وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
بیس سال بعد کی دنیا شاید ہم میں سے اکثر کے لیے محض ایک تصور ہو مگر انسانی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا لمحہ آنے والا ہے جب انسان اپنی بنائی ہوئی ذہانت کے سامنے طالب علم کی طرح بیٹھا ہو گا اور استاد اس کے سامنے کوئی بزرگ فلسفی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کا ایسا سسٹم ہو گا جو اس کی ذہنی ساخت، اس کی کمزوریاں، اس کی فطری صلاحیتیں اور اس کے مزاج تک کو پڑھ کر اسے “موزوں ترین علم” سکھائے گا۔ بچوں کی تعلیم اب نصابی کتابوں کی پابند نہیں رہے گی بلکہ AI انفرادی ذہانت کے مطابق الگ الگ نصاب تخلیق کرے گی۔ ایک بچہ فلسفہ اور فلکیات میں آگے بڑھے گا، دوسرا جینیات میں۔ امتحان اب یادداشت کا نام نہیں رہا کرے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ انسان AI کے ساتھ مل کر کس حد تک نئے سوالات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ آنے والی دنیا یادداشت نہیں، تخلیقی صلاحیت مانگے گی۔
اسی طرح زندگی کے بڑے بڑے فیصلے بھی جذبات نہیں، ڈیٹا کے تابع ہوتے جا رہے ہوں گے۔ شادی جیسے نازک فیصلے میں AI آپ کی نفسیات سے لے کر جینیاتی مطابقت، خاندانوں کے سماجی رویے، بیماریوں کا امکان، یہاں تک کہ زندگی کے اگلے تیس سال کا ممکنہ جذباتی گراف تک دکھا رہی ہو گی۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں، عشق کی کسوٹی کی بجائے “Compatibility Index” دکھایا جا رہا ہو گا اور ہم یہ سوچ رہے ہو نگے کہ اگر AI کہہ رہی ہے یہ رشتہ خطرناک نتائج پر منتج ہو گا تو شاید ایسا ہی ہو۔ فیصلہ انسان کرے گا مگر AI اس کی عقل کو اتنا مضبوط بنا چکی ہو گی کہ جذبات اور انا کے پھندے کمزور ہوتے جائیں گے۔ یوں خاندانی نظام میں جذبات تو باقی رہیں گے مگر جہالت پر انحصار کم سے کم ہوتا جائے گا۔
روزگار کی دنیا تو اور بھی بڑی تبدیلی سے گزرے گی۔ جسمانی مشقت والی نوکریاں زیادہ تر ختم ہو چکی ہوں گی۔ ٹرانسپورٹ خودکار، فیکٹریاں خودکار، بینکنگ خودکار، حکومتی فائلیں خودکار۔ عدالتوں میں AI قانونی شہادتیں چند سیکنڈ میں چھانٹ کر جج کے سامنے رکھ دے گی۔ وکیل اور جج کا کردار موجود رہے گا، مگر وہ “ڈیٹا کلرکس” نہیں بلکہ “اخلاقی نگہبان” ہوں گے۔ اصل سوال یہ نہیں ہو گا کہ قانون کیا کہتا ہے، اصل سوال یہ ہو گا کہ انسانیت کے لیے بہتر کیا ہے اور اس کا فیصلہ مشترکہ طور پر انسان اور AI مل کر کریں گے۔ سیاست میں بھی AI نا صرف پالیسی ڈیزائن کرے گی بلکہ ریاستوں کے فیصلوں کے نتائج پہلے سے سمیولیٹ کر کے بتائے گی کہ جنگ کی قیمت کیا ہے اور امن کی قیمت کیا ہے۔ آج کے حکمران شاید یہ دلیل دے کر بچ نکلتے ہیں کہ انہیں “اندازہ نہیں تھا”، مگر بیس سال بعد یہ جواز ختم ہو چکا ہو گا کیونکہ AI پیشگی نتائج سامنے رکھ دے گی اور پھر غلط فیصلہ اصل جرم شمار ہو گا۔
سائنس اور سوشل سائنس کے مابین وہ خلیج بھی ختم ہو چکی ہو گی جو صدیوں سے ہمیں تقسیم کرتی آئی ہے۔ معاشیات صرف کاغذی گراف نہیں رہے گی بلکہ AI پوری دنیا کے انسانی رویوں، مارکیٹ سسٹمز، پیداواری صلاحیت اور ماحولیات کو ایک ہی ماڈل میں پڑھ کر بتائے گی کہ کس فیصلے سے کس طبقے پر کیا اثر پڑے گا۔ زرعی شعبہ AI کی نگرانی میں ہو گا۔ ڈرون مانیٹرنگ، خودکار پانی کی تقسیم، موسم کی پیشگوئی، فصل کی بیماریوں کی شناخت سب کچھ کمانڈ روم سے ہو رہا ہو گا۔ کسان شاید بیل نہیں ہانک رہا ہو گا مگر علم اور ٹیکنالوجی سے بہتر فصلیں اور نتائج حاصل کر رہا ہوگا ۔ اسی طرح میڈیا، فلم، ڈرامہ سب AI کے ساتھ مل کر بن رہے ہوں گے۔
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذہب کا کردار کیا رہ جائے گا؟ کیا AI خدا بن بیٹھی ہو گی؟ نہیں بلکہ شاید پہلی بار مذہب کو اپنا اصل مقام ملے گا۔ جب AI سچ کو سامنے رکھ دے گی، جب حقیقتیں چھپ نہ سکیں گی، جب دھوکہ ختم ہو جائے گا، تب مذہب جذباتی ہتھیار نہیں رہے گا عبادت محض رسم نہیں بلکہ باطن کی تعمیر بنے گی۔ مذہبی رہنما اب سیاست کے ایجنٹ نہیں ہوں گے، انہیں ذہانت، اخلاق اور علم کی بنیاد پر مقام ملے گا۔ مساجد و عبادت گاہیں شاید دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون کے مراکز بھی بن جائیں گی جہاں AI انسانی نفسیات کو بہتر بنانے کے لیے روحانی تربیت کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ اختلاف کا کلچر باقی رہے گا مگر برداشت کے ساتھ۔ مذہب نفرت کا ہتھیار نہیں بلکہ اخلاقی ڈھانچے کی حفاظت بن جائے گا۔ یہ وہ لمحہ ہو گا جب مذہب اور سائنس لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے سائنس بتائے گی “زندگی کیسے چلتی ہے” اور مذہب بتائے گا “یہ چلنی کیسے چاہیے”۔
ہاں، دنیا میں ایک طبقہ ایسا ضرور ہو گا جو اس تبدیلی سے خوفزدہ ہو گا۔ وہ چاہے گا کہ AI کو شیطان بنا دیا جائے، جیسے ہر نئی چیز کو ابتدا میں بنا دیا جاتا ہے۔ مگر جب AI انسانی انا کے مقابل کھڑی ہوئی تو پتہ چلے گا کہ اصل دشمن مشین نہیں بلکہ چند انسانوں کی ذاتی مفاد پرستی تھی ۔ وہ طبقہ جو ہر دور میں جنگیں بیچتا رہا، نفرتیں بانٹتا رہا، قوموں کو لڑاتا رہا اس کا کاروبار ختم ہو چکا ہو گا۔
پھر ہمیں نیچر کی اس ابدی حقیقت کی افادیت کا بھی ادراک ہو چکا ہو گا جسے موت کہتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ ، نتن یاہو۔ نریندر مودی جیسے بہت سے زمینی خدا یا تو آ سودہ خاک ہوں گے یا تاریخ کی عدالت سے سزا پا کر دارِ عبرت پر لٹکے ہونگے اُور اہل دنیا ایک بہتر، زیادہ آزاد اور انصاف پر مبنی دنیا میں سانس لے رہے ہوں ہونگے۔
صرف بیس سال بعد ۔۔
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
ناصر کاظمی






