھی جائیداد مکمل نہیں ہوئی، ابھی بچوں کا مستقبل بنانا ہے۔ اسی “ابھی” کے چکر میں پوری زندگی گزر جاتی ہے، اور آخرکار جب آنکھ کھلتی ہے تو وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جسے یاد دلانے کے لیے کبھی کسی بزرگ کی نصیحت کافی ہوتی ہے، کبھی کسی شاعر کا ایک شعر، اور کبھی کسی عظیم شخصیت کے آخری الفاظ پوری زندگی کا خلاصہ بن جاتے ہیں۔
آج جب ہم بھارتی موسیقی کی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر کے آخری ایام اور ان سے منسوب الفاظ پڑھتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ لتا منگیشکر، جس کی آواز نے کروڑوں دلوں کو مسحور کیا، جس کے نام پر دولت، شہرت، عزت اور آسائشات کے انبار تھے، وہ بھی زندگی کے آخری موڑ پر بالکل ایک عام انسان کی طرح بے بسی، کمزوری اور محتاجی کی تصویر بن چکی تھیں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ لتا منگیشکر کون تھیں، سوال یہ ہے کہ ان کی زندگی کے آخری لمحات ہمیں کیا سبق دیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دنیا کی سب سے مہنگی برانڈڈ کار ان کے گیراج میں کھڑی ہے، مگر وہ خود وہیل چیئر تک محدود ہیں۔ اس ایک جملے میں پوری دنیا کی حقیقت سمٹ آئی ہے۔ ہم جن گاڑیوں، بنگلوں اور آسائشات کے لیے دن رات حلال و حرام کی تمیز بھلا دیتے ہیں، وہ سب ایک دن ہمیں چھوڑ دیتی ہیں، اور ہم خود اپنی سانسوں کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
مہنگے کپڑے، قیمتی جوتے، زیورات اور برانڈز—یہ سب وہ چیزیں ہیں جن پر آج کا انسان فخر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر انہی چیزوں کی نمائش کو کامیابی کا معیار بنا لیا گیا ہے۔ مگر لتا منگیشکر کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی کے آخری لمحوں میں انسان ہسپتال کے ایک سادہ سے گاؤن میں ہوتا ہے، جہاں نہ برانڈ کی پہچان ہوتی ہے اور نہ فیشن کی۔ وہاں صرف انسان ہوتا ہے، اس کی کمزور سانسیں ہوتی ہیں، اور اس کے اعمال کا حساب ہوتا ہے۔
ہم بینک بیلنس کو طاقت سمجھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہے وہ سب کچھ خرید سکتا ہے: عزت، علاج، سہولت، حتیٰ کہ وقت بھی۔ مگر یہ کتنا بڑا دھوکہ ہے! لتا منگیشکر کہتی ہیں کہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں بہت پیسہ ہے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ جملہ ہمارے معاشرے کے ہر اس فرد کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو رشوت، کرپشن، جھوٹ، دھوکہ دہی اور دوسروں کا حق مار کر دولت اکٹھی کر رہا ہے۔ ذرا سوچیے، اگر وہ دولت آخری وقت میں ایک لمحہ سکون بھی نہ دے سکے تو اس کی حقیقت کیا ہے؟
آج ہم گھروں کو محل بنانے میں لگے ہیں۔ ایک ایک کمرہ، ایک ایک فرنیچر، ایک ایک آرائش پر لاکھوں خرچ کیے جاتے ہیں۔ مگر لتا منگیشکر کی زندگی کے آخری دن ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان آخرکار ہسپتال کے ایک چھوٹے سے بستر پر ہوتا ہے۔ نہ وہ محل کام آتا ہے، نہ وہ عالیشان ڈرائنگ روم، نہ وہ مہنگے پردے۔ انسان کا اصل ٹھکانہ وہی چند فٹ کی جگہ ہوتی ہے جہاں اس نے لیٹ کر دنیا سے رخصت ہونا ہوتا ہے۔
یہی حال عیش و عشرت کا ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹل، بہترین کھانے، دنیا بھر کی سیر—یہ سب وہ خواب ہیں جن کے لیے انسان اپنی جوانی، اپنی صحت اور اپنی روح تک گروی رکھ دیتا ہے۔ مگر آخری وقت میں، جیسا کہ لتا منگیشکر کہتی ہیں، انسان کو ہسپتال میں ایک لیب سے دوسری لیب میں بھیجا جا رہا ہوتا ہے۔ وہی جسم، جسے کبھی آرام و آسائش دی گئی، اب سوئیوں اور مشینوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ لتا منگیشکر کے مطابق، ایک وقت تھا جب سات ہیئر ڈریسر روزانہ ان کے بال بناتے تھے، مگر آج ان کے سر پر بال نہیں۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو ظاہری خوبصورتی پر ناز کرتا ہے۔ جوانی، حسن، طاقت—یہ سب عارضی ہیں۔ وقت ان سب کو آہستہ آہستہ چھین لیتا ہے، اور انسان آخرکار اپنی اصل حقیقت میں آ جاتا ہے۔
دنیا بھر کے بہترین کھانے کھانے والا انسان، آخرکار چند گولیوں اور نمک کے قطرے پر آ جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سفر کرنے والا، آخرکار دو افراد کے سہارے ہسپتال کے برآمدے میں چلتا ہے۔ یہ تضاد ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہم نے زندگی کے مقصد کو غلط سمجھ لیا ہے۔
اصل بات وہ ہے جو لتا منگیشکر نے آخر میں کہی: “کسی بھی سہولت نے میری مدد نہیں کی، لیکن کچھ پیاروں کے چہرے اور ان کی دعائیں مجھے زندہ رکھتی ہیں۔”
یہ وہ نکتہ ہے جہاں سے ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ ہم نے سہولتوں کو سب کچھ بنا لیا، اور رشتوں کو وقت دینے کا وقت ہی نہیں نکالا۔ ہم نے دولت کو ترجیح دی، اور انسان کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مگر آخرکار، جب سب کچھ چھوٹ جاتا ہے، تو صرف رشتے، دعائیں اور محبت ہی انسان کا سہارا بنتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کے یہ الفاظ دل کو چیر دیتے ہیں:
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے
دنیا کا میلہ چلتا رہے گا۔ نئی نسل آئے گی، نئے خواب ہوں گے، نئی دوڑیں لگیں گی۔ ہم سب ایک ایک کر کے اس میلے سے رخصت ہو جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی دیر






