مقامی انڈسٹری کا مستقبل کا سفر
تحریر، محمد ندیم بھٹی
پاکستان میں گاڑیوں کی مارکیٹ ہر روز تیزی سے بدل رھی ھـے۔ بدلتے ہوئے حالات، عالمی معاشی دباؤ اور درآمدی پالیسیوں کے اثرات نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ھـے۔ حالیہ برسوں میں چینی گاڑیاں مارکیٹ پر چھا گئی ہیں اور شو رومز میں ان کی بھرمار نظر آتی ھـے۔ اس صورتحال نے عام شہری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ھـے کہ آخر کیوں ایک متوسط پاکستانی کے لیے نئی گاڑی خریدنا دن بدن مشکل ھوتا جا رھا ھـے۔ حقیقت یہ ھـے کہ پاکستان میں فروخت ھونے والی زیادہ تر گاڑیاں براہِ راست یا بالواسطہ درآمدی ہیں جن کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ ھیں۔
ان بلند قیمتوں کے پیچھے صرف بھاری ٹیکس، کسٹم ڈیوٹیز اور رجسٹریشن فیس ہی شامل نہیں بلکہ بیرونی منڈیوں پر ہمارا مسلسل بڑھتا انحصار بھی ایک بڑی وجہ ھـے۔ جب ہم ہر چیز باہر سے منگواتے ہیں تو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ھوتا ھـے بلکہ ملکی معیشت پر بھی اضافی بوجھ پڑتا ھـے۔ یہی وجہ ھـے کہ آج پاکستان میں مقامی صنعت کے فروغ، خاص طور پر مقامی گاڑی انڈسٹری کے قیام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکی ھـے۔
اگر پاکستان واقعی اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ھـے تو امپورٹ پر حد سے زیادہ انحصار کم کر کے مقامی گاڑیوں کی صنعت قائم کرنا ایک عملی، ناگزیر اور دیرپا حل ھـے۔ یہ قدم صرف گاڑیوں کی دستیابی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت، روزگار، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور سماجی استحکام تک پھیلیں گے۔
معاشی خود کفالت کے حوالے سے مقامی گاڑی انڈسٹری کا کردار نہایت اہم ھـے۔ اس وقت پاکستان ہر سال اربوں ڈالر گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد پر خرچ کر دیتا ھـے۔ ہر نئی درآمدی گاڑی کے ساتھ قیمتی زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ھو جاتا ھـے، جس سے روپے کی قدر کمزور اور مہنگائی میں اضافہ ھوتا ھـے۔ اگر یہی سرمایہ ملک کے اندر رہ کر صنعت، فیکٹریوں اور پیداواری یونٹس پر خرچ ھو تو معیشت کا پہیہ تیز رفتاری سے گھوم سکتا ھـے اور مالی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ھـے۔
مقامی گاڑی انڈسٹری کا ایک اور بڑا فائدہ روزگار کے وسیع مواقع ھیں۔ پاکستان ایک نوجوان ملک ھـے جہاں لاکھوں تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اگر ملک میں گاڑیوں کے اسمبلی پلانٹس، مینوفیکچرنگ یونٹس، اسپیئر پارٹس کی فیکٹریاں، مکینیکل ورکشاپس، ٹرانسپورٹ، سپلائی چین اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک قائم کیے جائیں تو لاکھوں افراد کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار مل سکتا ھـے۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ متوسط طبقہ بھی مضبوط ھوگا، جو کسی بھی مستحکم معیشت کی بنیاد سمجھا جاتا ھـے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی انڈسٹری کے قیام سے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ ھوگا۔ جدید مشینری، آٹومیشن سسٹمز اور انجینئرنگ کے نئے طریقے ملک میں متعارف ھوں گے۔ نوجوان انجینئرز، مکینکس اور ٹیکنیشنز کو عملی تربیت کے مواقع ملیں گے، جس سے نہ صرف گاڑیوں کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ مستقبل میں دیگر صنعتی شعبے بھی ان مہارتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
سماجی لحاظ سے بھی مقامی گاڑی انڈسٹری کے مثبت اثرات مرتب ھوں گے۔ جب مقامی لوگ مقامی پیداوار سے وابستہ ھوں گے تو ان کی آمدنی میں اضافہ ھوگا اور معیارِ زندگی بہتر ھوگا۔ مزید یہ کہ مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے سے گاڑیوں کی قیمتیں آہستہ آہستہ کم ھونا شروع ھو جائیں گی۔ اس طرح گاڑی صرف امیر طبقے کی عیاشی نہیں رہے گی بلکہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے بھی ایک قابلِ حصول سہولت بن سکے گی۔
تاہم یہ بھی حقیقت ھـے کہ مقامی گاڑی انڈسٹری کا قیام ایک مشکل اور طویل عمل ھـے جس میں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ سب سے پہلا چیلنج ابتدائی سرمایہ کاری ھـے۔ گاڑیوں کی صنعت کے لیے بھاری سرمایہ درکار ھوتا ھـے، جس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ھوگی۔ سرمایہ کاروں کو اعتماد دینا اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا ناگزیر ھـے۔
دوسرا بڑا چیلنج معیار کا ھـے۔ ابتدا میں مقامی گاڑیاں شاید بین الاقوامی معیار اور جدید فیچرز کے لحاظ سے درآمدی گاڑیوں کا مکمل مقابلہ نہ کر سکیں۔ مگر اگر شروعات میں سادہ، مضبوط اور کم خرچ ماڈلز تیار کیے جائیں تو عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ھـے۔ وقت کے ساتھ تحقیق، تجربے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے معیار میں بہتری ممکن ھـے۔
تیسرا چیلنج قیمت کا ھـے۔ ابتدائی مرحلے میں مقامی گاڑیوں کی قیمت زیادہ ھو سکتی ھـے کیونکہ پیداواری حجم محدود ھوگا۔ مگر جیسے جیسے پیداوار بڑھے گی اور سپلائی چین مضبوط ھوگی، لاگت میں کمی آئے گی اور قیمتیں بھی نیچے آ جائیں گی۔ یہی وہ مرحلہ ھوگا جہاں مقامی صنعت حقیقی معنوں میں مستحکم ھو جائے گی۔
چوتھا چیلنج وقت کا ھـے۔ مقامی انڈسٹری ایک دن یا ایک سال میں کامیاب نہیں ھوتی۔ اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، صبر اور مستقل مزاجی درکار ھـے۔ مگر اگر درست سمت میں قدم اٹھائے جائیں تو یہی صنعت آنے والے برسوں میں پاکستان کے لیے ایک مضبوط ستون بن سکتی ھـے۔
اس سلسلے میں حکومت کا کردار انتہائی اہم ھـے۔ غیر ضروری امپورٹ کو مرحلہ وار محدود کیا جائے، خصوصاً پرانی اور غیر معیاری گاڑیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ سرمایہ کاروں کو آسان قرضے، ٹیکس میں رعایت اور دیگر مراعات دی جائیں تاکہ مقامی صنعت کو فروغ ملے۔ فنی تربیت کے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ افرادی قوت عالمی معیار کے مطابق تیار ھو سکے۔ انتظامی اور قانونی رکاوٹیں کم کر کے صنعت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی ناگزیر ھـے۔
آخر میں یہ کہنا بالکل درست ھـے کہ پاکستان میں امپورٹ پر انحصار کم کر کے مقامی گاڑی انڈسٹری قائم کرنا کوئی خواب نہیں بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت ھـے۔ یہ حکمتِ عملی ملکی معیشت کو مضبوط کرے گی، روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، زرمبادلہ کی بچت ممکن بنائے گی اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد دے گی۔ اگر درست منصوبہ بندی






