"خطا ۓ بزرگاں گرفتن خطا ست”
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
ہمارے اباجی اپنی گفتگو میں فرماتے تھے کہ شیخ سعدی ؒ کا یہ مشہور اور حکیمانہ جملہ یاد رکھنا ہے کہ "خطا ۓ بزرگاں گرفتن خطا ست ” یعنی بزرگوں کی غلطی پر گرفت یا نشاندہی دراصل سب سے بڑی خطا اور غلطی ہوتی ہے ۔وہ اکثر اکبر اللہ آبادی کا یہ شعر بھی ہمیں سناتے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کےبیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
وہ ہمیں ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بارات کے لیے یہ شرط رکھی گئی کہ بارات میں کوئی بوڑھا بزرگ ساتھ نہیں آۓ گا ۔سارۓ نوجوان آئیں گے اور وہ بھی پڑھے لکھے ہوں ۔بارات والوں کو یہ بات ناگوار تو گزری مگر انہوں نےحامی بھر دی ۔لیکن انہوں نے ایک بوڑھے کو ایک دیگ میں چھپا کر ساتھ کرلیا ۔بارات منزل مقصود پر پہنچی تو لڑکی والوں نے ایک کچے گھڑۓ میں بند ایک تربوز باراتیوں کو دیا اور کہا کہ اس میں سے تربوز نکال کر کھاو اور پھر دعوت اڑاو اور دولہن لے جاو ۔سب نوجوان حیرت زدہ ہوۓ اور طریقے ڈھونڈنے لگے کہ کیسے گھڑے میں سے تربوز نکالا جاۓ ؟ اپنے اپنے ذہن لڑا نے کے باوجود کچھ سمجھ نہ آیا تو انہیں دیگ میں چھپا بابا یاد آیا ۔تو فورا”ان میں سے ایک بندہ اس بابے کے پاس پہنچا اور چپکے سے ساری صورتحال بتائی تو بوڑھے نے کہا ارۓ بچوں ! اس میں سوچنے والی کیا بات ہے ؟ گھڑا پھوڑ دو ۔۔نوجوانوں نے گھڑا پھوڑ دیا اور تربوز نکال کر کھانے لگے ۔ لڑکی والے بڑے حیران ہوۓ اور کہنے لگے ایسا ہو ہی نہیں سکتا تم لوگوں کے ساتھ کوئی بوڑھا نہ ہو ۔ضرور کوئی بابا تمہارے ساتھ آیا ہے ورنہ نوجوانوں کی اتنی عقل ہی کہاں ہوتی ہےکہ اتنا گہرا سوچیں اور دماغ لگائیں ۔یہ بات تو بزرگوں والی ہی لگتی ہے ۔کیونکہ علم اور عمر کے ساتھ تجربہ شرط ہوتا ہے۔مجھے یہ قصہ تب یاد آیا جبچند نوجوانوں لکھاریوں کی جانب سے سیاسی ِ اور صحافتی باباوں اور بزرگوں پر تنقیدی کالمز دیکھنے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔کاش وہ جان سکتے کہ ایسے نایاب قیمتی اثاثے تو قسمت والوں کو ملتے ہیں اور ان کی قدر وقیمت وہی جانتے ہیں جو انہیں گنوا کر ان کی رہنمائی سے محروم ہو چکے ہیں ۔
بزرگ یا بابا کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتا ہو وہ قابل احترام اس لیے بھی ہوتا ہے کہ اس نے اپنی قیمتی زندگی کے بہترین لمحات اس شعبہ کی ترقی کے لیے وقف کر دئیے ہوتے ہیں اور وہ نئے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہوتے ہیں ۔آج جب میں خود بھی بزرگوں اور بابوں میں ہی شمار ہوتا ہوں تو میرا تھوڑی تکلیف محسوس کرنا بنتا ہی ہے ۔اباجی کی بات یاد آتی ہے کہ کوئی شعبہ زندگی بھی ہو نوجوانوں کی طاقت اور بزرگوں کا تجربے کے بغیر کامیابی بہت مشکل ہوتی ہے ۔بزرگ کا دماغ اور جوان کا بازو مل کر ہی کامیابی کا سفر طے کرسکتے ہیں ۔ہماری تہذیب بچوں پر شفقت اور بزرگوں کے عزت واحترام کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔ہمارا معاشرتی ڈھانچہ نوجوان کی طاقت و ہمت ،بزرگوں کے تجربے اور حکمت اور بچوں پر شفقت اور ان کی درست تربیت سے ہی تشکیل پاتا ہے ۔یہی ہمارے بزرگ ہیں جن کی میراث لے کر ہم آگے بڑھتے ہیں ۔میں ان نوجوان ذہنوں کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ یہ بزرگ اور بوڑھے آپ کی راہ میں روکاوٹ نہیں بلکہ مدد گار ہیں یہ قابض نہیں بلکہ محافظ ہوتے ہیں ہر اس شعبہ زندگی کی روایات کے جہاں کام کرتے ہوۓ ان کے بال سفید ہوچکے ہوتے ہیں ۔انہوں نے تو طویل جدوجہد کر کے آپ جیسے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے لیے بڑی محنت سے نئے نئے راستےہموار کئے ہیں تاکہ نئی نسل کی ترقی کے لیے آسانیاں پیدا ہو سکیں ۔اور پھر ایک دن آج کے یہی نوجوان ان بزرگوں کی جگہ لیں گے اور وہی کریں گے جو آج یہ بزرگ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ بابے اور بزرگ چلتی پھرتی تاریخ اور تحریریں ہوتے ہیں ۔ان کے کھردرے ہاتھوں اور ان کی پیشانیوں پر وقت اور عمر کی جھریاں ہی نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات کا نچوڑ بھی لکھا ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کے وہ تلخ سبق بھی جانتے ہیں جو کتابوں میں بہت کم اور ٹھوکروں میں بہت زیادہ ملتے ہیں ۔نوجوان کے لیے بابوں اور بزرگوں کا تجربہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے طوفان میں سمت دکھانے والے خاموش مینار ہوتے ہیں ۔ایک ایسا لائٹ ہاوس جو سمند ر میں دور سے منزل کی نشاندہی کرتا ہے ۔بزرگوں اور بابوں نے ناکامیوں کو بھی سہہ کر جیا ہوتا ہے اور کامیابیوں کا زعم بھی توڑا ہوتا ہے ۔وہ جانتے ہیں کہ جوش کب جنون بن جاتا ہے اور ضد کب زوال کی سیڑھی بنتا ہے ؟ ان کا تجربہ نوجوانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر لڑائی تلوار یا ہتھیار سے نہیں جیتی جاتی اور ہر فتح کا اعلان نعروں سے نہیں کیا جاتا ہاور جیت کے لیے طاقت ضروری ہوتی ہے ۔مگر کہاں ِکب اور کیسےِ یہ ان کے تجربات کی روشنی میں فیصلہ ہوتا ہے ۔
آج کی تیز رفتار دنیا میں نوجوان سب کچھ فورا” چاہتے ہیں سائنس نے دنیا کو تیز تر بنا دیا ہے جبکہ بابے اور بزرگ دانشمندانہ طور پر صبر کی زبان بولتے ہیں ۔وہ بتاتے ہیں کہ وقت صرف ہماری گھڑی میں نہیں چلتا بلکہ دلوں اور فیصلوں میں بھی اپنا حساب مانگتا ہے ۔ان کی باتیں اور رہنمائی نوجوانوں کو جذباتی فیصلوں سے بچا کر فکری پختگی کی طرف لے جاتی ہے ۔ان بابوں اور بزرگوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ وہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی صرف آگے بڑھنے کا نام نہیں ،کبھی رک کر پیچھے دیکھنے کا نام بھی ہوتا ہے ۔ان کا تجربہ نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑتا ہے کیونکہ جو درخت اپنی جڑوں سے رابطہ توڑ دۓ وہ زمین پر زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا ۔اس لیے ہمارے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے یہ بابے اور بزرگ ماضی کی نشانی نہیں بلکہ مستقبل کی ضمانت بھی ہوتے ہیں ۔بشرطیکہ نوجوان نسل ان کی بات سننے اور سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرۓ ۔سوال یہ ہےکہ کیا ہماری نئی نسل بابوں اور بزرگوں کے بغیر ترقی کرسکتی ہے ؟کیا جذبات اور طاقت کسی سمجھ اور سوچ کے بغیر ترقی کرسکتی ہے ؟
یقینا” نئی نسل ان بابوں اور بزرگوں کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے مگر سنبھل کر آگے بڑھنا اور ترقی کی منزلیں طے کرنا ان بزرگوں کے بغیر مشکل ہو جاتا ہے جو کسی بھی شعبہ زندگی میں ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں ۔کیونکہ ترقی صرف رفتار کا نام نہیں سمت کا نام بھی ہوتی ہے اور سمت اکثر وہی دکھا سکتے ہیں جنہوں نے راستے میں ٹھوکریں کھائی ہوئی ہوں اور جنہیں یہ اندازہ بھی ہو کہ راستے میں کہاں گہرائی کھائی سے بچنا ہے اور کہاں بلند چڑھائی پر چڑھنا ہے اور یہ سب کیسے کرنا ہے ؟ یہ ترقی کی رفتار کم کرنے والی وہ بریک ہوتے ہیں جو بوقت ضرورت حادثات سے بچا لیتی ہے ۔ تاریخ گوا ہ ہے کہ جن معاشروں نے اپنے بزرگوں کو غیر اہم سمجھا وہاں ترقی جلد ہی بےسمت ہوکر ناکامی میں بدل جاتی ہے ۔فیصلہ سازی میں جلدی بازی ،اقدار کا زوال اور تعلقات کی ٹوٹ پھوٹ اسی خلا کی نشانیاںہوتی ہیں ۔بابے نوجوان کو یہ سکھاتے ہیں کہ ہر نیاخیال درست نہیں ہوتا اور ہر پرانا خیال فرسودہ نہیں ہوتا ۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ اگر بابے صرف ماضی کے قصے سناتے اور دہراتے رہیں اور حال کو سمجھنے سے انکار کردیں تو نئی نسل ان سے کٹ جاتی ہے ۔اصل ترقی تب ہی ممکن ہے جب بابوں اور بزرگوں کا تجربہ اور نوجوانوں کی توانائی ایک دوسرۓ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھیں ۔یاد رہے کہ سوال یہ نہیں کہ نئی نسل بابوں اور بزرگوں کے بغیر ترقی کر سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نقصان اٹھاۓ بغیر ترقی کر سکتی ہے ؟






