”حبیب جالب سے منشا قاضی تک”
آکاش علی فرتاش
انقلابی شاعر حبیب جالب وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے اپنی تمام تر عمر عوام کو بیدار کرنے کے لیئے قیدوبند کی صعوبتوں کو برداشت کیا اور ہمیشہ محنت کشوں کے لئے آواز بلند کی۔ مجبور زبانوں کو زباں بخشنے والے حقیقی جمہوریت کے پیروکار تھے اور اپنے آخری سانس تک اپنی شاعری کے زور سے حقیقی عملی کردار ادا کرتے رہے لیکن جس عوام کے لئے انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ وقف کیا وہ عوام آج بھی جہالت میں مبتلا ہے اور میری نظر میں یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جب میرے والد صاحب نزو علی فرتاش1993 میں سر گنگا رام ہسپتال میں حبیب جالب صاحب کی عیادت کے لئے گئے تو ان کے فرزند ناصر جالب وہاں موجود تھے حبیب جالب صاحب نے اپنے فرزند سے کہا کہ ” ناصر اگر میں مر جاوْں تو نِزو کے سوا کسی کو اپنا باپ مت سمجھیو” پھر ایک وقت ایسا آیا جب مجھے یہی بات پٹیالہ کمپلیکس میں رانا عبدالشکور کے آفس میں موجود میرے والد محترم نِزو علی فرتاش، رانا عبدالشکور، مرحوم جنرل سیکرٹری پریس کلب نارنگ منڈی منیر کھوکھر، ناصر جالب اور راقم موجود تھے یہ وہ وقت تھا جب ناصر جالب اُن دنوں اپنے والد پہ ” روداد وفا ” کتاب لکھ رہے تھے جس کا مسودہ انہوں ے کو پیش کیا اور جب میرے والد نے ناصر جالب سے میرا تعارف کروایا تو انہوں نے خود مجھے وہی الفاظ کہے جو حبیب جالب صاحب نے سر گنگا رام ہسپتال میں ان سے کہے تھے۔ یہ میری ناصر جالب سے پہلی ملاقات تھی جبکہ میرے والد نے مجھے برسوں پہلے اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ حبیب جالب اور میرے والد کا جو رشتہ تھا وہ ذِہنی یگانگت کا تھا ۔ جب حبیب جالب کے فرزند ناصر جالب سے میری گفتگو کا آغاز ہوا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حبیب جالب صاحب اور میرے والد نے ضیا دور میں بارہا ایک ساتھ قیدوبند کا سامنا کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ آپ کے والد میرے والد کے وہ ساتھی رہے ہیں جو ماضی میں اکثر اکٹھے قیدوبند کی صعبتوں کا سامنا کیا کرتے رہے اور ایڈووکیٹ زیڈ اے قدوسی بھی ان کے قلعہ یافتہ دوستوں میں سے تھے کیونکہ وہ مہنگائی میں دھنسے اور بے بس عوام کے لئے لمحہ بہ لمحہ جدوجہد کرتے رہتے تھے یہی ان کے ہم خیال ہونے کی خاص وجہ تھی کہ وہ محنت کشوں کے لئے ہر طرز کی
آواز بلند کیا کرتے تھے جس سے محنت کش طبقہ سرمایہ داری نظام سے چھٹکارا حاصل کر سکے اور اسی جدوجہد میں انہوں نے اپنی اپنی
زندگی اپنے لئے نہیں بلکہ عوام کے آئینی حقوق کے لئے دربدر گزاری ۔
تاریخ گواہ ہے کہ نِزو کی پہلی گرفتاری ڈی آئی خان میں محترمہ فاطمہ جناح کے سیاسی جلسہ کا انعقاد کرنے کی وجہ بنی۔ 1965 میں دوسری گرفتاری "6 ستمبر” کے عنوان سے نِزو نے امریکہ اور یو این او کے خلاف نظم تحریر کی جو 1973 کی اشاعت میں شائع ہوئی ( ازاں بعد) روزنامہ نوائے وقت لاہور نے بھی نِزو کی یہ نظم "6 ستمبر” شائع کی . پھر ضیا دور کا آغاز ہوا تو حبیب جالب ، نِزو علی فرتاش کے وہ واحد دوست تھے کہ جب 5جولائی 1977 کو نزو کو گرفتار کر کے سیالکوٹ قلعہ اور پھر قلعہ سے سیالکوٹ جیل میں منتقل کیا گیا تو ملاقات کے لئے پہنچے۔ 2014 میں جب میری پہلی ملاقات عظیم دانشور ، کالم نگار منشا قاضی صاحب سے ڈیفنس موڑ پہ موجود ان کے آفس میں ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ منشا قاضی صاحب کی دوستی میرے والد سے 5 دہائیوں سے زائد پہ مشتمل ہے کیونکہ اس وقت میں اپنے والد کے ساتھ پہلی مرتبہ منشا قاضی صاحب کے آفس گیا تھا۔ جب میں اور میرے والد منشا قاضی صاحب کے آفس میں پہنچے تو میں نے دیکھا منشا قاضی صاحب میرے والد کو ایسے ملے جیسے کسی کو مدتوں بعد کوئی کھوئی ہوئی چیز ملا کرتی ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے لیکن یہ ان کا بڑا پن تھا اور مجھے انہیں آپس میں ملتے ہوئے دیکھ کر ایک پل بھی یوں محسوس نہیں ہوا کہ جیسے وہ دوست ہوں وہ اس خوش اسلوبی سے ملے جیسے دونوں بھائی ہوں منشا قاضی صاحب کا خلوص اور محبت بھرا لہجہ ، اس قدر دل میں اترا تھا کہ مَیں چند لمحوں تک دونوں کو دیکھتا اور سنتا رہا اور یوں سمجھ لیجیئے کہ اس وقت مَیں ساکت و جامد ہو گیا تھا ۔منشأ قاضی ہر ایک سچے قلمکار کے قدردان اور اعلیٰ شخصیت ہیں ان کے بارے میں لکھنے کے لئے شاید میرے قلم کا زور کمزور ہو بہرحال جب والد صاحب سے منشا قاضی صاحب نے میرے بارے میں پوچھا تو والد صاحب نے بتایا یہ جونیئر فرتاش ہے یہ سنتے ہی منشا قاضی صاحب نے مجھے گلے لگایا اور اس کے بعد میرے ہاتھ کی انگلیوں کو چوما اور کہا یہ ہاتھ سچ لکھتے ہیں ان دنوں میں چوہدری شفقت محسن صاحب کے اخبار ” صدائے وطن ” میں لکھا کرتا تھا مجھے منشا قاضی صاحب کا یہ عمل فوراً ظاہر ہو گیا کہ انہوں نے یہ عمل میری حوصلہ افزائی کے لیئے کیا ہے اور تمام عظیم دانشوروں میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ جب کسی نئے لکھاری سے ان کا تعارف ہو تو وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں انہوں نے جو میری حوصلہ افزائی کی اور جس طرح کی اس کا قرض تو میں کبھی نہیں اتار سکتا لیکن وہ میرے لیئے کسی معتبر شخصیت سے کم نہیں ہیں ۔ کچھ وقت گزرا کہ منشا قاضی صاحب نے چائے اور بسکٹ کا اہتمام کیا اور اس لمحے جب میں منشا قاضی صاحب سے انکل کہہ کر مخاطب ہونے لگا تو میرے والد نے مجھے ٹوک کر کہا کہ بیٹا جیسے میں تمہارا والد ہوں ویسے ہی یہ تمہارے والد ہیں۔ منشا قاضی صاحب کی شفقت ، اخلاق ، محبت نے یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی میرے والد کے جگہ پر ہیں ۔ ایسی شخصیات آج کے دور میں بہت کم ہیں جو احساس






