#کالم

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

Untitled 1 Recovered copy

بشیر احمد حبیب (امریکہ) دشتِ امکاں

زندگی کے حوالے سے چکبست کا یہ شعر حرف آخر ہی کہا جا سکتا ہے ، زندگی کے عنوان سے اقبال نے تو مسلسل غزل لکھ دی وہ فلاسفر تھے سو ان کے ہر شعر میں الگ کائنات سمٹی نظر آ تی ہے ۔ اس میں سے میرے منتخب تین اشعار یہ ہونگے ۔

اپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے، ضمیر کُن فکاں ہے زندگی

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پُوچھ
جُوئے شِیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی

قلزمِ ہستی سے تُو اُبھرا ہے مانندِ حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

فیض صاحب نے بھی اپنی نظم "چند روز اور مری جان” میں زندگی کے حوالے سے بہت خوب کہا ان کے اس بند کے آخری دو مصرعے تو زبان زد عام ہیں ۔

جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

زندگی پر ساحر ہوشیارپوری نے بھی بہت بھر پور شعر کہا ہے ، جسے جگجیت اور چترا نے گا کر امر کر دیا ۔۔

زندگی ایک سلگتی سی چتا ہے ساحرؔ
شعلہ بنتی ہے نہ یہ بجھ کے دھواں ہوتی ہے

زندگی پر ساغر کا شعر جبر و اختیار کے فلسفے پر فیصلہ صادر کرتا نظر آ تا ہے ،

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

کچھ ایسے اشعار بھی ہیں جن میں زندگی کا لفظ تو نہیں مگر زندگی کے کسی رخ کی بھر پور تشریح نظر آ تی ہے ، مثلاً اطہر نفیس کا خوبصورت مطلع دیکھنے ۔

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں
اپنے گم گشتہ کناروں کے لیے بہتا ہوں میں

غالب نے بھی حیات کے اسی گوشے کی نشاندھی کی ہے جس سے وہ اپنی طبعی عمر میں نبرد آزما رہا ۔

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

آپ ورق الٹتے جائیں ہزاروں شعر زندگی کے حوالے سے ملتے چلے جائیں گے مگر جس جامعیت ، سادگی اور پرکاری کے ساتھ چکبست نے کہا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ۔

آ ئیے سمجھتے ہیں ایسی کیا الگ بات اس شعر میں ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتی ، دیکھا جائے تو اس شعر میں بیان کی گئی زندگی کی تعریف سائنس کے تمام disciplin’s کے ساتھ ہم آہنگ نظر آ تی ہے ۔ سائنس مانتی ہے انسانی جسم کے ہر Organ کی ساخت کی اولین اکائیاں وہی بنیادی عناصر ہیں جو ہماری مادی کائنات میں پائے جاتے ہیں ۔ ہاں سائنس یہاں ضرور خاموش ہے بلکہ دم سادھے بیٹھی ہے کہ انسانی جسم کی یہ خاص ترتیب کیسے عدم سے وجود میں آ گئی ، اگر مطالعہ کریں تو سائنس انہی پرانی تھیوریز سے زندگی کے امکان کے در یوں کھولتی ہے۔۔

سائنس کے مطابق کائنات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے بگ بینگ سے وجود میں آئی، جس کے بعد ستارے، کہکشائیں اور زمین بنی۔ زمین پر مخصوص حالات میں کیمیائی مادے بنے، جن سے ابتدائی نامیاتی مالیکیولز جیسے امائنو ایسڈز اور نیوکلئوٹائیڈز وجود میں آئے۔ ان میں سب سے پہلے RNA کی چھوٹی اکائیاں بنی، جو خود کو نقل کر سکتی تھیں، اور بعد میں DNA اور پروٹین کا نظام وجود میں آیا۔ تقریباً 3.5–4 ارب سال پہلے پہلا سادہ یونی سیلولر جاندار آیا، جس کے بعد ارتقائی عمل سے پیچیدہ خلیات، کثیر خلوی جاندار، نباتات، حیوانات اور آخر کار انسان وجود میں آئے۔ اس طرح سائنس کے مطابق زندگی کی سادہ اکائیوں سے لے کر انسان تک کا سفر قدرتی عمل اور ارتقاء کا نتیجہ ہے۔

یہاں سائنس کا طرز استدلال کسی مولوی کے دلائل کی طرح بے بنیاد نظر آ نے لگتا ہے ، اور یہاں سائنس کی بے بسی دیکھنے کے لائق ہے کیونکہ ترتیب سے بے ترتیبی کا سفر یعنی Entropy سائنس مانتی ہے یہی سیکنڈ لا آف تھرمو ڈائنامکس بھی کہتا ہے ، مگر کسی مخصوص نتیجے کو حاصل کرنے کے لیے آپ سائنس کے ایسے اعلی اور زریں اصول کیسے بالائے طاق رکھ سکتے ہیں ۔ اب اگر آپ کسی ایماندار سائنٹسٹ کی رائے لیں تو وہ اعتراف کرتا ہے کہ زندگی کے ارتقاء کی اصل کہانی کچھ یوں ہے ۔

کائنات بگ بینگ سے بنی اور زمین پر روشنی اور توانائی کے بہاؤ نے زندگی کے لیے ممکنہ حالات فراہم کیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی پیچیدہ ترتیب، خلیات کا مربوط نظام اور DNA کی معلومات اتنی اعلیٰ ہے کہ صرف توانائی یا بیرونی حالات سے پیدا ہونا ممکن نہیں۔ زندگی خود ایک حیرت انگیز phenomenon ہے، جو قدرت کی اعلیٰ ترتیب کی نشانی ہے۔

اب ہم واپس چکبست کی ظہور ترتیب کی ترکیب کی طرف لوٹتے ہیں ، جس میں شاعر نے اس اعلی ترین ہستی کے ہونے کا امکان پیدا کر دیا ہے جو عناصر کی احسن ترین تقویم کا پہلا اور آ خری سببب ہے ۔

قرآن کی سوری 95 ، آ یت نمبر 4 میں ارشاد ہوا ۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ

"بیشک ہم نے انسان کو بہترین صورت و ترتیب میں پیدا کیا ہے۔”

ذرا غور کی جیے جس مقام پر سائنس کی سانس اکھڑتی نظر آ تی ہے وہاں چکبست اپنے وجدان کی چابک دستی سے قرآن کی آ یت میں پیش کردہ زندگی کی تخلیق کی حقیقت سے کس قدر قریب جا پہنچا ہے –

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

(چکبست برج نرائن)

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے