براے اشاعت برسی 4 جنوریرئیس الاحرار مولانا محمد علی جوھر
از حکیم راحت نسیم سوھدروی hknasem@gmail.com
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو تا ابد یہ امتیازی خصوصیت حاصل رہے گی کہ اس کے فیضان سے ایسے ایسے گوہرنامدار منظر عام پر اے جہنوں نے خوابیدہ ملت کو بیدار کرنے اور پھرتحریک پاکستان کے لئے بے لوث کام کرکے میدان عمل بنایا اور اور اسے کامیاب کرکے دنیا کے نقشہ پر اس وقت کی سب سے بڑی مملکت اسلامی قائم کرکے دنیا کا جغرافیہ ہی نہیں بدلا بلکہ عظیم مملکت اسلامی کو وجود بخشا- علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےان عظیم المرتبت فرزندوں میں جن کی زندگی کے شب وروز ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کی بحالی اور فرنگی حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد میں گزرے ،فرنگی قہرمانیت جن کے پائے استقلال میں لغرش پیدا نہ کر سکی ان میں رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوھر کا نام بہت نمایاں ہے
ملت اسلامیہ کا یہ عظیم فرزند بلند پایہ شاعر، شعلہ نوا مقرر،انگریزی اور اردو کا مایہ نازانشاپرداز،صحافی، ادیب،اور نڈر عوامی راہنما 1878 میں رام پور کے ایک قبیلہ کاکازئ کے دینی گھرانے میں پیداھوے- دو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور یوں والدہ اور بڑے بھائ مولانا شوکت علی نے پرورش کی ان کی والدہ جو تحریک خلافت میں بی اماں کے نام سے معروف ہو ئیں اور دوران تحریک یہ شعر زبان زدو خاص و عام ہوا
بولی اماں محمد علی کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
تحریک خلافت کی ہی بدولت ھمارے ہاں فرنگی حکمرانوں کے خلاف جذبہ جہاد پیدا ہوا سیاسی بیداری کی لہر اٹھی اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد میسر ائ مولانا محمد علی جوہر اور ان کے برادر مولانا شوکت علی اس تحریک کے سر خیل تھے اور دونوں بھائی علی برادران کے نام سے معروف عالم ہوے اور اج تک اسی نام سے یاد کئے جاتے ہیں یہی وہ تحریک ہے جس نے تحریک پاکستان کے لئے ابتدائ سیاسی کارکن فراہم کئے
مولانا محمد علی جوہر اسلام سے والہانہ محبت رکھتے تھے اور جذبہ ازادی سے سرشار تھے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے دوران تعلیم ہی ان کی انگریز دشمنی سامنے اگئ تھی علی گڑھ سے تعلیم کے بعد اکسفورڈ گئے اور ماڈرن تاریخ کی ڈگری لے کر آئے ان کے باغیانہ مزاج کے پیش نظر انہیں علی گڑھ میں ملازمت نہ دی گئ انھوں نے مسلمانوں کی جداگانہ حثیت کا علم بلند کیا وہ پان اسلام ازم کے علمبردار تھے اور عالم اسلام کے مسلمانوں کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتے تھے مسلمانوں پر کہیں کوئ مصیبت اتی تو مولانا کا قلم اور زبان طاغوتی طاقتوں کے خلاف آگ برساتا- جب سامراج نے مسلمانوں کی مرکزیت خلافت ختم کرنے کے لئے ریشیہ دوانیاں شروع کیں تو مولانا نے پورے برصغیر میں تحریک چلا کر خواب ئیدہ ملت کو بیدار کردیا یہ تحریک خلافت کے نام سے ہماری ملی تاریخ کا عنوان جلی ہے انہی ایام میں مولانا نے اپنے اخبار کامریڈ میں ترکی کے موقف کی حمایت میں ایک مقالہ چوائس اف ترکیہ لکھا جس کی روداد خود ان کی زبانی سنیئے
