#اداریہ

بھارتی وزیر خارجہ کی غیرذمے دارانہ گفتگو کا کرارا جواب

Fahad 01

أج کا اداریہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہراندرابی نے کہا کہ خطے میں، خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھارت کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کمانڈر کلبھوشن یادو کا کیس ریاستی سرپرستی میں منظم دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے جو پاکستان کے خلاف کی گئی۔‘
خیال رہے جمعہ کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو ’بُرا ہمسایہ‘ قرار دیا تھا اور پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
بھارتی وزیرِ خارجہ کے پاکستان کے بارے میں بیانات پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان طاہر اندرابی نے جے شنکر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’غیر ملکی حدود میں قتل، ثالثوں کے ذریعے تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو خفیہ تعاون کی بار بار وارداتیں تشویشناک ہیں۔ یہ تمام رجحانات ہندو توا کے انتہا پسندانہ نظریات اور پرتشدد حامیوں سے ہم آہنگ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کے جائز حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو اعتماد اور بڑے وسائل کے سے طے پایا۔ اگر انڈیا اس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ اس سے بین الاقوامی قوانین کے احترام کے دعوے پر بھی سوال اٹھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی اس کیفیت میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ دنیا کے دیگر طاقتور ممالک اس کشیدگی پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ چین توکھل کر کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ترکی نے بھی ہر موقع پرپاکستان کا ساتھ دیا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ چین نے پاکستان کی خودمختاری کے بارے میں جو کچھ کہا، ایسا کسی اور ملک نے بھارت کے لیے کبھی نہیں کہا۔ البتہ پاک بھارت کشیدگی کے موقع پراسرائیل نے کہاتھاکہ بھارت کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ لیکن اسرائیل کے مقابلے میں چین بہت بڑا ملک ہے اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت بھی۔
بھارت کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی پر انحصار نہیں کرتا، لیکن خارجہ پالیسی یا سفارت کاری کی کامیابی شاید اس میں بھی نظر آتی ہے کہ بحران کے وقت کتنے ممالک آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بھارت کی خارجہ پالیسی پر اس وقت مزید سوالات اٹھنے لگے تھےجب تیسرے ملک امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور وہ بھی مکمل طور پر ایک حکم نامے کی طرح۔
اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کو جنگ بندی کا پہلے سے علم تھا اور یہ امریکہ ہی تھا جس نے انڈیا کے عوام کو اس کے متعلق آگاہ کیا، نہ کے ان کی اپنی حکومت نے۔
بھارت مسئلہ کشمیر پر کسی کی ثالثی قبول نہیں کرتا لیکن امریکہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ تنازعہ حل طلب ہے۔
بھارت بھی اپنا کسی طرح کا موازنہ پاکستان سے نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اس سارے معاملے میں ایسا ہی ہوا۔ سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور پہلے بھارت گئے اور پھر پاکستان أئے تھے۔ ایران کے وزیر خارجہ بھی پہلے پاکستان أئے تھے اور پھر بھارت۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں کیا مودی سرکار کی سفارت کاری یا خارجہ پالیسی کامیاب تھی؟
بھارتی معروف انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کی سفارتی امور کی ایڈیٹر سوہاسینی حیدر نے سابق مرکزی وزیر کپل سبل کے ایک شو میں کہا تھاکہ ’تمام عالمی رہنما جنھوں نے بھارت اور پاکستان سے بات کی، ان کی پوری توجہ کشیدگی کو کم کرنے پر تھی نہ کہ دہشت گردی پر۔ بھارت چاہتا ہے کہ اس کا موازنہ پاکستان سے نہ کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکہ کی پاکستان کی بھارت کے ساتھ تجارت کا حجم 140 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ صرف 10 ارب ڈالر۔ لیکن ٹرمپ نے دونوں کو ایک ہی پیمانے پر رکھا ہے۔‘
پاکستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ بھارت اسے ہر قیمت پر روکنا چاہتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بار پاکستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لانے میں کامیاب ہوا ہے۔
پاکستان مسئلہ کشمیر پر تیسرے فریق کی ثالثی یا اقوام متحدہ کی مداخلت کی وکالت کرتا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر زیر بحث لانا پاکستان کے مفاد میں ہے جس میں اسے کامیابی مل رہی ہے۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ انڈیا اسے ہر قیمت پر روکنا چاہتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بار پاکستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لانے میں کامیاب ہوا ہے
بھارتی خارجہ پالیسی پر غور کیا جائے تو پاکستان کے خلاف من گھڑت بیان بازی اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں۔بھارتی ملٹی الائنٹمنٹ خارجہ پالیسی کا مطلب ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے سب کے ساتھ رہے ہر پالیسی کی اپنی خاصیت ہوتی ہے اور اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ کسی ادارے یا پالیسی کو کسی ایک واقعے کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا تام دنیا نے دیکھ لیا پاک ‘ پھارت جھڑپ کے بعد اقوام عالم کا رویہ کیا تھا ؟ بھارتی حکام اس خفت کو مٹانے کیلیے پاکستان کے حوالے سے بلاجواز گغتگو کرتے رہتے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ کی غیرذمے دارانہ گفتگو کا کرارا جواب

05/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے