علم کی اہمیت و تعلیمات قرآنی
شاہد بخاری
ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک مانگتی تھی۔ایک شخص نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا کمانے کے قابل نہیں ہے ؟
تو اس ضعیفہ بی بی جواب کہ ھے۔ بابا جی نے ہو چھا تو پھر آپ یہاں کیوں بھیک مانگ رہی ہیں؟
بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔
میرا بیٹا نوکری کے لئے بیرون ملک گیا ہے۔ جاتے ہوئے اخراجات کے لئے مجھے کچھ رقم دے کر گیا تھا ،
وہ خرچ ہوگئی ہے ،
اسی وجہ سے میں بھیک مانگ رہی ہوں۔
اس شخص نے پوچھا – کیا آپ کا بیٹا آپ کو کچھ نہیں بھیجتا ؟
بوڑھی عورت نے کہا – میرا بیٹا ہر ماہ رنگا رنگ کاغذ بھیجتا ہے جسے میں گھر میں دیوار پر چپکا دیتی ہوں۔
وہ شخص اس کے گھر گیا اور دیکھا کہ دیوار پر بینک کے 60 ڈرافٹ چسپاں کردیئے گئے ہیں۔
ہر ڈرافٹ 50،000 روپے کا تھا۔
تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ، وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کے پاس کتنی دولت جمع ھو چکی ہے۔
اس شخص نے اسے ڈرافٹ کی اہمیت سمجھا دی تو وہ عورت بہت خوش بھی ہوئی ، حیران بھی اور پریشان بھی ہوئی کہ دولت ہوتے ہوئے بھی وہ بھیک مانگتی رہی ہے.
ہماری حالت بھی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے
ہمارے پاس قرآن جیسی عظیم دولت ھے، جسے اپنے منہ سے چومتے اور ماتھے پر لگا کر اپنے گھر میں بلندی پر احتراماً رکھ ہیں،کہ اس کی بے ادبی نہ ھو۔
لیکن ہم اس کا فائدہ صرف اس صورت میں اٹھاسکیں گے جب ہم اسے پڑھیں گے،
اس کے معنیٰ اور تفسیر کو سمجھیں گے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں لے آئیں گے۔
تب ہی ان شاءاللہ ہماری دنیا اور اس کے بعد کی زندگی دونوں بہتر ہوں گی۔
قرآن کی صورت میں بہت بڑا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے لیکن ہماری جہالت کی وجہ سے اس میں چھپے انعامات سے آج ہم سب محروم ہیں.اور ذلیل خوار ھو رھے ھیں ۔
کافی عرصہ پہلے توحید روڈ کیماڑی کراچی کے کیپٹن ڈاکٹر مسعود عثما نی شھید کا دو ورقہ پمفلٹ سرگودھا میں پڑ ھا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ایک بیمار شخص FRCS لندن کے پاس جاتا ھے،ڈاکٹر صاحب بڑے غور و خوض سے اس کا میڈیکلی چیک اپ کرنے کے بعد صحیح مرض تشخیص کر کے شفا بخش دواؤں کا نسخہ لکھ کر مریض کو دے دیتا ھے
مریض بجائے میڈیکل سٹور سے ادویات خریدنے کے، گھر جا کر نسخے کو چوم چاٹ کر بلندی پر بچوں کی پہنچ سے دور رکھ دیتا ھے۔
قارئین کرام بتلائیں،ایسا کرنے سے کیا وہ مریض شفایاب ھوگا؟ھر گز نھیں ھوگا بلکہ اس کی بیماری مزید بڑھ سکتی ھے۔
اسی ماھر ڈاکٹر کی طرح الللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر نے کے لئے جو ھدایت نامہ ھمارے لئیے بصورت قرآن پاک نازل فرمایا ھے،اسے ھم نے چوم چاٹ کر احتراماً
بلندی پر رکھ دیا ھے۔ماہ رمضان میں اس کی عربی ریڈنگ کر کے بھت خوش ھوتے ھیں کہ بھت سا ثواب حاصل کر لیا ھے :
فضائل کی طلسماتی فضا میں
ثوابوں کا ذخیرہ ھو رھا ھے
جہاں بھی دیکھئیے دنیا میں مسلم
زبوں بختی پہ اپنی رو رھا ھے
امت مسلمہ کا رونا دھونا تب ھی ختم ہوگا جب ہم قرآ نی تعلیمات پر عمل کریں گے جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
صلاتوں میں سر کو جھکاتے رہو
بھلائی کی جانب بلاتے رہو خدا مہرباں ہے ہر اس شخص پر
بھلائی جو کرتا ہے شام و سحر
بھلائی میں تم سب کے حامی رہو
بدی میں نہ ھر گر تعاون کرو
نصیحت ہے قرآں تمہارے لیے
ہدایت ہے کل قوم کے واسطے
خبردار اے ساکنان زمیں
نہ تم بھول کے شرک کرنا کہیں
جو کرتا ہے دنیا میں نیکی کا کام
صلہ خود ہی پائے گا وہ لا کلام
برائی جو دن رات کرتا رہے نتیجہ برا ہے اسی کے لیے خدا دوست رکھتا ہے، بے شک اسے
ہر اک سے جو انصاف کرتا رہے
ملے تم کو جو حکم رب اے نبی
شب و روز اس کی کرو پیروی
جو مانے گا حکم خدا و رسول
نہ ہوگا قیامت میں وہ دل ملول
گناہوں سے بچتے رہو دم بدم کہ ھو تم پہ خالق کا رحم و کرم
گناہوں کا جس نے کیا ارتکاب
کیا اس نے اپنا ہی خانہ خراب
جو کرتا نہیں ظلم سے اجتناب
وہ ہرگز نہ ہوگا وہاں کامیاب
زمیں میں نہ فتنے اٹھاتے پھرو
ہمیشہ شرارت سے بچتے رہو
زرومال سے اپنے نہ گھر کو بھرو
رعایہ کی دولت پہ نہ قبضہ کرو
سنو حکم خالق کا اے مومنو!
غریبوں پہ خرچ اپنی دولت کرو
سنو غور سے حکم خالق سنو
ہر اک شخص سے عدل و احساں کرو
رکھو ان غریبوں کا بھی تم خیال
جو کر تے نہیں تم سے آ کے سوا ل
تمہارے مصارف سے جو بچ رہے
کرو خرچ راہ خدا میں اسے
یہ باغات جنت ھیں ان کے لئیے
بدی سے جودنیا میں بچتے رہے






