#کالم

غم و خوشی کا توازن نہیں زمانے میں

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب

انسانی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی نظر آ تی ہے کہ انسان ازل سے خوشی (Happiness) کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ غاروں کی وحشت ناک تنہائیوں سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور (Digital Age) کی چکا چوند تک اگر حضرتِ انسان نے خلوصِ نیت سے کسی شے کا تعاقب کیا ہے تو وہ "خوشی” ہے۔ کبھی اسے اقتدار (Power) کے ایوانوں میں ڈھونڈا گیا، کبھی دولت (Wealth) کی کثرت میں، اور کبھی نفسانی خواہشات (Desires) کی تسکین میں۔ یہی سبب ہے کہ تاریخ کے سینے پر "زن، زر اور زمین” کے فتنے ہمیشہ انسانی کشمکش (Human Conflict) کا محور رہے۔ عظیم الشان سلطنتیں انہی تین ستونوں پر کھڑی ہوئیں اور پھر انہی کی بھڑکائی ہوئی آگ میں بھسم ہو گئیں۔

سکندرِ اعظم نے دنیا کو تو زیرِ نگیں کر لیا مگر دل کی ویرانی فتح نہ کر سکا۔ چنگیز خان نے بستیوں کی بستیاں خاکستر کر دیں مگر سکون (Inner Peace) کا ایک لمحہ اس کی دسترس میں نہ آیا۔ انسان کا گمان تھا کہ وسائل (Resources) کی فراوانی، لامحدود اختیار (Unlimited Authority) اور لذت (Pleasure) کا حصول ہی خوشی کے زینے ہیں، مگر گردشِ ایام نے ثابت کیا کہ یہ سب محض نظر کا دھوکہ اور سراب تھا۔ انسان جتنا سمیٹتا گیا اور کی خواہش مزید زور پکڑتی گئی۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

دراصل انسان ہمیشہ سے جبلتوں (Instincts) کا غلام رہا، غلامی بھی ایسی کہ ان کی تسکین کے لیے ہر اخلاقی دیوار اور سماجی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر بس اسی کی تکمیل میں نہ صرف لگا رہا بلکہ خوشی سے لگا رہا۔
جب ہم فلسفے کی وادی میں قدم رکھتے ہیں تو یہ گتھی مزید الجھ جاتی ہے۔ کیا یونان کے قدیم دانشور اور کیا مغرب کے جدید مفکرین، سب اس معمے کو حل کرنے میں سرگرداں رہے کہ آخر خوشی ہے کیا؟ ایپی کیورس (Epicurus) نے صدا لگائی کہ خوشی درد سے نجات اور سادہ طرزِ زیست (Simple Living) میں پنہاں ہے۔ ارسطو (Aristotle) نے اسے "یوڈیمونیا” (Eudaimonia) کا نام دے کر اخلاقی فضیلت (Virtue) سے جوڑا۔ دورِ حاضر میں وجودیت پسندوں (Existentialists) مثلاً ژاں پال سارتر (Jean-Paul Sartre)، البر کامیو (Albert Camus) اور فریڈرک نطشے (Friedrich Nietzsche) نے کہا کہ زندگی میں خوشی کے معنی (Meaning) خود تخلیق کرو، تو اب آ پ دیکھنے یہی وہ جدید فلسفہ ہے جس کا عکس ہمیں آ ج کی دنیا کے خد و خال میں نظر آتا ہے۔

یہاں مذہب ایک اچھوتا فلسفہ پیش کرتا ہے جس کو مانے بغیر دنیا میں خوشی کا حصول مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ وہ فلسفہ حیات بعد الموت (Life After Death) کی خوشخبری ہے۔
آپ ذرا غور کیجیے، ہٹلر لاکھوں انسانوں کا خون کر کے اپنی ایک جان دے کر چلتا بنا، تو کیا منطق اس بات کو مان لیتی ہے کہ بدلہ پورا ہو گیا؟
دراصل دنیا ہر ایک انسان کے لیے امتحان گاہ ہے اور ہر کسی کو اپنا الگ سوال نامہ اپنی استطاعت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اعمال سے حل کرنا ہے، اور جزا اور سزا کا فیصلہ آخرت میں ہو گا، اور کچھ لوگ اس روز مایوس ہوں گے اور کچھ خوش و خرم۔

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ

اس روز کچھ چہرے خوش و خرم ہوں گے اور کچھ چہرے مایوسی اور سختی میں ڈوبے ہوں گے۔
(القیامہ: 22–24)

عنوان میں جو مصرح لکھا گیا ، پورا شعر کچھ یوں ہے ۔

غم و خوشی کا توازن نہیں زمانے میں
وہ ہنس رہے ہیں سرِ بزم، اشک بار ہوں میں

یہ تقریبا چالیس سال پہلے ایک شاعرہ نے لکھا تھا ، مجھے کلام شاعر بزبان شاعر سننے کا شرف حاصل رہا ، وہ ایک اعلی علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں ، انتہائی خوش شکل ، خوش مزاج ، اعلی تعلیم یافتہ ، نیکی اور وفا کا پیکر ، شاعری ان پر اترتی تھی ، ایک مرتبہ کسی گھریلو تقریب میں غالب کی غزل

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

سنائی ، وہ ترنم تھا کہ سماں باندھ دیا ، ان کو دیکھ کے دل سے بے ساختہ نکلتا تھا اللہ نظر بد سے بچائے ، لوگ کہتے تھے مستقبل میں شاعری میں بڑا نام پیدا کرئے گی ، تربیت ایسی تھی ماں باپ نے جو فیصلہ کر دیا سر جھکا دیا ، سب ٹھیک چل رہا تھا اور پھر ماں باپ سے ایک غلط فیصلہ ہو گیا ، ان کی شادی ایک ایسے شخص سے کر دی جو بظاہر بڑا خاندانی تھا ، مگر شادی کے کچھ عرصہ بعد وہ بیگم سے کہنے لگا کس کے لیے شاعری کرتی ہو بند کرو یہ خرافات۔

اللہ نے انتہائی خوبصورت بیٹا اور بیٹی دیے ، ادھر اختلافات لڑائیوں میں اور بات طلاق پر منتج ہوئی ۔بیٹا بارہ سال کا تھا ماں کی طرح سینسٹو تھا ، ذہن پر اثر لے گیا اور آہستہ آہستہ ذہن ڈیٹریوریٹ ہوتا گیا ، طلاق کے بعد وہ اپنی فیملی کے ساتھ یورپ چلی گئیں اور ایک ایسا وقت آ یا بیٹے کو مینٹل ہاسپیٹل داخل کروانا پڑا۔ کچھ عرصہ پہلے علم ہوا بیٹے کو نمونیہ ہوا ڈاکٹر تشخیص نہ کرسکے اور اس کی اچانک ڈیتھ ہو گئی ۔ سابق شوہر نامدار نے دوسری شادی کی اور جو باقی ماندہ زندگی تھی اپنی موج مستی میں گزار دی ۔

اگر آج اس خاتون کو کوئی چیز مطمئن رکھے ہوئے ہے تو وہ حیات آخرت کا تصور ہے جہاں اسے امید ہے۔ اس دنیا میں اس نے جو بے اندازہ دکھ جھیلے وہاں ان کا مدوا ہو گا اور ضرور ہو گا ، انشاللہ

قرآنِ میں ارشاد ہوا،
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
"اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے۔” (آل عمران: 185)۔

دنیا میں خوشی کا منبع خارج (External) نہیں، داخلی (Internal) ہے، ہمیں علم ہے خوشی باعثِ سکون ہے اور ابدی سکون کے حصول کے لیے قرآن کا اعلان سن لی جیے۔

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"سن لو! دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے۔” (الرعد: 28)

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے