#اداریہ

وینزویلا کیخلاف امریکی کارروائی پرعالمی تشویش

Fahad 01

أج کا اداریہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا میں 3 جنوری کی فوجی کارروائی میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔
 وینزویلا کی صورتحال پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہورہا ہے، اجلاس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرات پر غور کرنا شامل ہے۔
سلامتی کونسل اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بیان پڑھ کر سنایا گیا۔
اپنے بیان میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نےکہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی، وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ امریکی تحویل میں ہیں، وینزویلا میں عدم استحکام پھیلنے اور خطے پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر نیو یارک کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وینزویلوی صدر مادورو نے فردجرم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاہے کہ میں ایک اچھا انسان ہوں مجھے اغوا کیا گیا ہے۔
مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن لایا گیا جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔
امریکی میڈیا کےمطابق  مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنائے اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے
وفاقی عدالت کے جج نے  مادورو  سے اپنی شناخت بتانے کو کہا تو انہوں نے بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔
 جج نے  مادورو کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے، جن میں منشیات اور دہشت گردی کے الزامات شامل تھے۔ تاہم مادورو نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے  الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں بے گناہ ہوں، میں  اب بھی اپنے ملک کا صدر اور مہذب آدمی ہوں،  یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے۔
مادورو کی اہلیہ  نے بھی اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا وہ بے قصور اور بے گناہ ہیں۔
جج نے مقدمے میں لمبی تاریخ دیتے ہوئے  مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
 عالمی قوانین کے ماہرین نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے اس بیان کو اہم قرار دیا ھے کہ” امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام متعلقہ قانونی فریم ورک کا احترام ناگزیر ہے،  ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کا احترام لازم ہے”
انتونیو گوتریس نےکہا کہ  دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی ضروری ہے، قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
چین سمیت دنیا بھر میں وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی پر ردعمل پایاجاتاہے ۔چین نے امریکا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بند کرے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کا وینزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، امریکا کی جانب سے طاقت کے زور پر وینزویلا کے صدر اور ان کی بیوی کو پکڑنے اور ملک سے باہر لے جانے پر گہری تشویش ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری رہا کرے اور مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
روس، کولمبیا اور کیوبا نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی ہے جبکہ ایران نے سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کرنے اور ذمے داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کے صدر گیبرئیل بورک Gabriel Boric نے کہا کہ آج وینزویلا، کل کسی اور ملک کی باری ہے۔

انھوں نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج منشیات کی آڑ میں ونیزویلا میں یہ ہو سکتا ہے تو وہ مستقبل میں کہیں اور بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی حملے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے ضوابط کا احترام نہیں کیا جا رہا۔
واضح رہے کہ فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مادورو کےخلاف کرمنل چارجز کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، انہیں قانون کے کٹہرےمیں لایا جائےگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میری ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، امریکی فوج کی فضائی، زمینی اورسمندری طاقت کا شاندار مظاہرہ دیکھا گیا، یہ امریکی فوجی طاقت کا ایک غیرمعمولی اور شاندار مظاہرہ تھا۔
فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے  ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ  نے  وینزویلا کے صدر  مادورو کےخلاف کرمنل چارجز کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ  مادورو  اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، انہیں  قانون کے کٹہرےمیں لایا جائےگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میری ہدایت  پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت  میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، امریکی فوج کی فضائی، زمینی اورسمندری طاقت کا شاندار مظاہرہ دیکھا گیا، یہ امریکی فوجی طاقت کا ایک غیرمعمولی اور شاندار  مظاہرہ تھا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو  امریکی فورسز  نے ان کے بیڈروم سے پکڑا، جب انہیں گرفتار کیا گیا توکراکس میں مکمل اندھیرا تھا اور بجلی بند تھی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے سمندرکے راستے منشیات کی اسمگلنگ 90 فیصدختم کی، ڈکٹیٹر مادورو منشیات اسمگلنگ کے وسیع کرمنل نیٹ ورک کےسرپرست تھے، ان پر امریکی عدالت نے فرم جرم عائدکیا ہے، یہ ڈرگ کارٹیل ہزاروں امریکیوں کی اموات کے ذمہ دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سلیمانی اور البغدادی کو  بھی ہم  نے اسی طرح نشانہ بنایا تھا،  ایران کی جوہری تنصیبات کو  بھی اسی طرح کے حملے میں تباہ کردیا تھا، ہم نے تمام اہداف کوبالکل درست نشانہ بنایا، دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔
خیال رہے کہ وینزویلا کے صدر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے