آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےقائد اعظم،خاتم ناممکنات
( شاہد بخاری)
انبالہ مسلم لیگ کے صدر سید محمد حنیف علیگ ایڈووکیٹ بتلا تے تھے کہ پٹنہ کے اجلاس میں ایک سمجھدار اور دور اندیش مسلم لیگی کارکن فیروز الدین احمد نے”قائد اعظم زندہ باد” کا پہلا نعرہ لگایا اور ان کے اوصاف عالیہ کی مناسبت سے یہ لقب محمد علی جناح کے نام کے ساتھ مستقبل طور پر وابستہ رھا۔بالفاظ دیگر جب علامہ اقبال اس دار فانی سے کوچ کر رھے تھے تب بر صغیر کے افق اسلامی پر”قائد اعظم” کے جلال و جمال کا لقب ثبت ھو چکا تھا۔
سرکاری طور پر قائد اعظم محمد علی جنا ح کا یوم پیدائش 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔1896ءمیں لنکنز ان لندن سے آپ نے بار ایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی اور بمبئی ھائی کورٹ میں بطور ایڈوکیٹ ایڈمٹ ہو گئے۔
1913 میں جب مسجد کانپور کے واقعے کی صحیح صورتحال کی وضاحت کی خاطر سید وزیر حسن اور مولانا محمد علی جوہر لندن پہنچے تو انہوں نے محمد علی جناح کو مسلم لیگ کی رکنیت قبول کرنے کی پیش کش کی جو آپ نے قبول کر لی اور بڑی سرگرمی کے ساتھ اپنا سیاسی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ۔مشہور ہندوستانی رہنما گوکھلے نے ایک بار اس امر کا اظہار کیا تھا کہ جناح صاحب ہندو مسلم اتحاد کے پیام بر ہیں۔
1918ءمیں بلبل ہند سروجنی نائیڈو نے ایمبیسڈر آف یونٹی( پیامبر اتحاد) کے تعارف میں لکھا ہے کہ محمد علی جناح میں غیرمعمولی قوت عمل اور تحمل و برداشت ھے ۔۔۔۔۔
سینٹرل لیجسلیٹو اسمبلی کا رکن منتخب ھونے کے بعد آپ نے مسلم لیگ کی کارکردگی اور حیثیت کو زیادہ موثر اور وقیع بنانے کے لیے بھی کئی اقدام کیے ۔پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد سے،آپ سب بخوبی آگاہ ہیں۔ بحیثیت سربراہ مملکت آپ کی زندگی کے کچھ واقعات نذر قارئین ہیں، جن سے ہمارے حکمران بہت کچھ سیکھ کر پاکستان کو فلا حی مملکت بنا سکتے ہیں۔
کلیم نشتر لکھتے ہیں کہ زندگی کے آخری مراحل میں قائد اعظم کو یہ تجویز پیش کی گئی کہ زیارت سے انہیں ملیر کراچی میں منتقل کر دیا جائے، ان کے قیام کے لیے نواب بہاولپور کی کوٹھی حاصل کر لی گئی ھے تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زمانے میں جب کوئی وکیل ھائی کورٹ کا جج مقرر ہوتا تھا تو وہ کلب و دیگر محفلوں میں جانا از خود بند کر دیتا تھا بلکہ بعض تو مقامی اخبارات کے مطالعہ سے بھی گریز کرتا تھا کہ کہیں ان سے اسکی جانب داری میں خلل نہ پڑے ۔چناں چہ میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت میں میرا نواب صاحب سے کچھ کہنا یا ان کے پیلس میں رہنا، کچھ مناسب نہیں ۔
بستر علالت پر قائد اعظم نے اپنی دیکھ بھال پر مامور نرس جس کا تبادلہ سبی کر دیا گیا تھا، سے پوچھا کیا وہ اپنی ملازمت سے مطمئن ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ کوئیٹہ جانا چاہتی ہے لیکن محکمے کے افسر میری مجبوری کا خیال نہیں رکھ رہے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے تم سے ہمدردی ہے لیکن گورنر جنرل ہونے کے باوجود میں تمہارے محکمے کے افسران کو حکم دے کر ان کے کام میں دخل اندازی نہیں کر سکتا ۔
15 اگست 1947 جمعۃ الوداع کو صبح ساڑھے نو بجے آپ نے پاکستان کے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ بعد ازاں آپ نے قوم کے نام پیغام میں فرما یا کہ پاکستان کے باشندوں پر زبردست ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آپ دنیا کو یہ ثابت کر کے دکھلائیں کہ کس طرح ایک مسلمان قوم جس میں مختلف قومیتیں شامل ہیں، آپس میں مل جل کر صلح و آشتی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اور ذات پات کا امتیاز کیے بغیر اپنے تمام شہریوں کی یکساں فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے ۔ہم کسی کے لیے بھی جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔
قیام پاکستان کے پہلے دن مرکزی حکومت کے دفاتر میں مختلف کیبنوں میں کفایت شعاری سے کام کا آغاز کیا گیا۔جسے کرسی نہ مل سکی، اس نے کھڑے ہو کر یا فرش پر بیٹھ کر کام کیا۔ دفتری اوقات کا تو کوئی سوال ھی نہیں تھا۔ صبح سے شام تک جسے جو کام ملا وہ اس نے مکمل کیا جس کام کی ضرورت در پیش ہوئی ایک جذبہ شوق کے عالم میں سر انجام پاتا رھا ۔اس وقت کی یہ بے سر و سامانی اور بے مقتدرت انتظامیہ کے نزدیک ڈیوٹی قومی فرض کی تکمیل تھی
مہاجرین کی تباہ حالی اور کشت و خون دیکھ کر،قائد اعظم آبدیدہ ہو گئے۔ آپ نے فر ما یا،ھنستے بستے،بے قصور لوگوں کے اس منظم قتل عام کے سامنے، ان خون خواروں کے ظلم و ستم اور وحشیانہ مظالم بھی بے حقیقت ہو کر رہ جاتے ہیں، جن کی درندگی تاریخ میں ضرب المثل ہے۔ آپ بہترین صلاحیتوں کے مالک ہیں آپ نہ صرف ان مظلوموں کی دل جوئی کریں بلکہ پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا بھی عہد کریں ۔میرے تمام تر احساسات اور ہمدردیاں ان بہادر اور جفا کش لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا ہے اور انہی کے دم قدم سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔
11 دسمبر 1947 کو اعلیٰ افسران کے اجلاس میں قائد اعظم نے افسروں کو بدلتے ہوئے حالات میں اپنے فرائض لگن دیانتداری خلوص و محبت سے ادا کرنے کی تاکید کرتے ہوئے انہیں افسران کے بجائے پبلک سرونٹ قرار دیا۔
17 اپریل 1948 کو گورنمنٹ ہاؤس پشاور میں سرحدی قبائل کے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے بانئ پاکستان نے فرمایا، ہم مسلمان ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر چلتے ہیں۔ اسلامی اخوت کا تقاضہ ہے کہ حقوق، عزت اور مرتبے میں سب برابر ہیں۔ ہم سب اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہم سب کو مل کر ایک ہی قوم رہنا چاہئے ۔اگر متحد نہیں رہیں گے تو کمزور اور خوار ہوں گے”۔
18 اپریل 1948 ایڈورڈ کالج پشاور کی خصوصی تقریب میں آپ نے فرمایا اب کالجوں کا مقصد یہ ھو نا چاہیے کہ وہ زراعت، انجینئرنگ اور ڈاکٹری وغیرہ کے ماہرین






