#کالم

توبہ۔۔۔۔۔رحمت کادروازہ

gwerl 34

سفینہ سلیم

انسان ایسامسافر ہےجو وقت کے ریگستان میں ننگے پاؤں چل رہا ہوتا ہے۔ کبھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اسے سکون بخشتے ہیں تو کبھی تپتے ہوئے لمحے اس کے قدم جلانے لگتے ہیں۔ اس کے کاندھے پر اعمال کا بوجھ ہے اور دل میں ایک سوال ہمہ وقت دستک دیتا ہے کیا میں اپنی منزل کی طرف جا رہا ہوں یا گمراہی کے صحرا میں بھٹک رہا ہوں؟ اسی راہ میں کہیں کہیں رب کی رحمت کا گلستان بھی ملتا ہے جو انسان کی تھکن کو دور کرتا ہے اور اسے نئی زندگی دیتا ہے اور اس گلستان کا نام توبہ ہے

توبہ ایک ایسی پکار ہے جو روح سے لبوں تک آتی ہے اور عرش تک پہنچتی ہے۔ یہ ندامت کے آنسو ہیں جو گناہوں کی گرد کو دھو دیتے ہیں اور یہ دل کی وہ دستک ہے جو اللہ کے در پر جا کر رُکتی ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ در ہر کسی کے لیے نہیں کھلتا یہ صرف ان کے لیے ہے جو دل کی سچائی سے دستک دیتے ہیں جن کی آواز میں عاجزی ہو اور جن کے اندر ہدایت کی پیاس ہو۔

توبہ کسی رسمی کاغذی درخواست کا نام نہیں نہ ہی یہ ایک وقتی لفظی اظہار ہے۔ یہ ایک روحانی انقلاب ہے ایک اندرونی بیداری ایک جھنجھوڑ دینے والا لمحہ جب انسان اپنی خطاؤں کے بوجھ تلے دب کر رب کی طرف لپکتا ہے۔ لیکن یہ کیفیت ہر دل میں پیدا نہیں ہوتی خاص طور پر ان دلوں میں نہیں جو تکبر اور سرکشی کی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں۔

ایک بیج جب زمین میں بویا جاتا ہے تو وہ اندھیرے میں ہوتا ہے مگر جیسے ہی اسے روشنی کی طلب ہوتی ہے وہ زمین کو چیرتا ہے، بڑھتا ہے، اور ایک دن تناور درخت بن جاتا ہے۔ ایسے ہی انسان جب گناہوں کے اندھیرے میں ہوتا ہے اور سچے دل سے روشنی یعنی ہدایت چاہتا ہے تو وہ بھی اپنے نفس کی زمین کو چیر کر نکلتا ہے اور یہی سچی توبہ کی علامت ہے۔

لیکن اگر وہ بیج خود ہی زمین میں دفن ہونے پر خوش ہو روشنی سے انکار کر دے اور سرکشی کے ساتھ مٹی کے اندر گل سڑ جائےتو پھر نہ وہ درخت بنتا ہے، نہ پھل دیتا ہے بلکہ فنا ہو جاتا ہے۔ یہی حال اس انسان کا ہے جو رب کے انعام کو ٹھکرا کر غرور کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور پھر بھی خود کو ہدایت کا حقدار سمجھتا ہے۔

توبہ دراصل رحمت کا دروازہ ہے مگر یہ دروازہ صرف ان کے لیے کھلتا ہے جو سچائی کے ساتھ اس پر دستک دیتے ہیں۔ جو نافرمانی میں ڈوب کر بھی فخر کرتا ہے جو گناہ کو معمول اور توبہ کو مذاق سمجھتا ہے وہ اس دروازے کی چوکھٹ تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔

توبہ ایک ایسا روحانی عمل ہے جو انسان کو گناہوں کے اندھیرے سے نکال کر نورِ ہدایت میں لا کھڑا کرتا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہمیں سمجھنی چاہیے کہ توبہ ان لوگوں کے لیے ہے جو گناہ کر کے نادم ہوتے ہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں جن کے دل میں خوف بھی ہے اور امید بھی۔ یہ توبہ ان کے لیے نہیں جو جان بوجھ کر نافرمانی کی راہ پر چلتے ہیں سرکشی کرتے ہیں اور پھر سچائی کے دروازے پر آ کر بھی غرور کی دیوار سے ٹکرا جاتے ہیں۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتاہے
⁠”بے شک توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو جہالت سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر جلد ہی توبہ کر لیں، ایسے ہی لوگ ہیں جن کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔”
(سورۃ النساء: 17)
جو جہالت سے یعنی لاعلمی یا وقتی خواہش کے سبب گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں مگر دل سے پچھتاتے ہیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ وہ رب جو دلوں کے حال جانتا ہے وہ جانتا ہے کہ کون اس کی طرف صدقِ دل سے پلٹ رہا ہے اور کون توبہ کا لفظ محض زبان سے ادا کر رہا ہے۔

لیکن قرآن ایسے لوگوں کے بارے میں بھی خبردار کرتا ہے جو توبہ کے دروازے کو مذاق بنا لیتے ہیں
⁠”اور وہ لوگ جن کے برے عمل ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے اور انہوں نے کہا: اللہ کو معلوم ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ (حالانکہ وہ) انہیں ضرور عذاب دے گا اور وہ سخت سرکش ہیں۔”
(سورۃ الجاثیہ: 8)
جو نافرمانی کو معمول بنا لیتے ہیں اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ حق کے سامنے جھکنے کی بجائے الٹا تکبر کرتے ہیں کہتے ہیں اللہ جانتا ہے ہم کیا کر رہے ہیں جیسے وہ اپنے گناہ کو بھی دین کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

توبہ کا اصل مقصد دل کی تبدیلی، نیت کی پاکیزگی، اور عملی اصلاح ہے۔ صرف الفاظ میں استغفراللہ کہنا کافی نہیں جب تک انسان اپنے عمل میں سچائی اور رجوع کی علامت نہ دکھائے۔ اللہ تعالیٰ نے بارہا قرآن میں فرمایا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

⁠"بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور پاک صاف رہتے ہیں۔"

(سورۃ البقرہ: 222)

اس محبتِ الٰہی کا حقدار وہی ہے جو گناہ پر شرمندہ ہو اور آئندہ اس سے بچنے کا مصمم ارادہ کرے۔ لیکن جو سرکشی پر قائم رہتے ہیں ان کے لیے توبہ کا دروازہ اسی وقت بند ہو جاتا ہے جب ندامت مر جاتی ہے۔

معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ توبہ کو تاخیر کا شکار بنا دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ ابھی بہت وقت ہےیا پہلے دنیا کے کام نمٹا لیں پھر دیکھیں گے۔ لیکن موت کب آ جائے کوئی نہیں جانتا۔

⁠"اور جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے۔ تاکہ میں نیک اعمال کر سکوں جنہیں میں پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ ہرگز نہیں، یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اور ان کے پیچھے برزخ ہے قیامت کے 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے