#کالم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں. بشیر احمد حبیب(امریکہ)

دل پر ہزاروں اشعار کہے گئے اور شاید ہی کوئی dimension ایسی باقی ہو جس پر بات نہ ہوئی ہو ، جس سمت پر زیادہ لکھا گیا اس پر غالب کا انداز دیکھئے ۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

زیادہ اشعار میں دلی کیفیات کا اظہار ہے ، مثلاً فراق کا یہ خوبصورت کلام ،

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

یا پھر جگر مرادآبادی کا یہ زبان زد عام شعر ،

محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی

منیر نیازی کے منفرد اسلوب کے کیا کہنے ،

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

حیدر قریشی کا رنگ دیکھئے ،

رقصاں تھی اِس طرح تری یادوں کی آبشار
کہسار دل کے، جھانجھروں سے گونجتے رہے

نوید صادق کی دل کے مضمون پر مسلسل غزل میں سے ایک خوبصورت رنگ

عکس بن بن کے مٹتے جاتے ہیں
رکھ دیا کس نے آئنہ دل میں

پروین شاکر نے بھی کیا خوب کہا ،

نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے
کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا

مگر ناصر کاظمی کے ہاں شاید پہلی دفعہ دل کی ساختگی سے مضمون اٹھایا گیا ،

شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

اب ناصر کا وجدان دیکھئے جب وہ کہتے ہیں "خانئہ دل اور کوئی دیوار سی” تو ہم دیکھتے ہیں دل میں حقیقتا چار باقاعدہ علیحدہ خانے ہیں جو دیواروں میں مکمل طور پر بند اور دروازوں سے ایک دوسرے میں کھلتے ہیں ، ذرا دل کے اندر کی تفصیلات سنیئے اور سر دھنیے ،

انسانی جسم کے اس بے مثال شاہکار میں ، چار باقاعدہ علیحدہ چیمبرز ، دو ایٹریا اور دو وینٹریکلز، جن میں صاف اور ’’گندا‘‘ خون کسی مقام پر بھی آپس میں نہیں ملتا۔ دایاں ایٹریم پورے جسم سے آنے والا آکسیجن سے محروم اور کاربن ڈائی آکسائڈ سے بھرا ہوا خون وصول کرتا ہے، جبکہ بایاں ایٹریم پھیپھڑوں سے آنے والا تازہ، آکسیجن سے بھرپور خون لیتا ہے۔ یہ ’’گندا‘‘ خون جسم سے دل تک Veins (رگوں) کے ذریعے لایا جاتا ہے، جبکہ ’’صاف‘‘ خون دل سے جسم تک Arteries (شریانوں) کے ذریعے پہنچتا ہے—اور یہی وجہ ہے کہ شریانوں کی دیواریں موٹی اور مضبوط ہوتی ہیں کیونکہ انہیں زیادہ دباؤ برداشت کرنا ہوتا ہے، جب کہ وینز نسبتاً پتلی ہوتی ہیں کیونکہ ان پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ پھر Tricuspid اور Mitral والوز ایک حیران کن نظم کے ساتھ کھلتے ہیں، خون دونوں وینٹریکلز میں منتقل ہوتا ہے، اور اگلے لمحے یہ والوز بند ہو کر بہاؤ کو واپس جانے سے روک دیتے ہیں۔ جب دل سکڑتا ہے تو دایاں وینٹریکل آکسیجن سے محروم خون کو پھیپھڑوں کی طرف پمپ کرتا ہے اور بایاں وینٹریکل تازہ خون پورے جسم میں بھجوا دیتا ہے۔ یہ سب محض میکانکی حرکت نہیں دل کے اندر ایک باقاعدہ الیکٹریکل کنڈکشن سسٹم ہے؛ SA Node نبض کی پہلی چنگاری پیدا کرتا ہے، AV Node اسے منظم کرتا ہے، اور پھر Purkinje fibers اس سگنل کو پورے دل میں پھیلا کر ایک ترتیب شدہ دھڑکن قائم رکھتے ہیں۔ یہی ہم آہنگی ایک منٹ میں اوسطاً 72 بار، یعنی ایک دن میں ایک لاکھ سے زائد دھڑکنوں کے ساتھ تقریباً 7,200 لیٹر خون جسم میں گردش کراتی ہے اور یہ معجزانہ عمل پیدائش سے لے کر آخری لمحے تک بغیر تھکے جاری رہتا ہے۔
اتنی باریک ترتیب، اتنی بے عیب ہم آہنگی اور اتنی عظیم فنکاری ، کہ انسان دنگ رہ جائے مگر المیہ دیکھیئے ، کچھ اہلِ دانش آور سائنٹسٹ اسے محض ’’اتفاق‘‘ اور ’’اندھے ارتقائی دھکوں‘‘ کا نتیجہ سمجھ کر مطمئن ہیں اور دوسروں کو بھی ان خرافات پر یقین دلاتے رہتے ہیں ، اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے ایسی اتفاقات کی تھیوریز سے تو شاید جاہل ملا بھی مدد لینا پسند نہ کرے ۔ کجا یہ کہ ہمارے سائنٹسٹ یہ بات انتہائی سنجیدگی سے کرتے چلے جاتے ہیں۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی دل کو خون سپلائی کرنے والی آرٹریز (arteries) میں جب ہمارے غیر متوازن کھانے یا زیادہ چکنائی (fats) کے جمع ہونے کی وجہ سے رُکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، تو دل تک خون کم پہنچتا ہے۔ جہاں خون نہیں پہنچ پاتا، وہ حصہ مَر جاتا ہے (dead tissue) اور اسی کی وجہ سے ہارٹ اٹیک (heart attack) ہوتا ہے۔ یعنی بقول ناصر کوئی دیوار سی گری ہے والی کیفیت ، اس ہنگامی کیفیت میں ہم جب ڈاکٹر تک پہنچتے ہیں تو وہ بائی پاس تجویز کرتا ہے ۔ اور جب ڈاکٹر بائی پاس کے لیے سینہ چاک کرتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے ،

مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

غلام ہمدانی مصحفی کا شعری وجدان دیکھنے اور داد دیجیے ، پہلی بائی پاس سرجری جو 1960 کے آس پاس ہوئی اور تقریبآ 136 سال پہلے مصحفی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے ۔

ادھر غالب نے کہا تھا ،

میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

یہاں غالب چوک گئے ، رب العالمین نے تو بہت پہلے ہی خبردار کر دیا تھا ،

اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَٮِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ
"خبردار! اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پاتے ہیں”

(سورۂ الرعد ، آیت نمبر 28 )

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

خاموش ہاتھ 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے