قصہ ٫٫ونڈر بوائے،، کی تلاش کا۔۔۔
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانی سیاست میں ٫٫جمع تفریق،، ہرگز قابل فخر نہیں کیونکہ ہم جمہوریت پسند ہونے کے دعوی دار ہوتے ہوئے بھی کسی آ مر سے کم نہیں، کہنے والے کہتے مر گئے کہ ٫٫لنگڑی لولی،، جمہوریت ہر آ مریت سے بہتر ہے، پھر بھی ہم ہر جمہوریت اور سسٹم سے دو تین سال میں بیزار ہو جاتے ہیں اور جب آ مریت مسلط ہو جاتی ہے تو پھر ہمیں جمہوریت جمہوری اقدار اور عوامی مفادات کی فکر لاحق ہو جاتی ہے ،کس نے کیا کچھ کیا؟ کس کی ٫٫گورننس،، اچھی یا بری تھی ؟ اس سے قطع نظر بار بار کی آ مریت نے ہمیں کچھ سیکھنے نہیں دیا، پہلے آ مر جنرل محمد ایوب خان کی بات پرانی ضرور ہو چکی ہے لیکن ریاست کے لیے آ مریت کی بنیاد وہی ہے، پہلی مرتبہ نظام میں خرابی اور عدلیہ میں مداخلت کا بیج بھی دادا حضور عمر ایوب خان نے ہی بویا ،جس کی فصل مملکت نے کاٹی اور اس میں بسنے والے کوشش کے باوجود جمہوریت کی راہ اختیار نہیں کر سکے بلکہ آ مر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے تختے پر چڑھوا بیٹھے، ایک حادثے سے ان کا اقتدار ختم ہوا تو پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت وقت سے پہلے ختم کر دی گئی، نواز شریف کو اقتدار ملا تو انھیں بھی چھٹی کرا دی گئی، دوبارہ بے نظیر بھٹو حکومت میں آ ئیں تو بھی اپنا آ ئینی حق پورا استعمال نہیں کر سکیں، پھر نواز شریف بھاری مینڈیٹ سے برسر اقتدار آ ئے ان کا خیال تھا کہ بھاری مینڈیٹ٫٫ ستے خیراں،، کی ضمانت ہے لیکن ان کے انداز حکومت کا تجزیہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی عباس اطہر نے کالم لکھا تھا کہ لگتا ہے نواز شریف کا بھاری ٫٫مینڈک ،،کسی روز موٹروے پر فوجی ٹرک کی زد میں آ کر٫٫ سٹیکر،، بن جائے گا پھر سب نے دیکھا کہ زبردستی کے صدر پرویز مشرف آ دھمکے اور برسوں سیاست دانوں کی حمایت اور بلدیاتی انتخابات کے سہارے اقتدار پر قابض رہے لیکن ہر طاقت کو زوال آ نا ھی ہوتا ہے لہذا سیاست دانوں کی کوششوں سے پرویز مشرف کو اقتدار سے دستبردار ہی نہیں ،ذلیل و رسوا بھی ہونا پڑا ۔۔صدر زرداری کی مفاہمتی پالیسی میں پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور جمہوری اقتدار کی حکمت عملی میں بہت کچھ برداشت کیا لیکن پانچ سال پورے کر کے ایک ریکارڈ بنایا، نئے الیکشن ہوئے تو نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر حکومت بنا کر تیسری بار وزیراعظم ہونے کا ریکارڈ قائم کر لیا لیکن انہیں بھی پانچ سال پورے کرنے کا موقع نہیں ملا ،طاقتوروں نے عدلیہ کی مدد سے پانامہ کارڈ دکھا کر٫٫ اقامہ،، کے نام پر بے دخل کر دیا دراصل اس وقت بھی ایک٫٫ ونڈر بوائے ،،کی تلاش جاری تھی اور پھر 2018 میں الیکشن چوری ہوا اور ایک٫٫ پلے بوائے،، قوم کا نجات دہندہ بنا کر سامنے لایا گیا بلکہ قوم نے بھی اسے تسلیم کر لیا کہ یہی پاکستان کو٫٫ ریاست مدینہ،، بنائے گا اور پاکستانیوں کو انصاف دلاتے ہوئے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ بھی کرے گا ،سیاست دانوں نے بھی مصلحت پسند ی میں اناڑی کو سیاسی کھلاڑی جانتے ہوئے حالات سے سمجھوتہ کر لیا انہیں یقین تھا کہ اناڑی میدان سیاست میں زیادہ دیر نہیں چل سکے گا تو سرپرستوں کو ایک نہ ایک دن سیاست دانوں کے در پر آ نا ہی ہوگا، وہ جانتے تھے کہ انسان کی ظاہری خوبصورتی کچھ نہیں ہوتی، حقیقی خوبصورتی تو زبان میں ہوتی ہے جس کا کمال اس کی عقل میں پنہاں ہوتا ہے، انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ زندگی ایک ایسی انجان کتاب کی طرح ہے جس کے اگلے صفحے پر کیا لکھا ہے اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا جب تک پڑھا نہ جائے انہیں یقین تھا کہ٫٫ پلے بوائے ،،کی نہ زبان، نہ کلام اور نہ ہی عقل کا استعمال مثبت ہے تو سرپرست کب تک اسے برداشت کریں گے سیانے جانتے تھے کہ تجربے کا متبادل کھلاڑی نہیں ہو سکتا پھر وہی ہوا جس کا انتظار تھا٫٫ پلے بوائے،، کی زبان کلام اور عقل نےرنگ دکھایا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ سرپرستوں کی مجبوری بن چکا ہے اسے یہ علم نہیں تھا کہ سیاسی شطرنج کی بساط پر صرف عقل والے کمال کرتے ہیں ورنہ مہروں کو بے آ برو ہوتے دیر نہیں لگتی لہذا وہ وقت جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم کو عدم اعتماد کی تحریک سے فارغ کر دیا گیا، اب تمام سیاسی ادوار کا موازنہ نہ بھی کریں سب کے سب٫٫ جمع تفریق ،،کے فارمولے پر صرف اتنی دیر چلے، جتنی دیر اسٹیبلشمنٹ نے برداشت کیا، دو ادوار پانچ پانچ سال کے بھی گزرے لیکن وزرائے اعظم وہاں بھی تبدیل کیے گئے
بس اسی خواہشات پر ٫٫ڈیوٹی فل ،،حلقوں سے افواہ کے نام پر یہ خبر دی گئی ہے کہ ذمہ داروں کو اب تابع فرمان وزیراعظم نہیں ،کسی٫٫ ونڈر بوائے،، کی ضرورت ہے جبکہ حکومت اور اتحادی مطمئن ہیں کہ ان کا ایک ٫٫پیج ،،مضبوط اور شاندار ہے لیکن انہیں خبر دی جا رہی ہے کہ آ پ مخالف قوت کے٫٫ بیانیہ ،،پر کوئی سیاسی حکمت عملی سے ضرورت کے مطابق جواب نہیں دے سکے، اس لیے کسی ایسے ٫٫ونڈر بوائے،، کی ضرورت پڑ گئی ہے جو اس کمی کو پورا کر کے معاملات میں بہتری لا سکے حالانکہ٫٫ دیر آ ئد درست آ ئد،، کہ محاورے پر تمام معاملات آ گے بڑھ رہے ہیں سیانوں کا خیال ہے کہ تابع فرمان وزیراعظم کی صلاحیتوں سے جتنا مستفید ہوا جا سکتا تھا وہ سب ہو گیا، ترامیم نے بھی اپنا رنگ دکھایا اور عدلیہ کی عمران نوازی میں بھی افاقہ ہو چکا، اب کچھ نیا ہونا چاہیے۔۔ ایک رائے ہے کہ افواؤں کا مقصد ہی رد عمل حاصل کرنا ہوتا ہے جسے دیکھ کر نئی حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے کیونکہ ذمہ داروں اور طاقتور عقابی نظروں سے صرف سرحدی نہیں، اندرونی معاملات پر بھی نظر رکھتے ہیں خواجہ آ صف وزیر دفاع ہیں وہ نظام






