#کالم

تل کے لڈو 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

اس سال بہاولپور جیسے صحرائی اور گرم ترین علاقے میں سردی اتنی شدید تھی کہ :سردی سے دانت بجنے  ” کا مطلب سمجھ میں آگیا ۔اسی  دوران  گذشتہ دنوں میری ایک بھتیجی راحت بڑی محبت سے میرے لیے السی کا  خشک حلوہ بنا کر سردیوں کا تحفہ لائی  تو مجھے بےساختہ اپنی زندگی کے کچھ کڑے دن اور امی جان کے ہاتھوں کے بنے گڑ ،تل ،آٹے اور دیسی گھی کی خوشبو والے وہ تلوں کے لڈو یاد آگئے میں نےشکریہ ادا کیا اور  کہا کہ یہ حلوہ بہت اچھا ہے مگر ان تلوں کے  لڈوں کا مقابلہ نہیں کرتا  جو ہماری ماں  سخت سردیوں میں باورچی خانے میں سوکھی لکڑی جلا کر مٹی کے چولہے پر بنایا کرتی تھیں اور پھر انہیں  ایک پرانے گھی کے کنستر میں بھر کر رکھ لیتی تھیں ۔ان میں سے کچھ وہ روزآنہ ہمیں خود دیا کرتی تھیں اور کچھ ہم چوری سے نکال کر کھاجاتےتھے  اور وہ گن کر تو نہ رکھتی تھیں مگر کہتی تھیں کہ "لڈومجھے کچھ کم کم لگ رہے ہیں ” ؟   چوری کے لڈو کا ذائقہ الگ ہی ہوتا تھا ۔اب اپنے ان دنوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ایک خواب سا لگتا ہے ۔

میری زندگی کے سب سے کڑے اور مشکل دن وہ تھےجب میں نے ۱۹۷۶ء میں  اپنی بنک سروسزکا آغاز حبیب بنک لمیٹد کی جیٹھ بھٹہ برانچ سے کیا ۔یہ برانچ اس وقت حئی سنز شوگر ملز کے اندر ہوا کرتی تھی اور تمام علاقے کی  گنے کی کیش پے منٹ اسی برانچ سے ہوا کرتی تھی ۔یہ وہ زمانہ تھا جب پبلک ٹرانسپورٹ بہت کم ہوا کرتی تھی لوگ زیادہ ٹرین سے ہی سفر کرتے تھے ۔ ایک جگہ جگہ ٹھہرنے والی  لوکل   بس احمدپورشرقیہ سے خان پور کے لیےصبح چھ بجے روانہ ہوتی اور وہی شام کو واپس آتی تھی سڑکوں کا برا حال ہوا کرتا تھا یعنی ایک تو سڑک سنگل پھر جگہ جگہ سے ٹوٹی پھوٹی یا کچی ہوا کرتی تھی ۔میں غالبا ” نومبر کے سرد ترین  دنوں میں وہاں پہنچا تو رہنے کی جگہ نہ تھی ۔برانچ منیجر اور اسٹاف زیادہ تر خان پور سے روزآنہ آتے تھے ۔پہلے چند دن تو بنک کی بلڈنگ میں ہی قیام کیا ۔پھر بڑی مشکل سے ایک کمرہ نما دوکان  ریلوے اسٹیشن کے سامنے کرایہ پر لی جس میں دو چارپائی بمشکل آسکتی تھیں ۔میرے ساتھ ایک گودام چوکیدار محمداکرم بھی ہوا کرتا تھا جو رات کو اپنی ماں کو یاد کرکے روتا رہتا اور صبح تہجد کے وقت تلاوت شروع کردیتا ۔رات دیر تک بنک کا کام کرنا پڑتا پھر چارپائی پر لیٹ کر بھی ساری رات گزرنے والی ٹرین کی آوازیں سونے نہ دیتیں ۔صبح قریبی جنگل میں ضروریات سے فارغ ہو کر شوگر ملز سے نکلنے والے گرم پانی سے نہاتے اور ڈیوٹی پر بغیر ناشتے کے پہنچ جاتے ۔ناشتے کے بغیر ڈیوٹی کرنے کا تجربہ مجھے پہلے ہی تھل جیوٹ ملز کی ڈیوٹی کے دوران ہو چکا تھا ۔اتفاقا” یہاں بھی بنک کے ساتھ ہی لیبر کینٹین بنی ہوئی تھی وہ صبح دس بجے کھلتی تھی تو ناشتہ کرتے تھے ۔یہاں موج یہ تھی کہ صبح دس بجے بھی صرف چاۓ ہی مل سکتی تھی کیونکہ وہ مفت ہوتی تھی  اس لیے کئی کئی کپ پی جاتے تھے ۔کھانا دوپہر کو ملتا یا پھر شام کے بعد نصیب ہوتا تھا ۔شدید سردی میں صبح ناشتہ نہ ملنا بڑی تکلیف دیتا تھا ۔اتوار کو گھر آکر امی جان سے ذکر کیا تو انہوں نے تو انہوں نے فورا” گڑ ،آٹے اور تلوں کے لڈو دیسی گھی میں تیار کرکے دو لڈو فی دن کے حساب سے ایک ڈبے میں بند کر کے دئیے کہ روز صبح ناشتے میں کھا لینا بھوک نہیں لگے گی ۔ایک لڈو تمہاراہے دوسرا اپنے ساتھی کو دینا اکیلا کھاتا انسان اچھا نہیں لگتا ۔یہ لڈو ایک مکمل غذا ثابت ہوۓ اور میں سردی اور بھوک دونوں سے بچ گیا ۔مجھے یاد ہے کہ پورا اسٹاف مجھ سے ان لڈوں کی فرمائش کرتا ۔ہمارے ایک افسر تو گھر سے میرے لیے ناشتہ بنوا کر لاتے اور کہتے کہ ناشتہ میری طرف سے مگر آج کا  لڈو مجھے دے دو ۔آج بھی مجھے یاد آتا ہے کہ ہماری مائیں لڈو بناتے ہوۓ گنتی نہیں کرتیں تھیں اور نہ وہ گن کر دیتی تھیں ان کے ہاتھوں سے بنے ہر لڈو میں محبت کا لمس ،تھوڑی سی ممتا کے جذبے کی ذخیرہ شدہ حرارت اور بچوں کی حفاظت کی  فکر اور دعاوں کی سوغات گوندھی ہوتی تھیں ۔شاید انہیں محبتوں کی تاثیر ان لڈوں کو نایاب بنا دیتی تھی ۔

ہمارے گھر جب سردی آتی تھی تو سب سے پہلے ہماری امی جان کے ہاتھوں میں آتی تھی ۔ہماری امی جان کی عادت تھی کہ سردی کے آغاز میں ہی وہ یہ تلوں کے لڈو بنا لیتی تھیں اور ہم بچوں کو رات سوتے وقت اور صبح ناشتے میں ایک ایک دیا کرتی تھیں ۔مجھے آج بھی سردی آتے ہی امی جان کے گڑاور تلوں کے لڈو یاد آتے ہیں ۔ان کی زندگی میں سردی دراصل موسم نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ امی جان کے ہاتھوں کی یاد دھانی  ہوتی تھی کہ کچھ چیزیں جسم سے پہلے دل کو گرما دیتی ہیں ۔جی ہاں چولہے پر رکھے لوہے کے کڑاہے یا دیگچی میں پگھلتا ہوا گڑ ،تلوں کی خوشبو اور لکڑی یا لوہے کے چمچ کی مخصوص آواز یہ سب مل کر اعلان کرتے تھے کہ موسم بدل چکا ہے ۔کڑاہی میں پگھلتا گڑ ،وقت کی طرح آہستہ آہستہ نرم ہو کر گندم کے آٹے میں جذب ہوتا اور  چھوٹے چھوٹے تل بغیر کسی شور کے خود کو اس گرم حلوۓ میں شامل ہوکر ذائقے اور لذت کے لیے خو د کو قربان کردیتے تھے ۔امی جان کے ہاتھوں کے بنے یہ لڈو اکثر مکمل گول نہیں ہوا کرتے تھے لیکن پھر بھی مکمل ضرور ہوتے تھے ۔آج بھی سردیوں کی دھند میں کہیں سے گڑ کے پگھلنے کی خوشبو آجاۓ تو امی جان کی یاد آجاتی ہیں وہ کچن ،وہ چولہا اور وہ جلتی لکڑیاں کی چرچراہٹ اور پھر ان کی شفقت بھری ڈانٹ "زیادہ گرم نہ کھانا منہ جل جاۓ گا "وہ کہتی تھیں کہ "سردی کو کھانا نہ دیا جاۓ تو یہ ہڈیوں میں اتر جاتی ہے ” ان لڈوںمیں موسم کی سختی بھی  بھی سمٹ آتی اور ماں کی دعا بھی شامل ہوتی ۔ ہم بچوں کے لیے وہ لڈو محض ایک مٹھائی نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ماں کی دعا کی گول گول شکلیں ہوتی تھیں ایک لڈو کھاتے تو یوں لگتا جیسے سردی ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ہو ،ہاتھوں میں حرارت اتر آتی اور دل میں ایک انجانی سی تسکین محسوس ہوتی  اور ہم بلا سویٹر ننگے پیر اور ننگے سر کھیلتے پھرتے تھے ۔اس وقت ہم سمجھتے رہے کہ یہ شاید شدید سردی سے بچاؤ کا کوئی نسخہ ہے ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ یادوں کا ذخیرہ بن جاۓ گا جو زندگی بھر ہماری تنہائی میں کام آۓ گا ۔ وقت نے بہت کچھ بدل دیا مگر سردی آج بھی وہی ہے اور گڑ و تل کے دیسی گھی کے لڈو آج بھی شاید وہی اثر رکھتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اب لڈو میٹھے کم اور یادیں زیادہ لگتے ہیں کیونکہ آج بھی  جب سردی  آتی ہے گڑ بھی ہے ،تل بھی ہیں بس امی جان نہیں ہیں شاید اسی کمی کا نام سردی کی شدت ہے ۔سردی اب بھی آتی ہے مگر امی جان کے ہاتھوں کی آنچ اب صرف یادوں میں ہی جلتی دکھائی دیتی ہے اور شاید اسی کا نام "ماں ” ہوتا ہے ۔آخر کار یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سردی کو گرم کپڑوں ،جلتے کوئلوں اور ان گرم خوراکوں سے نہیں بلکہ امی جان کے ہاتھوں سے شکست ہوتی تھی ۔وہ لڈو کو ئی مٹھائی نہیں بلکہ محبت کی وہ شکل تھے جو سخت موسموں کو بھی نرم کردیتے تھے ۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امی جان کے ہاتھوں کی وہ حرارت ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رکھے ۔سردیاں پھر آئی ہیں اور ہمیشہ آتی رہیں گیں اور یقینا” کسی اور ماں کے ہاتھوں کسی اور باورچی خانے میں وہی دعا ایک نئے لڈو کی صورت زندگی کو پھر سے گرم کردے گی ۔کیونکہ ماں تو پھر ماں ہوتی ہےچاہے وہ کسی کی بھی ہو ۔ اس رشتے کی محبت کا وقت اور زمانے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔لیکن ناجانے کیوں اپنی  ہی ماں سب سے اچھی کیوں لگتی ہے ؟

تل کے لڈو 

21/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے