پیکر انسانیت عبدالستار ایدھی
شکیل گوندل
آج جس نابغہ ء روزگار اور انسان دوست شخصیت پر لکھنا چاہ رھا ھوں وہ ھیں جناب عبدا لستار ایدھی صاحب مرحوم و مغفور ۔آپ کراچی کی وہ قابلِ فخر اور بین الاقوامی شخصیت تھے جنکی انسان دوستی اور ھمدردی کے تمام دنیا میں چرچے تھے۔اور تو اور اسرائیل جسکی اسلام دشمنی بالخصوص پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ پوری دنیا اس بات سے آگاہ ھے کہ وہ نہ صرف خود پاکستان کا دشمن ھے اسکے ساتھ وہ تمام پاکستان کے دشمنوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتا ھے بلکہ امداد بھی دیتا ھے اس نے اپنی اسی دشمنی کی بنا پر اپنے ملک میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کا داخلہ بند کیا ھوا ھے۔ان تمام نفرت انگیز مخاصمتوں کے باوجود اسرائیل نے مرحوم ایدھی صاحب کو نہ صرف اسرائیل کے دورہ کی دعوت دی بلکہ انہیں کافی ایمبولینسیں بھی عطیہ کیں تھیں۔
عبدا لستار ایدھی صاحب مرحوم 28 فروری 1928 کو بھارت کے شہر گجرات میں پیدا ھوئے۔قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی میں سکونت پزیر ھو گیا۔
1951 میں انھوں نے اپنی جمع پونجی سے ایک دکان خریدی اور اس میں ڈاکٹری کا سامان رکھ لیا۔جبکہ ایک ڈاکٹر سے تربیت بھی لینے لگے۔1957 میں جب کراچی میں وبا پھیلی تو انھوں نے جگہ جگہ مفت ادویات فراہم کیں۔اس کام میں لوگوں نے ان کی دل کھول کر امداد کی۔اس کے بعد تو گویا انہوں نے انسانیت کی ھر ممکنہ مدد کو زندگی کا اولین مقصد بنا لیا یہاں تک کہ تادمِ حیات وہ اپنے اس مقدس اور قابل رشک مقصد پر کامیابی سے کار بند رھے۔
1986-87 میں راقم کراچی میں بی ایڈ کر رھا تھا۔میرے ایک بہت ھی پیارے دوست ممتاز علی قریشی کی لی مارکیٹ میں رھائش تھی۔انھوں نے اپنی روائتی مہمان نوازی کے بعد کہا کہ گھومنے نہ چلیں؟ میں نے کہا جی ضرور۔خیر ھم جب گھر سے باھر آئے انھوں نے پہلے تو پان کھلایا پھر پوچھا کہ کیا آپ عبدا لستار ایدھی سے ملو گے؟ اس وقت تک ایدھی صاحب کی شہرت صرف کراچی تک ہی محدود تھی۔میں نے بھی یہ نام پہلی دفعہ سنا تھا۔جبھی بہت عجیب سا لگا۔میں نے پوچھا کہ بھئی یہ کون ھے؟ تو دوست نے کہا یہ بندہ بہت ھی سادہ مزاج اور عاجزی پسند مگر بے حد انسان دوست ھے۔میں نے تجسس سے کہا کہ یار پھر تو ضرور ملواوْ اور پھر گلیوں میں سے ھی چلتے ایک دفتر نماجگہ پر پہنچے۔دروازے کے ساتھ ھی مستقبل کی بین ا لاقوامی شخصیت ملیشیا کی قمیض اور پاجامہ پہنے بیٹھی تھی۔انکے سامنے ایک اور آدمی بیٹھا تھا۔میرے دوست کو گجراتی اور میمنی زبانیں بولنی آتی تھیں۔اس نے بتایا کہ یہ میرا دوست پنجاب سے ھے آب سے ملنے آیا ھے۔اس وقت ایدھی صاحب اردو بھی اٹک اٹک کر اور گجراتی زبان کی آمیزش کے ساتھ بولتے تھے میری باتوں کو میرا دوست یا انکا معاون زیادہ تر گجراتی میں بولتے تو تب وہ جواب دیا کرتے تھے۔میں نے ان کی اجازت سے پوچھا کہ جب اپ لاوارث لاش اٹھاتے ھیں تو کیا وہ تعفن شدہ نہیں ھوتیں؟ انھوں نے مسکرا کر بتایا کہ صرف تعفن زدہ نہیں بلکہ کئی لاشوں میں تو کیڑے بھی پڑے ھوتے ھیں مگر میں بغیر کراھت کے ھاتھوں سے میت اٹھا لیتا ھوں اس وقت میرے اندر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کا جذبہ ھی ھوتا ھے اور میں کر گزرتا ھوں۔میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے حج کیا ھے؟ کہنے لگے نہیں کیونکہ میں چاھتا ھوں انسانیت کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاروں۔بعد میں اللہ تعالی نے انھیں یہ سعادت بھی عطا فرما دی تھی۔
بہر حال جاتے ھوئے تو نہیں مگر آتے ھوئے میں ان سے بے حد متاثر تھا میں نے ان سے آٹو گراف بھی لئیے تھے۔انھوں نے اپنے معاون سے کہا کہ لکھ دو” دنیا میں انسانیت سے بڑا کوئی کام نہیں ھے” اور نیچے گجراتی زبان میں اپنا نام لکھ کر دستخط کر دئیے۔جو کہ میرے لیئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ مگر افسوس کہ وہ ڈائری مجھ سے ضائع ھو گئے ۔
ایدھی صاحب مرحوم کو زندگی میں بے شمار ایوارڈ ملے۔عالمی سطح پر انکی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انکا نام ورلڈ گینیز ریکارڈ بک میں شامل کیا گیا۔روس نے انھیں لینن امن ایوارڈ سے نوازا۔خود اپنے ملک نے انہیں کئی صدارتی ایوارڈز پیش کیئے۔آج ایدھی فاؤنڈیشن ایک بہت بڑی ملکی سطح پر فعال تنظیم ھے جس کے پاس پوری دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بشمول ھیلی کاپٹر ایمبولینس ھے۔ جسکی پورے ملک میں بے شمار شاخیں دن رات سرگرم عمل رھتی ھیں ۔یہ بھی ایدھی صاحب کی نیک نیتی اور خلوص کا مظہر ھے کہ انکی 65 سالہ خدمت خلق سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد بھی ایدھی فاونڈیشن اسی طرح فعال ھے جیسے ان کی زندگی میں تھی۔اب ان کی اھلیہ اور اولاد انکے اس مشن کو اسی طرح رواں دواں رکھنے میں کوشاں ھیں۔ آج میرے کالم کے عنوان کے حوالے سے میرے دل کی صدا ھے کہ اللہ کریم پاکستان کے ھر فرد کو یہی جذبہ عطا فرمائیں۔آمین۔ ایدھی صاحب آج بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے ۔ بقول محسن نقوی
عمر اتنی تو عطا ہو میرے فن کو خالق
میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے






