سال 2026 : امکانات ، امیدیں اور زمینی حقائق
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخار الحق
پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیاست کے حوالے سے 2025 کافی ہنگامہ خیز رہا ۔ بیرونی محاذ پر ہندوستان کی فاش عسکری غلطیوں کے سبب پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا وقار اور عسکری برتری کا لوہا منوا لیا۔ مئی سے دسمبر تک پاکستانی حکومتی عمائدین نے متعدد ممالک کے دورے کیے اور مکمل امریکی حمایت کی مدد سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی ایک نہایت اہم ملک کے طور پر پاکستان کا کردار اجاگر کیا ۔ حکومت اور فیلڈ مارشل کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو تمام علاقائی اور عالمی سیاسی منظر نامے کی قوتوں نے پاکستان کی بابت اپنے رویے میں خوشگوار تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے بھی پاکستان کی مالی امداد کی سبز جھنڈی لہرائی ۔
اس سال پاکستانی عوام اور سیاسی پنڈت بے چینی سے اس بات کے منتظر رہیں گے کہ پاکستان کامیاب خارجہ پالیسی سے اپنے اندرونی استحکام کے لیے کس طرح اور کس حد تک فائدہ اٹھاتا ہے ۔ اب تک کے میکرو اکنامک اشاریے خاصے مثبت ہیں ، خاص طور پر سٹاک ایکسچینج کی شاندار کارکردگی نہایت حوصلہ افزا ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی فضا میں بہتری کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں ۔ کوہاٹ میں تیل اور گیس کے بہت بڑے ذخائر کی دستیابی کی خبر سے عام پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن چمکنا شروع ہوئی ہے ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ موجودہ حکومت کتنی تیزی سے ان قیمتی ذخائر عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ کئی سال پہلے عوام کو نوید ملی تھی کہ بلوچستان کے علاقے ریکوڈگ میں سونے کے عظیم ذخائر موجود ہیں لیکن قریباً دو عشرے گزرنے کے باوجود وہاں سے سونا تو کیا نکلتا ، الٹا یہ معدنی ذخیرہ عالمی سیاست کے ریشوں میں الجھتا چلا گیا ۔ حال ہی میں کوئی امریکی کمپنی سونا نکالنے پر کام شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے ۔
حکومتِ وقت کو اچھی طرح علم ہے کہ سنگین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کتنی صنعتیں باقاعدہ طور پر بند ہو چکی ہیں اور ہمارا تجارتی خسارہ اس سے براہِ راست مزید بگڑتا ہے ۔ ایسے میں متذکرہ تیل اور گیس کے ذخائر پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ اس بابت ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور وہ ہے مقامی ہنر مند ماہرین کی صلاحیتوں سے کام لینا ۔ ہمیں غیر ملکی ماہرین کو ایسے منصوبوں کی تکمیل کے لیے بلانے کے عیاشانہ کلچر کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ انھیں ہماری عوام سے وصول کردہ ٹیکسوں کے پیسوں سے بھاری رقوم کی ادائیگی کی جاتی ہے جس سے ہمارا تجارتی خسارہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔
پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے بھی قلیل اور طویل مدتی پالیسی مرتب کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ تجارتی خسارے کا انحصار برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی سے جُڑا ہوتا ہے۔
یہ ایک بڑا معمہ ہے کہ برآمدات بڑھانے کا تعلق صنعتیں لگانے سے ہوتا ہے ،نہ کہ صنعتوں کی بندش سے ۔ آزادی سے لے کر اب تک اسّی سال ہونے کو آئے لیکن سوائے 1970 کی دہائی میں لگائی گئی ایک پاکستان سٹیل مل کراچی اور ایک ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کے ہم ایسی ہی مزید پندرہ بیس صنعتیں کیوں نہیں قائم کر سکے ۔ اگر سی پیک پر سنجیدگی سے کام تیز کیا جائے تو کافی امکان ہے کہ ایسی صنعتیں چین کے تعاون سے فروغ پائیں گی ۔ ہماری سیاحت کی صنعت بھی بری طرح نظر انداز ہوتی رہی ہے ۔ موجودہ حکومت کے پاس سیاحت کو فروغ دینے اور اس کی بھرپور سرپرستی کرنے کا سنہری موقع ہے ۔
ان تمام اقدامات میں مزید سستی پاکستان کو مہنگی پڑ سکتی ہے کیونکہ اُدھر لاطینی امریکہ اور اِدھر ہمارے ہمسائے ایران سے بہت تشویش ناک خبریں آ رہی ہیں ۔ پاکستان کو ایک بار پھر اپنی خارجہ پالیسی کی بابت محتاط اور دانش مند خطوط پر کام کرتے ہوئے اندرونی اقتصادی صورتِ حال میں سرعت سے بہتری لانا ہوگی کیونکہ اگر عالمی طاقتوں کی ترجیحات بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی منظر نامے کے سبب تبدیل ہونا شروع ہو گئیں تو پاکستان کے لیے کئی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں ۔امید رکھنی چاہئیے کہ موجودہ مخلوط حکومت اپنے مشیروں کی مدد سے مجوزہ معاشی پہلوؤں کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دے گی تاکہ نئے سال کے ہر گزرتے مہینے کے ساتھ عوام کو عملی خوش خبری ملتی رہے۔






