مالی دا کم پانی دینا، بَھر بّھر مشکاں پاوے
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
کامیابی اور ناکامی کے بارے میں کچھ بھی حتمی نہیں ، چرچل اپنے وقت کی مقبول ترین زبانوں یعنی لاطینی اور یونانی میں کمزور ترین تھا ، سو سزا کے طور پر اسے انگریزی پڑھنا پڑی ، جس میں اس نے غیر معمولی مہارت پیدا کی اور جب پریکٹیکل لائف میں آیا تو اقتدار کی راہداریوں میں تمام منظر نامہ بدل چکا تھا انگلش سرکاری زبان تھی ، پھر کیا تھا ، چرچل نے تحریر اور تقریر سے اک جہاں کو وقف اضطراب کیا ، درجنوں کتابیں لکھیں ، دو دفعہ برطانیہ کا وزیراعظم بنا ، جنگ عظیم دوئم میں اپنی لافانی تقریروں سے قوم کو لیڈ کیا اور اس کا مورال بلند رکھا ۔ اور اس سے بڑھ کر انگلش ادب میں لافانی contribution کی وجہ سے 1953 میں نوبل پرائز برائے ادب حاصل کیا ۔
کامیابی ہمیشہ محنت سے مشروط ہے ، گو یہ ضروری نہیں ہر محنت کرنے والے کو وہ کامیابی مل سکے جس کا وہ طالب ہے ۔ اس بات کو صوفی شاعر محمد بخش نے جس خوبصورتی سے پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے
مالی دا کم پانی دینا، بَھر بّھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پَھل پُھل لانا، لاوے یا نہ لاوے
جرمن سائنسدان آگست کیکولے کی کہانی اسی حقیقت کو واضع کرتی ہے۔ وہ تقریباً بیس برس تک بینزین (Benzene ) کے ساختی (Structure ) راز کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ چھ کاربن اور چھ ہائیڈروجن—فارمولہ سادہ تھا، مگر جو بھی ساخت وہ بناتا، بانڈ انرجیز (Bond Energies ) اس کی تصدیق نہیں کرتیں۔ ایک دن شدید مایوسی میں، وہ پبلک بس میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ شاید زندگی کے بہترین سال اسی ایک سوال میں ضائع ہو گئے۔ اور شاید اب ناکامی ہی میرا مقدر ہے۔
تھکاوٹ اور مایوسی کے عالم میں اسے اونگھ آ گئی ۔ اور اللہ کی قدرت دیکھیئے خواب میں اسے ایک سانپ نظر آیا جو اپنی دم کو منہ میں پکڑے گول دائرہ بنائے گھوم رہا تھا۔ اچانک بس کے جھٹکے سے وہ مکمل بیدار ہوا —اور اسی لمحے ذہن روشن ہو گیا ، سانپ کا اپنی دم کو پکڑنا، دراصل پہلے اور چھٹے کاربن کا آپس میں جڑ جانا تھا۔ سو اس پر کھلا بینزین خطی نہیں، حلقوی (cyclic) ہے۔
جب اس نے اس ساخت پر بانڈ انرجیز کو پرکھا تو سب کچھ حیران کن طور پر درست نکلا۔
اس پر کیکولے نے کیا خوب کہا تھا:
“Let us learn to dream; perhaps then we shall find the truth.”
(آئیے خواب دیکھنا سیکھیں، شاید اسی طرح ہم سچ تک پہنچ سکیں۔)
کیکولے کو نوبل پرائز نہیں ملا ، کیونکہ وہ 1896 میں وفات پا گئے اور نوبل پرائز کا اجراء 1901 میں ہوا ۔ مگر دلچسپ بات ہے کہ ان کے تین شاگردوں کو آرگینک کیمسٹری میں نمایاں کنٹری بیوشن پر نوبل انعام دیے گئے۔
کچھ ایسی ہی کہانی الیگزینڈر فلیمنگ کی ہے۔ برسوں کی محنت کے باوجود وہ انفیکشن کے مؤثر علاج تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ جنگوں میں زخمی ہونے والے ہزاروں انسان معمولی زخموں سے مر جاتے تھے۔ تجربات کے دوران ایمر جنسی میں اسے سفر پر جانا پڑا تو وہ دل ہی دل میں افسردہ تھا کہ تجربات کے لیے تیار کیا گیا میڈیا ضائع ہو جائے گا۔ اسے جانا تو تھا ہی وہ عجلت میں نکل گیا ۔
جب واپس لوٹا تو دیکھا لیباریٹری میں رکھی تمام پیٹری ڈشز (Petri Dishes) کائی (Fungus) سے بھر چکی تھیں۔ پہلا خیال آیا کہ سب کچھ ضائع کر دیا جائے، مگر عین اسی لمحے دل میں کہیں سے یہ خیال در آ یا : دیکھ تو لوں، یہ فنگس کر کیا رہی ہے؟
مائیکرو اسکوپ کے نیچے منظر چونکا دینے والا تھا—جہاں فنگس تھی، وہاں بیکٹیریا مر چکے تھے۔ یوں پینسلین کی دریافت ہوئی، اور انسانیت پہلی مؤثر اینٹی بایوٹک سے آشنا ہوئی۔ جنگ عظیم دوئم کے ہزاروں زخمیوں کی جانیں اس دریافت سے بچ سکیں اور Flemming نے 1945 میں طب کا نوبل پرائز جیتا ۔
تینوں مثالوں سے ایک بات واضح ہے ، محنت تینوں نے کی ، کہیں یہ محنت کشف پر منتج ہوئی اور کہیں انعام تک پہنچی –
یہی بات اپنے عہد کے غیر دریافت اور ہمارے عہد کے سب سے بڑے اور مقبول شاعر غالب کے لیے بھی سچ ہے ، کون کہہ سکتا تھا ان کے ہم عصر اپنے عہد کے نامور شاعر ابراہیم ذوق کا ذکر ، جن کا شاہ کے دربار میں طوطی بولتا تھا غالب کے جانے کے ڈیڑھ سو سال بعد صرف اس شعر کی وجہ سے ہی باقی رہیگا ۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
خلاصہ کلام کیکولے کا یہ قول ہے جو بقول غالب گور کے اندر سے خلد کے در کھولتا ہے ۔
Let us learn to dream; perhaps then we shall find the truth.