” میں نے یہ مضمون چالیس گھنٹہ کی محنت شاقہ کے بعد لکھا ھے اور اس تمام عرصہ میں ایک منٹ بھی نہ سویا اور جب لکھتے لکھتے تھک جاتا تو اپنے اسسٹنٹ ایڈیٹر کو خود بولتا اور ان سے لکھواتا جاتا اس طرح چالیس گھنٹے نہ صرف سونے محروم رہا بلکہ خوراک بھی چائے کی چند پیالیوں سے مشکل ھی اگے بڑھی:
یہ اپ کی اسلام سے والہانہ محبت اور خلوص نیت کا ثبوت ہے- مولانا نے ھمدرد اور کامریڈ کے نام سے اردو اور انگریزی اخبار جاری کئے یہ اس قدر اعلی درجہ کے تھے کہ جب کوئ انگریز واپس برطانیہ جاتا تو کامریڈ کے شمارے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئےتحفہ کے طور لے کر جاتے- برصغیر کی صحافت میں مسلمانوں کی بیداری کے لئے الہلال، زمیندار اور کامریڈ اور ہمدرد کا کردار کبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا برصغیر کی مسلم صحافت کا یہ عنوان جلی کی حثیت رکھتے ہیں- مولانا محمد علی جوہر تمام عمر فرنگی حکمرانوں کو للکارنے اور ہندوں کی اسلام دشمنی کو بھی بے نقاب کرتے رہے نامور انگریز مصنف جی ایچ ویلز نے کہا تھا کہ
محمد علی میں نپیولین کا دل اور میکالے کا قلم تھا :
یہ درست ھے کہ ان کی زندگی میں وطن ازاد نہ ہو سکا مگر ان کی جدوجہد ہماری آزادی کی تحریک کا روشن باب ہے اور ان کے ذکر کے بغیر ہماری ملی تاریخ کا باب ازادی مکمل نہیں ہوسکتا-
1935 میں جب لندن میں ہندوستان کے سیاسی مسائل کے حل لئے گول میز کانفرنس ہوئ تو باوجود بیماری کے اور نہ چل سکنے کے باوجود ویل چیئر پر گئے اور تاریخی خطاب فرما یا
جس سے ان کے حریت پرور جذبات کا اور تصورات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے فرماتے ہیں
: میں درجہ نوآبادیات کا قائل نہیں ہوں میں تو ازادی کامل کو اپنا مسلک قرار دے چکا ہوں -برطانیہ کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس نے ہندوستان کو نا مرد اور بزدل بنادیا ہے لیکن اب 22 کروڑ انسانوں نے مر جانے کی ہمت پیدا کرلی ہے انہیں مار ڈالنا اسان نہیں ہے میں مریض ہوں اور بستر مرگ سے آیا ہوں اب میں اس وقت تک اپنے غلام ملک واپس نہ جاوں گا جب تک اپنے ہمراہ پروانہ روح ازادی لے کر نہ جاوں اگر تم نے ہندوستان کو آزادی نہ دی توپھر مجھے قبر کےلئے دو گز جگہ دینا ھو گی:
عزم کے پکے اور قول کے سچے انسان نے کچھ روز بعد اس غلام ملک سے دور ازاد فضاؤں میں ہزاروں میل دور اپنی جان دےدی جس پر کسی نے خوب کہا
مارا دیار غیر میں مجھ کو وطن سے دور
رکھ لی میرے خدا نے میری بے بسی کی لاج
مولانا جوہرکے بھائ مولانا شوکت علی نے کہا
: اب میں اکیلا رہ گیا ہوں مگر خدا پر بھروسہ ہے کہ وہ دین مقدس کی حفاظت کے لئے ہزاروں محمد علی پیدا کرے گا:
دل سے اٹھی ہوئ اواز بارگاہ الہی میں مقبول ہوئ اور محمد علی جوہر کی جگہ محمد علی جناح نے لے لی






