عنوان: علیؑ — ایک نام، ایک کردار، ایک ابدی معیار
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
تاریخِ انسانی میں بعض شخصیات محض کسی مخصوص زمانے، گروہ یا عقیدے تک محدود نہیں رہتیں وہ وقت کی سرحدوں کو توڑ کر انسانیت کے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہیں۔ حضرت علی ابنِ ابی طالبؑ انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کا ذکر جہاں عقیدت کے ساتھ آتا ہے، وہیں عقل، عدل، جرأت اور کردار کی ایک ایسی مثال بن کر سامنے آتا ہے جس پر ہر دور اور ہر معاشرہ غور کر سکتا ہے۔
حضرت علیؑ کی ولادت ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاریخ کے مطابق آپ کی پیدائش خانۂ کعبہ میں ہوئی وہ جگہ جو توحید کی علامت ہے۔ یہ واقعہ محض ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ ایک علامت بھی ہے: گویا عدل، شجاعت اور علم کا ظہور اسی مرکز سے ہوا جہاں انسان کو ربِ واحد سے جوڑنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
لیکن حضرت علیؑ کی عظمت صرف اس واقعے تک محدود نہیں۔ ان کی پوری زندگی ایک مسلسل جدوجہد قربانی اور اصول پسندی کی داستان ہے۔
حضرت علیؑ نے بچپن ہی میں رسولِ اکرم ﷺ کی سرپرستی میں آنکھ کھولی۔ وہ گھر جہاں سچ، امانت اور رحمت کی فضا تھی وہیں سے علیؑ کی شخصیت کی بنیاد پڑی۔ اسلام قبول کرنے والوں میں اولین ہونا ہو یا ہر مشکل گھڑی میں رسولِ خدا ﷺ کا ساتھ دینا علیؑ ہر مرحلے پر کردار کی مضبوطی کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔
جنگ ہو یا امن، حکومت ہو یا غربت، اقتدار ہو یا گوشہ نشینی حضرت علیؑ کا معیار ایک ہی رہا: عدل۔
یہ وہ عدل تھا جو دوست اور دشمن میں فرق نہیں کرتا تھا، جو اپنے حق سے پہلے دوسرے کے حق کو دیکھتا تھا جو طاقت کے باوجود رحم اور اختیار کے باوجود انکسار سے جڑا ہوا تھا۔
جب حضرت علیؑ کو خلافت ملی تو وہ دور انسانی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے تھا۔ فتنوں کی آندھیاں، سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور اقتدار کی کشمکش ان سب کے درمیان علیؑ نے حکومت کو دولت یا طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت سمجھا۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی جدید سیاسی فلسفے کے لیے ایک سوال ہے کہ کیا اقتدار کو اخلاق کے تابع رکھا جا سکتا ہے
حضرت علیؑ کے خطوط، خطبات اور اقوال—خصوصاً وہ ہدایات جو انہوں نے اپنے گورنروں کو دیں آج بھی انتظامی شفافیت انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے بنیادی اصول فراہم کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ
حکمران وہ نہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھے بلکہ وہ ہے جو خود کو سب سے زیادہ جواب دہ جانے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت علیؑ کو صرف ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایک عالمی اخلاقی کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے اقوال میں جہاں روحانی گہرائی ہے، وہیں انسانی نفسیات، سماجی رویوں اور طاقت کے استعمال پر ایسی بصیرت ملتی ہے جو آج کے انسان کو بھی راستہ دکھا سکتی ہے۔
حضرت علیؑ کی شجاعت کا تذکرہ ہو تو تلوار ذہن میں آتی ہے مگر ان کی اصل بہادری تلوار سے زیادہ ضبط، صبر اور حق پر قائم رہنے میں نظر آتی ہے۔ وہ دشمن کو معاف بھی کر دیتے ہیں، یتیم کے سر پر ہاتھ بھی رکھتے ہیں اور بیت المال سے چراغ بجھا کر ذاتی گفتگو بھی کرتے ہیں یہ سب اس بات کا اعلان ہے کہ طاقت اگر اخلاق سے خالی ہو تو ظلم بن جاتی ہے۔
آج جب دنیا مذہبی، سیاسی اور سماجی تقسیم کا شکار ہے، حضرت علیؑ کی شخصیت ہمیں جو پیغام دیتی ہے وہ یہ ہے کہ
انسان کی پہچان اس کے نعروں سے نہیں، اس کے کردار سے ہوتی ہے۔
جشنِ ولادتِ حضرت علیؑ منانے کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ہم ان کی زندگی کو صرف اشعار جلوس یا تقاریر تک محدود نہ کریں بلکہ اس سے سیکھیں
عدل کو اپنی ذاتی ترجیحات پر فوقیت دیں
اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں
طاقت کو خدمت میں بدلیں
اور دین کو اخلاق کے بغیر نامکمل سمجھیں
حضرت علیؑ کسی ایک طبقے یا فرقے کی میراث نہیں، وہ انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان کا ذکر صوفی شاعری میں ہو، فلسفے میں ہو، یا جدید فکری مباحث میں ہر جگہ علیؑ ایک معیار بن کر سامنے آتے ہیں۔
آج کے شور زدہ، مفاد پرست اور بے سمت معاشرے میں علیؑ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ
خاموش دیانت بلند کردار اور غیر متزلزل اصول ہی اصل طاقت ہیں۔
جشنِ ولادتِ حضرت علیؑ مبارک ہو
مگر اس شرط کے ساتھ کہ ہم اس جشن کو اپنی زندگیوں میں عدل، سچ اور انسان دوستی کی صورت میں زندہ رکھ سکیں۔






