تخت، تختہ اور تقدیر کی لکیریں
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
تاریخ کے جھروکوں سے جب بھی انصاف اور سیاست کی کہانیاں رقم کی جائیں گی عمران خان اور بشریٰ بی بی کا ذکر ایک ایسے باب کے طور پر ابھرے گا جہاں قانون کی زبان اور سیاست کے لہجے دست و گریباں نظر آتے ہیں ان دونوں کو جن مقدمات میں سزاؤں کی بازگشت سنائی دی ان میں ‘توشہ خانہ’ کی وہ گھڑیاں بھی تھیں جن کا وقت شاید سیاست کے ایوانوں میں تھم سا گیا اور نو مئی کے وہ واقعات جس نے ریاست کو ہلا کر رکھ دیا جس میں نوجوانوں کو اشتعا ل دلا کر ریاستی اداروں پر مکمل پلاننگ کے ساتھ حملہ کروایا گیا جس سے ملکی وقار تقدس اور قانون کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچی جس پر بحث برسوں جاری رہے گی اس کے علاوہ ‘سائفر’ کا وہ پراسرار معاملہ بھی سزاؤں کا سبب بنا جس میں ملکی رازوں کی حفاظت اور سیاسی بیانیے کی تپش آمنے سامنے تھیں
مگر سوال یہ نہیں کہ سزائیں کن دفعات کے تحت ہوئیں سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ سزائیں واقعی کسی جرم کی پاداش تھیں یا یہ وقت کی بے رحم موجوں کا وہ تلاطم تھا جو ہمیشہ اقتدار کے مخالف کناروں سے ٹکراتا ہے؟ تحریکِ انصاف کے حامی اسے ایک "سیاسی انتقام” کی داستان قرار دیتے ہیں جہاں لفظوں کی حرمت اور اصولوں کی پاسداری کو قفسِ زنداں میں بدل دیا گیا لیکن حقیقت پسند طبقہ اسے قانون کی بالادستی کا نام دیتے ہیں مگر بصیرت رکھنے والی آنکھ دیکھتی ہے کہ جب سیاست کے میدان میں وفاداریوں اور دشمنیوں کے فیصلے عدالت کی میزان پر ہونے لگیں تو انصاف کی ردا اکثر جذبوں کی دھوپ میں جھلس جاتی ہے یہ سزائیں محض کسی گروہ کے جرائم کا بوجھ نہیں بلکہ اس کشمکش کا اظہار ہیں جو ہمیشہ تخت اور تختہ کے درمیان جاری رہتی ہے جہاں کبھی تقدیر مسکراتی ہے تو کبھی زنجیریں مقدر بن جاتی ہیں
یہ سزائیں محض قانونی فیصلوں کی دستاویز نہیں بلکہ اس ‘خاموش جنگ’ کا ایک دہکتا ہوا اشتہار ہیں جو اقتدار کے ایوانوں اور مقتدر حلقوں کے درمیان ایک عرصے سے برپا ہے ان فیصلوں کی تپش صاف بتا رہی ہے کہ تحریکِ انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان برف پگھلنے کی بجائے یادوں اور تلخیوں کے کوہِ گراں میں بدل چکی ہے جہاں سمجھوتے کی ہر کھڑکی پر اناؤں کے پہرے بٹھا دیے گئے ہیں یہ ڈیڈ لاک اس الجھی ہوئی ڈور کی مانند ہے جس کا سرا اب کسی کے ہاتھ نہیں آ رہا ایک طرف خود ساختہ عوامی مقبولیت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے تو دوسری طرف نظم و ضبط اور مصلحتوں کی وہ آہنی دیواریں جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں
یہ صورتحال اس المیے کی عکاس ہے جہاں مکالمے کی زبان گنگ ہو چکی ہے اور صرف سزاؤں کی بازگشت سنائی دیتی ہے جب سیاست کے ضابطے زندانوں کی سلاخوں سے لکھے جانے لگیں اور جب اعتماد کا رشتہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جائے تو مٹی کی سوندھی خوشبو پر بارود اور انتقام کے بادل چھانے لگتے ہیں یہ سزائیں گواہ ہیں کہ فی الوقت مفاہمت کی کوئی شمع روشن نہیں ہو رہی بلکہ دونوں جانب سے انا کی اس شطرنج پر آخری چال چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں بازی جیتنا مقصود نہیں رہا بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی شاید واحد مقصد بن گیا ہے یہ ڈیڈ لاک دراصل اس اذیت ناک انتظار کا نام ہے جو کسی بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی ہوتی ہے
تحریکِ انصاف کا مستقبل آج ایک ایسی دھندلی شاہراہ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ایک خود پسند انا پرست شخصیت کی میں نہ مانوں
کی شرط ہے
اور دوسری طرف کڑی آزمائشوں پابندیوں اور قانونی حصار کی سنگلاخ وادیاں ہیں اس جماعت کا مقدر اب محض اقتدار کی ہوس یا سیاسی مصلحتوں میں نہیں بلکہ اس ‘مزاحمتی بیانیے’ میں چھپا ہے جو سلاخوں کے پیچھے سے جنم لے رہا ہے سیاسی پنڈتوں کی نظر میں پی ٹی آئی اب ایک جماعت سے بڑھ کر ایک ‘عمرانی فتنہ ‘ بن چکی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی سیاسی فکر ذاتی انا اور جذبات میں پیوست ہو جائے تو اسے مٹانا لازم ہو جاتا ہے تاہم مستقبل کی یہ تصویر اس بات پر منحصر ہے کہ کیا یہ گروہ اپنے داخلی انتشار پر قابو پا کر کسی پائیدار مفاہمت کا راستہ نکال پاتا ہے یا پھر انا کی یہ جنگ سیاسی بساط کو ہی لپیٹ دے گی
آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا یہ تحریک راکھ سے دوبارہ ابھرنے والے پودے کی مانند ثابت ہوگی یا پھر وقت کی بے رحم موجیں اسے یادوں کے قبرستان میں دھکیل دیں گی موجودہ گھمبیر حالات میں پی ٹی آئی کا مستقبل کسی معجزے کسی امپائر کے اشارے اور سیاسی بصیرت کے سنگم
پر کھڑا ہے اگر قیادت نے جذبات کی تپش کو تدبر کی ٹھنڈک سے نہ بدلا تو شاید یہ سفر طویل قید اور سیاسی تنہائی کی نذر ہو جائے لیکن اگر خود پسندی کا یہ جادو برقرار رہا تو قید و بند کی یہ صعوبتیں مقدر بن جائیں گی یہ ایک ایسا کھیل ہے جہاں ہر نئی سزا ایک نیا امتحان ہے اور ہر خاموشی ایک نئے طوفان کا پتہ دے رہی ہے
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں وفاداریوں کے رخ موسموں کی طرح بدلتے رہے ہیں اور تحریکِ انصاف کے امیدواروں کا دوسری شاخوں پر بسیرا تلاش کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوگی ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پوری کی پوری تحریک انصاف کا وجود اسی طرح کے فصلی بٹیروں سے مل کر بنا تھا جو کسی دوسری سیاسی جماعت میں انتہائی کرپٹ بددیانت چور لٹیرے قبضہ مافیا اور ملک دشمن تھے پھر انہیں عرق گلاب سے غسل دے کر پاک کیا گیا اور تحریک انصاف میں شمولیت کروا دی گئی ہمارے ہاں سیاست کے شجر پر لگے ‘الیکٹیبلز’ کے ثمر اکثر اسی جانب جھک جاتے ہیں جہاں اقتدار کی ہواؤں کا رخ ہوتا ہے ماضی میں بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح ‘مسلم لیگ’ کے بطن سے نئی






